آج اپنے بچے اُٹھائے گئے تو کچھ لوگوں کو آرٹیکل 5 یاد آیا: کامران مرتضیٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ—فائل فوٹو
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ آج اپنے بچے اُٹھائے گئے تو کچھ لوگوں کو آرٹیکل 5 یاد آیا۔
اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج یہ کانفرنس عاصمہ جہانگیر ہال میں ہونا تھی، عاصمہ جہانگیر اگر زندہ ہوتیں تو آج میری طرح وہ بھی شرمندہ ہوتیں۔
سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا ہے کہ اب اسلام آباد میں بیٹھ کر چند افراد گفتگو بھی نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں کسی اور نے حصہ ڈالا ہو یا نہیں، حکومت نے کامیابی میں حصہ ڈالا ہے۔
کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ آج ہم قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، ہمارے صوبے میں بندے اٹھائے جاتے ہیں۔
جے یو آئی کے سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ آئین اور قانون پر سمجھوتا کرنے میں تمام شریک ہیں، آپ اور میں زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہر روز مداخلت بڑھتی جا رہی ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کامران مرتضی
پڑھیں:
بات جمہوریت کی کرتے ہیں مگر اپوزیشن کی کانفرنس سے ڈرتے ہیں: مصطفیٰ نواز کھوکھر
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر—فائل فوٹوسابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ بات جمہوریت کی کرتے ہیں مگر اپوزیشن کی کانفرنس سے ڈرتے ہیں۔
اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سوچوں پر پہرے نہیں لگا سکتے، ہم یہ نہیں کرنے دیں گے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے، آئین کی پامالیاں جاری ہیں، یہاں پر ملک کی بہتری کے لیے ایجنڈا بنانے کی بات کی گئی۔
اپوزیشن اتحاد قومی کانفرنس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین گیٹ پھلانگ کر ہوٹل میں داخل ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ آج اس وینیو پر جو حالات بنے، کانفرنس کو روکا گیا، باہر اس وقت پولیس اور ایف سی موجود ہے، مقصد یہ تھا کہ کانفرنس کو روکا جائے۔
سابق سینیٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت سیاسی بحران ہے، آئین نام کی کوئی چیز نہیں، ریاست کے ساتھ جو معاہدہ تھا اس کو ختم کر دیا گیا، پیکا قانون کے بعد آواز کو بند کر دیا گیا۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت میں جو لوگ عہدوں پر فائز ہیں، وہ مستعفی ہوں، آزاد کشمیر، سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کی بات ہونی چاہیے، ہم ملک میں آئین کی بحالی کی تحریک کو جاری رکھیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس کے دستے بھیجیں یا دروازے بند کریں، ہم ہر صورت اپنا کام کریں گے، سندھ کا پانی روکا جا رہا ہے اور ان کو حق نہیں دیا جا رہا۔