30 ایوارڈز حاصل کرنے والی وہ فلم جس کو کاجول اور اجے دیوگن نے ٹھکرا کر غلطی کی
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
سن 2004 میں یش چوپڑا نے ویر زارا کے ساتھ ہدایتکاری کی دنیا میں واپسی کی، جو ہندوستان اور پاکستان کے پس منظر پر مبنی ایک محبت کی کہانی ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں اس فلم کیلئے پہلے اجے اور کاجول کو کاسٹ کرنے کی تجویر دی گئی تھی۔
ویر زارا میں شاہ رخ خان کو بھارتی فضائیہ کے افسر ویر پرتاپ سنگھ اور پریتی زنٹا نے پاکستانی لڑکی زارا حیات خان کا کردار ادا کیا تھا۔ اس سرحد پار رومانس نے شائقین کے دلوں پر قبضہ کر لیا اور یہ فلم دنیا بھر سے 105 کروڑ روپے کما کر ایک بلاک بسٹ ثابت ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق یش چوپڑا آدتیہ چوپڑا کی بلاک بسٹر فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گے میں کامیاب جوڑی کے طور پر اُبھرنے کے بعد شاہ رخ خان اور کاجول کو ایک ساتھ کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ تاہم کاجول نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کردار سے انکار کر دیا اور فلم بالآخر پریتی زنٹا کے مقدر میں آ گئی۔
فلم ویر زارا میں رانی مکھرجی نے پاکستانی وکیل سمیعہ صدیقی کا معاون کردار ادا کیا تھا۔ یش چوپڑا شروع میں اس کردار کے لیے ایشوریہ رائے کو کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اس وقت سلمان خان کے ساتھ ان کے خراب تعلقات اور سیٹ پر ان کی مسلسل مداخلت کی وجہ سے انہیں چلتے چلتے اور ویر زارا کو چھوڑنا پڑا، اور ان کی جگہ رانی مکھرجی نے دونوں فلموں میں لے لی۔
منوج باجپائی نے یش چوپڑا کی اس روم کام ویر زارا میں زارا کے منگیتر رضا شیرازی کا ایک چھوٹا کردار بھی ادا کیا۔ لیکن، یہ کردار سب سے پہلے اجے دیوگن کو آفر کیا گیا تھا۔ تاہم اجے نے بھی اسے مسترد کر دیا، کیونکہ وہ اپنے ہم عصر شاہ رخ خان کے مقابل مہمان کے کردار میں نظر نہیں آنا چاہتے تھے۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستانیوں کیلئےخوشخبری ، ورک ویزے کھل گئے، اخراجات بھی کافی کم
پاکستانی شہریوں کیلیے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے مختصر وقفے کے بعد شہریوں کو دوبارہ اُزبکستان میں ملازمت حاصل کرنے کیلئے درخواست کی اجازت دے دی گئی۔
وفاقی حکومت نے پاکستانی ورکرز پر سے پابندی ہٹاتے ہوئے انہیں ازبکستان میں ملازمتیں تلاش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ تاشقند میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے پابندی ہٹانے کی تجویز کے بعد سامنے آیا۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ تاشقند میں پاکستانی سفارت خانے نے ازبکستان میں ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کے لیے کارکنوں کو رجسٹر کرنے کی سفارش کی ہے۔
بیرون ملک نوکری کیلیے پاکستانیوں کو روانگی سے قبل اپنے ویزے کے تحفظ کا عمل کروانا لازمی ہے۔ ورک ویزا پر ازبکستان جانے والے پاکستانی ورکرز کو بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے پروٹیکٹڈ حاصل کرنا ضروری ہے۔
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروٹیکٹر کیلیے فیس کے دو آپشنز فراہم کیے گئے ہیں جن میں ایک اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے ذریعے امیگرنٹ کی فیس اور دوسرا ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ کے ذریعے امیگرنٹ کی فیس ہے۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے والے درخواست دہندگان کی کل پروٹیکٹر فیس 22,200 روپے ہے تاہم پروسیسنگ کے عمل کے دوران درخواست دہندگان سے اضافی 6000 روپے بھی وصول کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم، براہ راست ملازمت حاصل کرنے والوں کیلیے کل فیس 9200 روپے ہے۔ اس میں OPF فنڈ کی مد میں 4000 روپے، 2,500 انشورنس پریمیم، 2,500 روپے رجسٹریشن فیس اور 200 روپے OEC فیس بھی شامل ہے۔
یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کے فروری 2025 کے آخری ہفتے میں ازبکستان کے سرکاری دورے سے قبل سامنے آیا۔