Islam Times:
2025-02-27@14:31:05 GMT

بغداد کا واشنگٹن اور تہران کے ساتھ تعلقات میں توازن پر زور

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

بغداد کا واشنگٹن اور تہران کے ساتھ تعلقات میں توازن پر زور

اپنے ایک انٹرویو میں فواد حسین کا کہنا تھا کہ خطے میں تبدیل شدہ صورتحال کی وجہ سے عراقی گروہوں کیجانب سے امریکی سربراہی میں بین الاقوامی اتحاد پر حملے رُک گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی وزیر خارجہ "فواد حسین" نے العربیہ کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے امریکہ، ایران، شام اور عراق کے داخلی و کُرد مسلح گروہوں کے بارے میں بات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران سے گیس کی درآمد کا مسئلہ اٹھایا۔ تاہم بغداد نئی امریکی حکومت کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کے تسلسل کی توقع رکھتا ہے۔ ہمیں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ کام میں کوئی پریشانی نہیں۔ فواد حسین نے کہا کہ امریکہ نے عراقی بینکوں پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی۔ انہوں نے اس امر کی جانب زور دیا کہ اب ہمیں جنگ اور مسلح تصادم سے دور ہونا ہو گا۔ عراق میں مسلح گروہوں کے حوالے سے ہمیں امریکہ سے غیر سرکاری پیغامات بھی موصول ہو چکے ہیں البتہ خطے میں تبدیل شدہ صورت حال کی وجہ سے عراقی گروہوں کی جانب سے امریکی سربراہی میں بین الاقوامی اتحاد پر حملے رُک گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں داخلی طور پر ابھی تک اسرائیلی حملوں کا خطرہ درپیش ہے۔

فواد حسین نے عراق سے بین الاقوامی اتحاد کے انخلاء کے حوالے سے کہا کہ فی الحال امریکی فورسز کی ہمارے ملک سے واپسی کی تاریخوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ عراق کے داخلی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے بارے میں فواد حسین نے کہا کہ اس کام کو وقت اور داخلی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ مسلح گروہ بین الاقوامی اتحادی افواج کی ملک میں مزید موجودگی کے لئے خطرہ نہیں۔ انہوں نے داعش کے خطرے کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت کے لئے اس دہشت گرد گروہ کی حرکات و سکنات باعث تشویش ہیں۔ شام کے حالیہ پس منظر میں انہوں نے کہا کہ نئی شامی حکومت کے بارے میں عراق کا موقف ایران سے جڑا ہوا نہیں۔ تاہم ہماری بعض سیاسی جماعتوں کو دمشق پر تحفظات ہیں۔ فواد حسین نے کہا کہ شام نے اپنے وزیر خارجہ "اسعد الشیبانی" کے دورہ عراق کے لئے سکیورٹی کی ضمانت نہیں مانگی۔ ہم نے شامی وزیر خارجہ کی جانب سے دورہ عراق ملتوی کرنے کی درخواست کو قبول کیا۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بین الاقوامی فواد حسین نے کے بارے میں نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

بی جے پی آئین کو کمزور کر رہی ہے، بیریندر سنگھ

کانگریس لیڈر نے کہا کہ کانگریس کیلئے تنظیم سازی بے حد ضروری ہے اور جلد ہی پارٹی اپنی تنظیمی طاقت کو بڑھانے کے اقدامات کریگی۔ اسلام ٹائمز۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینیئر لیڈر بیریندر سنگھ آج ہریانہ کے حصار میں کانگریس دفتر پہنچے، جہاں انہوں نے میئر امیدوار کرشن ٹیٹو کے لئے حمایت طلب کی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا اور کارکنان کو ہر وارڈ میں جا کر انتخابی مہم چلانے کی ہدایت دی۔ بیریندر سنگھ نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی آئین کو کمزور کرنے کا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے لئے تنظیم سازی بے حد ضروری ہے اور جلد ہی پارٹی اپنی تنظیمی طاقت کو بڑھانے کے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میونسپل انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی پوری قوت کے ساتھ میدان میں ہیں اور دونوں جماعتیں اپنے اپنے انتخابی نشان پر الیکشن لڑ رہی ہیں تاہم کانگریس نے محدود نشستوں پر اپنے انتخابی نشان کے ساتھ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیریندر سنگھ نے کہا کہ شہری انتخابات میں ووٹروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ یہاں معمولی فرق بھی نتیجہ بدل سکتا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے 'ٹرپل انجن' حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اپنی اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل کر دے تو عوامی مسائل فوری طور پر حل ہو سکتے ہیں۔ پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے کانگریس لیڈروں کے سوال پر بیریندر سنگھ نے کہا کہ کانگریس 150 سال پرانی جماعت ہے اور اس میں لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جب وہ خود کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے، تو انہیں جلد ہی احساس ہوگیا کہ بی جے پی کی نظریات بالکل مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا "مجھے کبھی توقع نہیں تھی کہ کوئی حکومت کسانوں کے خلاف ہو سکتی ہے"۔

انہوں نے مرکز کی اگنی پتھ اسکیم پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس منصوبے کے تحت بھرتی کئے جانے والے فوجیوں کو صرف چار سال بعد ریٹائر کر دیا جائے گا، جس سے فوج کی حالت خراب ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور راہل گاندھی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ان کی حکومت بنی تو اس اسکیم کو ختم کر دیا جائے گا۔ "ایک ملک، ایک انتخاب" کے بارے میں بات کرتے ہوئے بیریندر سنگھ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انتخابات ایک ساتھ ہوں گے اور اخراجات کم ہوں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ایک ہی پارٹی رہے گی اور عوام اسی کو ووٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوری اقدار کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پوری محنت کے ساتھ انتخابی مہم چلائیں اور کانگریس کو مضبوط کریں، تاکہ عوام کے مسائل کے حل کے لئے ایک مؤثر قیادت سامنے آ سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بی جے پی آئین کو کمزور کر رہی ہے، بیریندر سنگھ
  • ہم نے عراق کو جنگ کے شعلوں سے بچانے کی سنجیدہ کوشش کی، محمد شیاع السوڈانی
  • بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی کے دور میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار غلطی قرار دیدیا
  • ایران کا امریکہ سے جوہری مذاکرات سے انکار، نئی امریکی پابندیاں مسترد
  • پاکستان، آذربائیجان تعلقات کی نئی جہت
  • بھارتی وزیرِ خارجہ کی بنگلہ دیش کو وارننگ؛ ‘اپنا ذہن بنائیں کہ ہمارے ساتھ کیسے تعلقات چاہتے ہیں’
  • پاکستان اورکویت کے دوطرفہ تعلقات ہماری مشترکہ تاریخ، عقیدے اورثقافت پرمبنی ہیں، وزیراعظم
  • ایران اور یورپی ممالک کے مابین جوہری پروگرام پر بات چیت
  • پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات ہماری مشترکہ تاریخ، عقیدے اور ثقافت پر مبنی ہیں،وزیراعظم