10 دن تک بیت الخلا جانے نہ دیا جاتا تو آپ یہاں کھڑے نہ ہوتے، عدالت کا ارمغان سے مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
کراچی:
مصطفی عامر قتل کیس میں ملزم نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اس کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
دورانِ سماعت ملزم نے عدالت کو بتایا کہ مجھے اذیت میں رکھا ہوا ہے اور مجھے کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں دیا جا رہا جب کہ تھانے لے جا کر پولیس میرا مذاق اڑاتی ہے۔ مجھ سے ہنس کر کہا جاتا ہے کہ تمہارا جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے۔
ملزم نے عدالت میں کہا کہ میں پولیس کسٹڈی میں نہیں جانا چاہتا، پولیس مجھ سے کہتی ہے اب تمہیں اور تنگ کریں گے۔ اذیت دی جاتی ہے۔ 10 روز سے واش روم بھی جانے نہیں دیا گیا۔
عدالت نے ملزم کی بات پر ریمارکس دیے کہ ایسا ناممکن ہے کہ 10ر وز تک واش روم نہ جانے دیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ یہاں کھڑے نہ ہوتے۔
سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم بہت شاطر ہے، ہائی کورٹ کے حکم پر میڈیکل ہوچکا ہے۔ جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش مکمل ہوسکے۔ ملزم سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے، ملاقاتوں سے تفتیش میں رکاوٹ ہوگی۔
بعد ازاں عدالت نے ملزمان کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی اور ملزمان کا میڈیکل چیک اپ کروانے کی ہدایت جاری کی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے عدالت
پڑھیں:
مصطفی قتل کیس؛ ملزم ارمغان سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع؛ نئے انکشافات
کراچی:مصطفی عامر قتل کیس میں ملزم ارمغان سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی، جس میں کئی انکشافات سامنےآئے ہیں۔
پولیس نے مصطفی عامر کے اغوا و قتل کیس میں مزید انکشافات کرتے ہوئے ملزم ارمغان کی فرد گرفتاری اور اسلحہ برآمدگی کی رپورٹ انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں جمع کرادی۔
عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصطفیٰ عامر کی بازیابی کے لیے ملزم ارمغان کے گھر پر چھاپا مارا گیا تھا۔ پولیس ڈیفنس میں واقع ملزم کے بنگلے پر پہنچی تو اندر موجود شخص نے دروازہ نہیں کھولا۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری موبائل کی ٹکر سے بنگلے کا گیٹ کھولا گیا اور پولیس بنگلے میں داخل ہوئی۔ اوپر کی منزل سے ملزم نے پولیس پر جان سے مارنے کی نیت سے جدید اسلحہ سے فائرنگ شروع کردی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم کی فائرنگ سے ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور کانسٹیبل محمد اقبال زخمی ہوئے۔ ملزم کو بلند آواز میں سرینڈر کرنے کے لیے کہا جاتا رہا مگر وہ وقفے وقفے سے فائرنگ کرتا رہا۔
عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ منع کرنے کے باوجود ملزم باز نہیں آیا اور کافی دیر تک پولیس پر جدید اسلحہ سے فائرنگ کرتا رہا۔ بعد ازاں پولیس نے پیش قدمی کرتے ہوئے ملزم کو گھیرے میں لے کر گرفتار کیا۔ کارروائی کے دوران ملزم سے جدید اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