سوناکشی سنہا نے بالی ووڈ میں خود کو کام نہ ملنے کی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار شتروگھن سنہا کی بیٹی اور اداکارہ سوناکشی سنہا نے فلم انڈسٹری میں خود کو کام نہ ملنے کی وجہ پر بات کرتے ہوئے حیرت انگیز انکشاف کیے ہیں۔
اداکارہ نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں وزن بڑھنے کی وجہ سے ہونے والی تنقید اور اس کے نتیجے میں کردار سے محرومی کا واقعہ شیئر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان کے جسمانی وزن پر کیے گئے تبصروں نے انہیں شدید متاثر کیا۔
سوناکشی سنہا نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز ہی دبنگ اداکاری اور خوبصورتی سے کیا تھا۔ لیکن انہیں بھی جسمانی خدوخال اور وزن کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ انٹرویو میں سوناکشی نے اپنے کیریئر کے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا جب انہیں صرف وزن کی وجہ سے مرکزی کردار نہیں دیا گیا۔
سوناکشی نے بتایا، ’’مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں واقعی ٹوٹ گئی تھی۔ میں روتے ہوئے گھر واپس آئی کیونکہ مجھے صرف اس لیے مرکزی کردار نہیں دیا گیا کہ میرا وزن زیادہ تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ وہ خود سے سوال کرنے لگیں کہ ’’خدا نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ مجھے ایسا کیوں بنایا؟‘‘
سوناکشی نے بتایا کہ اس وقت وہ اپنی ماسی کے پاس گئیں اور ان کی گود میں لپٹ کر رونے لگیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں جی بھر کر روئی، اور پھر اگلے دن دل ہلکا ہونے کے بعد سب کچھ ٹھیک لگنے لگا۔‘‘
سوناکشی نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے اس تجربے سے بہت کچھ سیکھا اور اب وہ اپنی خود اعتمادی کو کسی بھی تنقید سے بالاتر سمجھتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’آج میں اپنے آپ پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ میں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ لوگوں کی رائے آپ کی قدر نہیں کرتی، بلکہ آپ کی خود اعتمادی ہی آپ کو آگے بڑھاتی ہے۔‘‘
سوناکشی سنہا کی یہ کہانی نہ صرف ان کے مداحوں کے لیے متاثر کن ہے بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو اپنے جسمانی خدوخال یا وزن کی وجہ سے تنقید کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود اعتمادی اور مثبت سوچ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوناکشی سنہا سوناکشی نے انہوں نے کی وجہ
پڑھیں:
بالی وڈ اداکارہ پریتی زنٹا کے قرض معافی تنازع میں نیا موڑ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 فروری 2025ء) کانگریس پارٹی کی کیرالا یونٹ نے الزام لگایا تھا کہ بالی وڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے کروڑوں روپے کا قرض معاف کرانے کے لیے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بی جے پی کے حوالے کر دیا تھا، جس کے بعد اس معاملے نے بھارت میں سیاسی رنگ اختیار کر لیا۔
کانگریس نے ایک ٹویٹ کرکے الزام لگایا، "پریتی زنٹا نے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بی جے پی کے حوالے کر دیا تھا، جس کے بعد بینک کو واجب الادا ان کا 18 کروڑ روپے کا قرض معاف کر دیا گیا۔
"قرض نا دہندگی پر بالی وڈ اداکار سنی دیول کے بنگلے کی نیلامی؟
کانگریس کا کہنا تھا کہ پریتی زنٹا نے جس بینک سے قرض لیا تھا وہ اب بند کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں کھاتے دار اپنے جمع پونجی کے لیے در در بھٹک رہے ہیں۔
(جاری ہے)
بالی وڈ اداکارہ،'ویر زارا' کی ہیروئین پریتی زنٹا اس الزام سے کافی ناراض ہوئیں۔ انہوں نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک لمبی پوسٹ لکھی، جس میں الزامات کی تردید کی۔
بھارت میں اب فلم صنعت بھی فرقہ پرستی کے نرغہ میں!
