اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔27 فروری ۔2025 ) قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا16ویں قومی اسمبلی کے144دنوں میں 13سیشنوں کے دوران مجموعی طور پر 93اجلاس منعقد ہوئے دستاویز کے مطابق ایوان کی کارروائی 247 گھنٹے 23 منٹ تک چلتی رہی اور26 ویں آئین ترمیم سمیت 47 قوانین، 26 قرادادیں منظور کی گئیں.

مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف اوروزیراعظم شہبازشریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی حاضری سب سے کم رہی اور دونوں صرف 5 دن شریک ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف 11دن جبکہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی حاضری کا تناسب سب سے زیا دہ رہا.

(جاری ہے)

پہلے پارلیمانی سال میں حکومت قانون سازی اور اپوزیشن احتجاج میں مصروف رہی سیاسی مسائل عوامی مسائل پر حاوی رہے پہلے پارلیمانی سال کے دوران انتخابات کے باوجود قومی اسمبلی کا ایوان نامکمل رہا پارلیمنٹ سے منظور قانون سازی میں عوامی مفاد کا تاثر کم جبکہ سیاسی مفادات کے حصول کی کاوشیں دیکھنے میں زیادہ نظر آئیں. قومی اسمبلی میں سیاسی انتشار رہا، اپوزیشن سراپا احتجاج رہی، حکومت نے دن رات قانون سازی کا ریکارڈ قائم کر ڈالا قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کی منظوری کے دوران اقلیت کو اکثریت میں بدلتے دیکھا گیا پریکٹس اینڈ پروسیجر اور الیکشن ایکٹ میں ایک کے بعد ایک قانون نے سیاسی ماحول کو گرمائے رکھا.

دستاویز کے مطابق پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی میں91 بل پیش کیے گئے حکومت کی جانب سے 30 جبکہ اراکین اسمبلی کی جانب سے 61 قوانین ایوان میں متعارف کرائے گئے جبکہ قومی اسمبلی میں حکومت اور پرائیوٹ ممبر کی جانب سے پیش بلوں میں سے 47 پر قانون سازی ہوئی.                             

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قومی اسمبلی میں پارلیمانی سال کے دوران

پڑھیں:

حکومت کا پہلا سال مکمل، اعظم نذیر تارڑ سب سے مؤثر وفاقی وزیر قرار

اسلام آباد:

پاکستان میں پارلیمانی نظام، جمہوریت اور حکمرانی سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پِلڈاٹ نے حکومت کا پہلا سال مکمل ہونے پر وفاقی وزرا کی کارکردگی سے متعلق جائزہ رپورٹ جاری کردیا۔

پلڈاٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  28 فروری 2025 کو 16 ویں قومی اسمبلی کا پہلا سال اختتام پذیر ہوا، اس دوران پارلیمنٹ میں قانون سازی کے حوالے سے موجودگی اور کارکردگی کے لحاظ سے وفاقی کابینہ کے اراکین متحرک نظر آئے۔

رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں وفاقی کابینہ کے ممبران کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ، پِلڈاٹ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا جائزہ لیا۔ 16 ویں قومی اسمبلی جو 29 فروری ، 2024 کو فعال ہوئی اور سینیٹ آف پاکستان کے نصف اراکین کا انتخاب 9 اپریل 2024 کو ہوا، اُس کے بعد دوبارہ تشکیل دیا گیا تھا۔

پِلڈٹ کے مطابق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ 2024-2025 سیشن کے دوران پارلیمنٹ میں اپنی کارکردگی کے لحاظ سے وفاقی کابینہ کے سب سے زیادہ بااثر اور موثر ممبر کے طور ثابت ہوئے۔

تین اہم محکموں قانون، انصاف اور انسانی حقوق کی وزارتوں کے قلمدارن رکھنے والے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو حکومت وقت کی طرف سے یہ اعزاز حاصل ہے کے قانون سازی کے حوالے سے انہوں نے سب سے زیادہ  38 حکومتی بلوں کی منظوری کروائی جن میں آئینی ترامیم اور کلیدی قانون سازی بھی شامل ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سب سے زیادہ سیشنز میں انہوں نے حصہ لیا- پہلے پارلیمانی سال کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ طور پر کل 157 نشستوں میں سے 89 (57 فیصد) میں شرکت کی اور 17 گھنٹے سے زائد ایوان میں بات کی۔

اس کے بعد خواجہ آصف مؤثر اور متحرک رہے جنہوں نے پارلیمنٹ کے 69 سیشنز میں حصہ لیا اور ساڑھے پانچ گھنٹے سے زیادہ بات کی۔

قیصر احمد شیخ وفاقی وزیر برائے بحری امور 67 سیشنز (42 فیصد) میں شرکت کر کے تیسرے نمبر پر رہے انہوں نے پہلے پارلیمانی سال کے دوران صرف 31 منٹ کے لئے بات کی۔

رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار،  نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ، میاں ریاض حسین پیرزادہ، وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور مسٹر علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ ، ریونیو اینڈ پاور ڈویژن ، حاضری کی درجہ بندی میں چوتھی پوزیشن ہیں اور انہوں نے 66 (42 فیصد) سیشنز میں شرکت کی اور ان میں سے ہر ایک نے بالترتیب 1 گھنٹہ 44 منٹ ، 1 گھنٹہ 1 منٹ اور 1 گھنٹہ 31 منٹ کے لئے بات کی۔

پلڈاٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ ایوان میں تقاریر یا اظہار خیال کرنے کے حوالے سے تیسرے نمبر پر رہے انہوں نے ساڑھے چار گھنٹے گفتگو کی تاہم وہ صرف چالیس فیصد سیشنز میں شرکت کرسکے۔

اسحاق ڈار نے 35 سیشنز میں شرکت کی اور 4 گھنٹے بات کی۔ سینیٹر سید محسن رضا نقوی وفاقی وزیر داخلہ ، دونوں درجہ بندیوں کے حوالے سے دوسرے نمبر پر آئے۔

پورے سال کے دوران صرف 10 سیشنز میں شرکت کی اور صرف 12 منٹ تک تقریر کی۔

معاشی امور اور اسٹیبلشمنٹ کے وفاقی وزیر ، سینیٹر احد چیمہ دونوں درجہ بندیوں کے نچلے حصے میں آئے ہیں ، انہوں نے صرف 9 سیشنز میں شرکت کی ہے اور پارلیمنٹ میں صرف 1 منٹ تک تقریر کی ہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا پارلیمانی وفد کے ہمراہ ہنگری کی قومی اسمبلی کا دورہ،وزیر اعظم کو دورہ پاکستان کی دعوت
  • قومی اسمبلی کا پہلا سال، پلڈاٹ نے کارکردگی رپورٹ جاری کردی
  • صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کیلئے مخلص نہیں، ہماری تیاریاں مکمل ہونے پر قوانین بدل دیتی ہیں: الیکشن کمشن
  • 16ویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل، 26ویں ترمیم سمیت 47قوانین منظور
  • بلدیاتی انتخابات کے لیے جلد قانون سازی کی جائے، الیکشن کمیشن کی پنجاب حکومت کو ہدایت
  • گزشتہ دہائی میں 70 سے زائد انسانی حقوق پر قوانین منظور کیے گئے: اعظم نذیر تارڑ
  • بلدیاتی انتخابات میں تاخیر؛ پنجاب حکومت کی جلد قانون سازی کی یقین دہانی
  • اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا مجبوری ہے، معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، صدر زرداری
  • حکومت کا پہلا سال مکمل، اعظم نذیر تارڑ سب سے مؤثر وفاقی وزیر قرار