اسلام آباد ہائیکورٹ کا سی ڈی اے سمیت متعلقہ اداروں کو ریڑھی بانوں کا مسئلہ حل کرنیکا حکم
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد:ریڑھی بانوں سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایم سی آئی، سی ڈی اے اور ٹریفک پولیس کو درخواست گزار ریڑھی بانوں کا معاملہ حل کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار ریڑھی بانوں کی طرف ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پیش ہوئے۔
ایم سی آئی حکام نے بتایا کہ ایم سی آئی صرف ان کے لائسنس کو دیکھتی ہے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی قانونی بات نہیں ہے بلکہ کوآرڈینیشن کی بات ہے، سی ڈی اے ایم سی آئی آپس میں کوآرڈینیٹ کر لیں تاکہ یہ مسئلہ کھڑا نا ہو۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے دلائل میں کہا کہ یہ ٹریفک میں خلل کا ایشو نہیں ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ان ریڑھی بانوں نے درخواست دی آپ نے اس پر کوئی ایکشن نہیں کیا، آپ نے سن کر نوٹس بھی نہیں کیا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ ایم سی آئی اور سی ڈی اے کا معاملہ ہے، ٹریفک پولیس صرف اس وقت ایکشن لیتی ہے جب ضرورت ہوتی ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی سو بہت ہی کم روزی کمانے والے یہ ریڑھی بان ہیں ان کو پٹیشن فائل ہی کیوں کرنا پڑی؟
ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی طرف سے یو ایس بی میں ویڈیوز و تصاویر عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو غلط بتایا گیا ہے کہ یہ ٹریفک ایشو ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے، ان لوگ سے پیسے مانگے جاتے ہیں اور جب نہیں دیتے تو پولیس ان کو اٹھا کر لے جاتی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ ریڑھی بانوں کے وہ اسٹالز جن کے پاس لائسنس ہیں ہم ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، ہم صرف ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جن کے لائسنس نہیں ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ دو ہزار لائسنس فیس ہے دو سال سے ان کی درخواستیں آپ کے پاس پڑی ہیں۔
ایم سی آئی حکام نے بتایا کہ ریڑھی بانوں کے حوالے سے ایک بل سینیٹ میں آیا تھا جن پر ہم نے کمنٹس دیے ہیں۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ 26 ویں ترمیم کے ساتھ بل لگا دینا تھا وہ بھی منظور ہو جاتا، 26 ویں ترمیم کے نیچے چھپا دینا تھا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ عدالت مہلت دے ہم جلد اس معاملے کو حل کر لیں گے۔ ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے کہا کہ ہم جب ان سے رابطہ کرتے ہیں تو ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ ڈائریکٹر ڈی ایم اے ایم سی آئی کے ساتھ ریڑھی بان آجائیں ہم معاملہ حل کروا دیتے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ لائسنس کو مانیٹر کون کرتا ہے؟ وکیل سی ڈی اے نے بتایا کہ ایم سی آئی کے انسپکٹر اس کو مانیٹر کرتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایم سی آئی، سی ڈی اے اور ٹریفک پولیس کو درخواست گزار ریڑھی بانوں کا معاملہ حل کرنے کا حکم دے دیا۔ فریقین معاملے کے حل کی دستاویز آئندہ سماعت پر عدالت پیش کریں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے ریمارکس دیے کہ ریڑھی بانوں اسلام ا باد نے بتایا کہ ایم سی ا ئی نے کہا کہ عدالت نے سی ڈی اے
پڑھیں:
چولستان کی زمین فوج کے 2 اداروں کو منتقل کرنے کے معاہدے پر عملدرآمد روک دیا گیا
بہاولپور (ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے نگران حکومت کے دور میں چولستان کی زمین پاک فوج سے وابستہ دو اداروں کو منتقل کرنے کے لیے کیے گئے 2 معاہدوں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔درخواست گزاروں کے ان خدشات کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ انہیں ان کی زمین سے محروم کردیا جائے گا، عدالت کو صوبائی حکومت کے نمائندوں نے یقین دلایا کہ جب تک کابینہ نیا فیصلہ نہیں کرتی، ان کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
ڈان نیوز اردو کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ کے جسٹس عاصم حفیظ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق پنجاب حکومت کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی کابینہ نے نگران دور حکومت مین بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ اراضی منتقلی کے معاہدوں اور اس کے بعد کے نوٹیفکیشنز کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
سعودی سپریم کورٹ نے عوام سے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل کردی مگر کب ؟
یہ حکم اس وقت سامنے آیا، جب بینچ نے چولستان کی دور افتادہ بستی چک نمبر 176 ڈی بی کے 100 سے زائد رہائشیوں کی جانب سے دائر درخواست کو نمٹا دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ریاستی سرپرستی میں چلنے والے منصوبے کے لیے اپنی زمین دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ نگران حکومت نے چولستان میں ہزاروں ایکڑ اراضی کی منتقلی کے لیے میسرز گرین کارپوریٹ انیشی ایٹوز اور ملٹری فیملی ری ہیبلیٹیشن آرگنائزیشن (ایم ایف آر او) کے ساتھ جوائنٹ وینچر معاہدوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔
کھیل کے دوران بہن کے ہاتھوں بھائی مارا گیا
عدالت نے کہا کہ حکومت نگران کابینہ کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اقدام کا دفاع کرنے کے بجائے معاملے کا ازسرنو جائزہ لینے کی خواہش مند ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سابقہ نوٹیفکیشنز اور معاہدوں پر نظر ثانی کی سمری صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کردی گئی ہے، جس پر 8 ہفتوں میں فیصلہ متوقع ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نگران حکومت کے اختیارات کے دائرہ کار اور زمین کے ایک بڑے حصے کو لیز پر دینے کے لیے ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے عدالت کی جانب سے پہلے تیار کیے گئے 11 سوالات پر بھی غور کرے۔
ایئر ٹکٹس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، مراسلہ آگیا
مزید :