اس پر کانگریس نے اداکارہ سے قرض ادا کردینے کا ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرایک پوسٹ میں کہا، "ہم ان ڈپازٹرز کے ساتھ کھڑے ہیں جن کی بچت کی رقم لٹ گئی۔"
پریتی زنٹا نے کیا کہا؟پریتی زنٹا نے کانگریس کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا، "میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خود چلاتی ہوں، آپ کو جھوٹی خبریں پھیلاتے ہوئے شرم آنی چاہیے، کسی نے میرا قرض معاف نہیں کیا، میں حیران ہوں کہ ایک سیاسی جماعت اور اس کے نمائندے ایسی جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں اور گندی گپ شپ کر رہے ہیں، وہ میرے نام اور تصویر کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
دس سال پہلے ہی میں نے پورا قرض ادا کردیا تھا۔ امید ہے کہ اس وضاحت کے بعد مستقبل میں کسی بھی غلط بیانی کو روکا جائے گا۔"بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ سے شدت پسند ہندو ناراض کیوں؟
پریتی زنٹا نے 'منی لائف' کی بانی سوچیتا دلال پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ "بڑی شخصیت بننے کے لیے" ایسا کررہی ہیں۔ اسی آن لائن نیوز پورٹل نے قرض معافی کی خبر شائع کی تھی۔
پریتی زنٹا نے مزید کہا، "اتنے بڑے پیمانے پرغلط معلومات گردش کر رہی ہیں، سوشل میڈیا کا اور ایکس کا شکریہ! میں نے اپنے پورے کیریئر میں بہت سارے معزز صحافیوں کی ڈھیر ساری اسٹوریز کو مکمل طور پر غلط ثابت ہوتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن انہوں نے کبھی بھی ان کو درست کرنے یا معافی مانگنے کی شائستگی نہیں دکھائی۔ میں عدالت میں بھی گئی اور کافی پیسہ بھی خرچ کیا ہے لیکن مقدمات چلتے رہتے ہیں۔
میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہم مستقبل میں ان کا احتساب شروع کریں۔ یقینی طور پر ان تمام صحافیوں کے نام لینا شروع کرنے جا رہی ہوں جو خبروں کی تہہ میں گئے یا چھان بین کیے بغیر مضامین لکھتے ہیں۔" کانگریس کا ردعملکیرالہ کانگریس نے اب سوشل میڈیا پر ایک بیان میں قرض کی پوزیشن کے حوالے سے وضاحت کے لیے پریتی زنٹا کا شکریہ ادا کیا ہے۔
کیا بالی وڈ اداکار اجے دیوگن بی جے پی کے ترجمان بن گئے ہیں؟
کانگریس نے کہا،"یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ، دوسرے مشہور شخصیات کے برعکس جنہوں نے اپنا اکاؤنٹ بدنام زمانہ بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے حوالے کر دیا ہے، اپنے اکاؤنٹ کا انتظام خود کر رہی ہیں۔"
کانگریس نے کہا، "آپ کے قرض کی پوزیشن کے حوالے سے وضاحت کے لیے شکریہ۔
اگر ہم نے کوئی غلطیاں کی ہیں تو ہم خوشی سے قبول کرتے ہیں۔"پارٹی نے مزید کہا کہ اس نے میڈیا کی اس خبر کو شیئر کیا جس کے مطابق، نیو انڈیا کوآپریٹو بینک کے سابق ملازمین نے جنوری 2020 میں لکھے گئے ایک خط میں بینک میں جاری بدعنوانی کے بارے میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو خبردار کیا تھا۔ اس رپورٹ میں پریتی زنٹا کا نام اور بہت سے لوگوں کا ذکر تھا۔
معاملہ کیا ہے؟یہ تنازع آن لائن نیوز پورٹل 'منی لائف' کی رپورٹ سے شروع ہوا۔ اس میں ایک سرکاری آڈٹ رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ "بالی وڈ اداکارہ پریتی زنٹا کا 18 کروڑ روپے کا واجب الادا قرض وصولی کے بغیر معاف کر دیا گیا۔"
رپورٹ کے مطابق، نیو انڈیا کوآپریٹو بینک سے بہت سے لوگوں کو برانچ منیجر کی معلومات کے بغیر قرض جاری کیا گیا تھا۔
ان میں سے بہت سے لوگوں کے قرضے معاف بھی کیے گئے، جن میں پریتی زنٹا کا 18 کروڑ روپے کا مبینہ قرض بھی شامل ہے۔دریں اثنا نیو انڈیا کوآپریٹیو بینک کے 122 کروڑ روپے کے غبن کیس کی تحقیقات کرنے والی ممبئی پولیس نے کہا کہ اداکارہ پریتی زنٹا، ان کی طرف سے لیا گیا کوئی قرض، یا اسے معاف کر دینے کا معاملہ، ان کی تحقیقات کا حصہ نہیں ہے۔
پریتی زنٹا پہلے بھی تنازعات کا شکار رہی ہیںبھارتی میڈیا رپورٹوں کے مطابق بدعنوانی کی چھان بین کرنے والے حکومتی ادارے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کے تفتیش کاروں نے پایا کہ نیو انڈیا کوآپریٹو بینک سے 122 کروڑ روپے غائب تھے۔
اس کے بعد اس نے آڈٹ کرنے والی ان چھ کمپنیوں کو طلب کر لیا ہے جنہوں نے 2019 سے 2024 تک بینک کا آڈٹ کیا تھا۔بینک میں بدعنوانی کا معاملہ سامنے آنے کی وجہ سے آر بی آئی نے نیو انڈیا کوآپریٹو بینک کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے۔
پچاس سالہ پریتی زنٹا پہلے بھی متعدد تنازعات کا شکار رہی ہیں۔ 2003ء میں، بھرت شاہ کیس میں بطور گواہ انھوں نے بھارتی مافیا کے خلاف گواہی دی۔
بھرت شاہ کو 2000ء میں ممبئی کے انڈرورلڈ باس چھوٹا شکیل سے تعلقات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بھرت شاہ نے پریتی زنٹا کی ایک فلم، 'چوری چوری چپکے چپکے'، کو فائنانس کیا تھا۔پریتی زنٹا نے متعدد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، ان میں سن دو ہزار چار میں ریلیز 'ویر زارا' شامل ہے۔ جو بھارتی فوج کے ایک افسر ویر پرتاپ سنگھ (شاہ رخ خان) اور پاکستانی خاتون زارا حیات خان (پریتی زنٹا) کی محبت کی کہانی پر مبنی ہے۔
پریتی زنٹا وزیر اعظم نریندر مودی کی زبردست مداح ہیں۔ انہوں نے ماضی میں مودی کے حق میں متعدد ٹوئٹس کیے ہیں۔