شاعر احمد فراز نے تو عدالت میں یہ کہہ دیا تھا یہ نظم میری ہے ہی نہیں،جسٹس نعیم اختر افغان
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی میں فوجی عدالتوں سے متعلق کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ ہلکے پھلکے انداز میں کچھ کہنا چاہتا ہوں،شاعر احمد فراز نے تو عدالت میں یہ کہہ دیا تھا یہ نظم میری ہے ہی نہیں۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی میں فوجی عدالتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ وقت کے حساب سے شاعری اچھی بری لگتی رہتی ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ اب تو چرسی تکہ والے کو بھی اصلی چرسی تکہ لکھنا پڑتا ہے،فیصل صدیقی نے کہاکہ مجھے آپ تمام ججز سے اچھے کی امید ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھنےوالے ہیں۔
نیپرا : موسم گرما کیلئے پانی کی صورتحال پر واپڈا سے تفصیلات طلب
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ ہلکے پھلکے انداز میں کچھ کہنا چاہتا ہوں،شاعر احمد فراز نے تو عدالت میں یہ کہہ دیا تھا یہ نظم میری ہے ہی نہیں،جسٹس افضل ظلہ نے احمد فراز سے کہا ایسی نظم لکھ دیں، فوجی کے جذبات کی ترجمانی ہو جائے،احمد فراز نے دفاع میں کہا کہ میرے پاس تو وسائل ہی نہیں کہ اپنی نظم تشہیر کر سکوں،آج کل تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے،اس دور میں اگر احمد فراز ہوتے تووہ یہ دفاع نہیں لے سکتے تھے۔
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ملک میں ہر قانون موجود ہے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، جسٹس محسن اختر کیانی
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر قانون موجود ہے مگر اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے اور طلبہ کو ہدایت کی کہ کرپشن اور ڈرگز سے انکار کرنا ہے۔
اسلام آباد میں دی ملینیم یونیورسل کالج میں ملینیم نیشنل موٹ کورٹ مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں شعبہ قانون کے طلبہ نے بطور وکیل اپنا کیس پیش کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت اور دیگر نے بطور جج فرائض سر انجام دیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بطور مہمان خصوصی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے قانونی نظام میں بہت خلا ہے اور زور دیا کہ وکلا کو عدالتوں میں مکمل تیاری کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے ورنہ نتائج بھی ویسے ہی برآمد ہوں گے جو اس وقت دیکھنے میں آ ئیں گے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم لوگ بیرون ملک سے پڑھ کر نہیں آئے تھے لیکن جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بیرون ملک تعلیم حاصل کی تھی۔
انہوں نے یونیورسٹیز پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو سول پروسیجر کورٹ کے بارے میں تعلیم دیں کیونکہ پاکستان میں ہر قانون موجود ہے جو دنیا میں نہیں ہے لیکن قانون پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گورننس کے پورے ماڈل کو بہتر بنانے کے لیے ایک نئی نسل کی ضرورت ہے، 45 سال سے زائد عمر کے لوگوں نے جو کرنا تھا وہ کر چکے ہیں، اب نئی نسل کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سچ بولیں اور ایمان داری سے کام کریں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انہیں 45 سال کی عمر کے بعد ملک کی قیادت تک لے جائے گا۔
انہوں نے منشیات کے استعمال پر بتایا کہ اسلام آباد میں 200 سے 300 ایف آئی آرز منشیات سے متعلق درج ہو رہی ہیں،
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نے طلبہ سے کہا کہ وہ منشیات اور کرپشن کو مسترد کریں اور اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کریں اور روزانہ صرف ایک گھنٹہ پڑھائی کے لیے مختص کرنا کامیابی کی کنجی ہے۔