مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم--فائل فوٹو

مشیرِ خزانہ خیبر پختون خوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ رواں سال جنوری میں 63 ہزار افراد نوکری کے لیے ملک سے باہر گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم اور وزراء شرمندہ ہونے کے بجائے بیروزگاری ختم ہونے کی مبارک باد دیتے تھکتے نہیں، پڑھے لکھے تربیت یافتہ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں، کیا خاک ترقی ہو گی؟

قرضوں پر سود 4.

9 فیصد سے بڑھ کر 7.7 فیصد تک پہنچ گیا: مزمل اسلم

مشیر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ مالی خسارہ 5.2 فیصد سے بڑھ کر 6.8 فیصد جبکہ قرضوں پر سود 4.9 فیصد سے بڑھ کر 7.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ شہباز شریف حکومت میں ملک سے 20 لاکھ لوگ ہجرت کر چکے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ملک کی ترقی نہیں، پستی کی نشاندہی کر رہا ہے۔

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

پی آئی اےکی نجکاری کیلئے مقرر مالیاتی مشیر کو سوا ارب روپے ادا کیے جانے کا انکشاف

ویب ڈیسک: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن(پی آئی اے)کی نجکاری کیلئے مقرر کردہ مالیاتی مشیر کو سوا ارب روپے دیدئے گئے ہیں مگر پی آئی اے کی نجکاری نہیں ہوسکی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس منگل کو کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت منعقدہوا، اجلاس میں سیکرٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے قائمہ کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری پر بریفنگ دیتے ہوئے گاہ کیا کہ قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے جس مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اسے ایک ارب 20 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جاچکی ہے تاہم پی آئی اے کی نجکاری نہیں ہوسکی۔

سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔منگل 25 فروری, 2025

سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ مالیاتی مشیر کو مجموعی طور پر 69 لاکھ ڈالر (ایک ارب 90 کروڑ روپے) ادا کرنے ہیں، اب تک ایک ارب 20 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جاچکی ہے، مالیاتی مشیر کو 63 فیصد رقم ادا کی جاچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی مشیر کو دوسرے مرحلے میں نجکاری کے عمل کی ادائیگی نہیں ہوگی باقی ماندہ رقم نجکاری کا عمل مکمل ہونے پر ادا کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے پچھلی بار لگائی گئی بولی قابل قبول نہیں تھی۔

آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس -منگل  25 فروری, 2025

انہوں نے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ میں بتایا کہ پی آئی اے ہولڈکو کی 26 جائیدادیں ہیں اور پی آئی اے سی ایل کی 5 جائیدادیں ہیں، بلیو ایریا میں واقع اسلام آباد کے پلاٹ کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا، بلیو ایریا کے پلاٹ کی مالیت 10 سے 12 ارب روپے لگائی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسکائپ ہوٹل پیرس اور روز ویلٹ ہوٹل کمرشل پراپرٹیز ہیں یہ دونوں ہوٹلز پی آئی اے ہولڈ کو، کی ملکیت ہیں، روزویلٹ ہوٹل کا موجودہ معاہدہ مئی کے مہینے میں ختم ہو جائے گا، تین ماہ کا نوٹس دیا جائے گا، اس کے بعد یہ کلئیر ہوجائے گا۔

ملٹری ٹرائل کیس: کیا ایوب خان کے دور میں بنیادی حقوق میسر تھے؟ آئینی بنچ

واضح رہے کہ نجکاری بورڈ نے 13 نومبر 2024 کو پی آئی اے کی نجکاری کے لیے موصول ہونے والے بولی مسترد کردی تھی، قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لیے نئی تجاویز پیش کردی گئی گئی تھیں جنہیں کابینہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر برائے نجکاری علیم خان کی زیرصدارت نجکاری بورڈ کے اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے لئے دی گئی بولی مسترد کی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری کیلیے دوبارہ سے اظہار دلچسپی طلب کرنے اور جی ٹو جی آپشن اختیار کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

جرمن فٹبالر میسوٹ اوزل ترک صدر اردوان کی جماعت میں شامل

واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی 31 اکتوبر کو کھولی گئی تھی، قومی ایئر لائن کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے 85 ارب روپے کی خواہاں حکومت کو ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی بلیو ورلڈ سٹی کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی تھی۔

 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • کلیدی معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری، وزارت خزانہ کی رپورٹ
  • وزارت خزانہ نے عید الفطر سے قبل مہنگائی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجادی
  • رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ
  • رواں مالی سال کے 7 ماہ میں ترسیلات زر، برآمدات و درآمدات میں اضافہ ریکارڈ، وزارت خزانہ
  • یہ انتہائی شرمناک ہے کہ باہر کے لوگ ہمیں بتا رہے ہیں اپنا گھر کیسے ٹھیک کرنا ہے،سینیٹر فیصل وا ئوڈا
  • ٹرمپ ٹیرف، بٹ کوائن 90 ہزار ڈالر سے کتنا نیچے گرا؟
  • پی آئی اےکی نجکاری کیلئے مقرر مالیاتی مشیر کو سوا ارب روپے ادا کیے جانے کا انکشاف
  • افغان مہاجرین کی پاکستان سے واپسی، دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا
  • پاکستان کا قرضوں پر سود پونے 10 ہزار ارب روپے کی تشویش ناک سطح تک پہنچ گیا