پاکستان فٹبال فیڈریشن کی معطلی سے متعلق اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
لاہور:
فیفا کی طرف سے پاکستان فٹبال کی معطلی جلد ختم ہونے کا امکان ہے، پی ایف ایف کانگریس ارکان نے فیفا کی مجوزہ آئینی ترامیم کو تسلیم کر لیا۔
لاہور میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان فٹبال کے مفاد میں آئینی ترامیم منظور کیں، معطلی ختم ہونے سے قومی ٹیم اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائرز میں شرکت کر پائے گی۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کی نو منتخب کانگریس نے غیر معمولی اجلاس میں فیفا کی مجوزہ آئینی ترامیم کو بھاری اکثریت سے تسلیم کیا۔
فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے اعلیٰ سطحی وفد سے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اے ایف سی واحد کاردانی، فیفا ایم اے گورننس کے سربراہ رالف ٹینر، اے ایف سی ساؤتھ ایشیا یونٹ کے سربراہ پرشوتم کیٹل، اے ایف سی ساؤتھ ایشیا یونٹ کے سینئر منیجر سونم جگمی اور منیجر دنیش ڈی سلوا اجلاس میں شامل تھے۔
اجلاس کی صدارت پی ایف ایف کے صدر اور نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین سعود عظیم ہاشمی نے کی، اس موقع پر این سی ممبران محمد شاہد نیاز کھوکھر اور حارث عظمت بھی موجود تھے۔
اے ایف سی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری واحد کاردانی نے پاکستان فٹبال میں ضروری اصلاحات لانے پر کانگریس ارکان کے ارادے کو سراہا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان فٹبال اے ایف سی
پڑھیں:
یوکرین جنگ کے 3 سال مکمل ہونے پر کیف میں یورپی ممالک کا اجلاس
ولادیمیر زیلنسکی نے یورپ سے کہا ہے کہ وہ اپنی فوج تشکیل دے اور واشنگٹن کے لیے عملیت پسند رویہ اختیار کرے۔ اسلام ٹائمز۔ روس کے خلاف جنگ کے 3 سال مکمل ہونے کے موقع پر یوکرین نے یورپی رہنماؤں کی میزبانی کی، جب کہ اعلیٰ امریکی عہدیداروں نے اقتدار میں واپسی کے بعد صدر ٹرمپ کی ماسکو کے تئیں ناپسندیدگی کی واضح مثال پیش کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر کو ڈکٹیٹر قرار دینے اور ان پر جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کیے جانے کے باوجود ولادیمیر زیلنسکی نے یورپ سے کہا ہے کہ وہ اپنی فوج تشکیل دے اور واشنگٹن کے لیے عملیت پسند رویہ اختیار کرے۔
انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد 2022 میں یورپ میں ہونے والے سب سے بڑے تنازع (روس اور یوکرین جنگ) کے آغاز کی یاد میں کیف میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں یورپی اور دیگر رہنماؤں کا خیرمقدم کیا۔ یوکرین میں ہونے والی اس تقریب میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیرلین، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، کینیڈا، ڈنمارک، آئس لینڈ، لیٹویا، لتھوانیا، فن لینڈ، ناروے، اسپین اور سویڈن کے رہنماؤں نے شرکت کی۔