Daily Ausaf:
2025-02-27@12:10:46 GMT

نحوست چھٹ رہی ہے

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

سب اچھاکی منزل ابھی نہیں آئی، لیکن صد شکر کہ نحوست چھٹ رہی ہے، امن اور استحکام کی باد بہاری ترقی وخوشحالی کی فصل گل کی نوید بن کر ارض پاک پر اتر رہی ہے ۔ ایک طرف کھیلوں کے میدان آباد ہیں ، جہاں قہقہے گونجتے اور تالیاں بجتی ہیں ، بے فکری کی مانو س خوشبو وطن پر اعتماد کے عزم صمیم کا پتہ دیتی ہے ۔پوری دنیا سے کھلاڑی،ماہرین اور میڈیا اسلام آباد سے کراچی تک پھیلا ہوا ہے،امن وآشتی کی صبح تاباں کی ضوفشانیوں کوچہار دانگ عالم منعکس کر رہا ہے۔پاکستان کا پیغامِ امن شرق وغرب کی وسعتوں میں دوستوں کے لئے راحت جاں اور فتنہ پرور دشمنوں اور حاسدوں کے قلوب وجگر کو چھلنی کرتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب دو قالب و یک جان دوست ممالک سے آتی سرمایہ کاری ملک وقوم کی خوشحالی اور روشن مستقبل کے خواب کی تعبیر بن رہی ہے، صرف بڑے شہر ہی مستحکم معیشت اور روزگار کے مواقع سے مستفید نہیں ہو رہے،بلکہ بلوچستان جیسے دہشت گدی،بد امنی،انتشار اور دشمن کی سازشوں کا شکار علاقے بھی بھاری بھر کم سرمایہ کاری کا مرکز بن رہے ہیں۔یہ سب اس لئے ممکن ہوا کہ وطن کے سجیلے جوان دشمن کے زرخرید غلام دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی دیواربن چکے ہیں، رزم گاہوں میں ڈٹ کر کھڑے دھرتی کے ان سپوتوں کے پیچھے تزویراتی حکمت کار شہ دماغ بیدار ہیں اور شب و روز کی تمیز کئے بغیر اپنے محاذ پر دشمن کو شکست فاش دینے میں  کامیاب ہو چکے ہیں ۔ فتنہ انتشار کی نحوست نے دشمن کا ہمنوا ہو کر پاکستان کو جس کوچہ تنہائی میں دھکیلنے کی سازش کی تھی ، وہ ناکام بنا دی گئی ہےاور اب مملکت خداداد اپنی جغرافیائی قوت کے مکمل شعور کے ساتھ میدان میں ہے۔سی پیک ہو یا نارتھ سائوتھ کوریدوڑ ،ٹرانس افغان ریلوے ہو یا پاک روس ٹرین ، گوادر وسط ایشیاء ٹرکنگ ٹرانسپورٹ روڈ منصوبہ ہو یا آئی ٹی آئی ٹرین ہم مرکز محور ہیں۔بنگلہ دیش سے ماسکو تک ، بیجنگ سے باکو ، تاشقند اور ریاض تک پھر موجود ہیں ، دلوں میں دھڑکتے دل کی طرح ، شریانوں میں دوڑتے خون کی مانند۔دوستوں کے سنگ ہیں اور دشمنوں کی آنکھ میں خار ببول کی طرح پیوست ۔
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں
گر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیں
کوئی شبہ نہیں کہ ریاستی ادارے انتشاری حکومت کی پھیلائی تباہ کاری کے اثرات کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو چکے،اب آگے کا سفر ہے ، وزیر اعظم کا دورہ وسط ایشیاء، آذر بائیجان اور ازبکستان کے ساتھ معاہدےاوراسلام آباد میں روسی وفود کی سرگرمیاں بتا رہی ہیں کہ پاکستان اپنی منزل کی جانب گامزن ہے ۔ تعمیر ، ترقی اور خوشحالی کے اس سفر میں بلوچستان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ، نئے منظر نامے کا سارا منصوبہ اسی کے گرد گھومتا ہے ، جہاں چین کے بعد اب سعودی سرمایہ کار پورے اعتماد کے ساتھ قدم جماتے ترقی خوشحالی کی اس جدوجہد میں پاکستان کے کندھے سے کندھا ملا ئے کھڑے ہیں ۔
تانبے اور سونے کی کان کنی کے منصوبے ریک وڈک میں 540 ملین ڈالر کی سعودی عرب کی سرمایہ کاری اور ارد گرد کے علاقوں میں معدنیات کے کئی منصوبوں میں دلچسپی اور10ارب ڈالر سے آرامکو کی آئل ریفائنری کا منصوبہ،محض ایک کاروباری اقدام نہیں ہے ، جس میں نفع ونقصان کی جمع تفریق واحد وجہ تخلیق ہے ، بلکہ یہ دفاع پاکستان کی جنگ میں سعودی عرب کی شمولیت اور پاکستان دشمن دہشت گردوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے درندوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں سرمایہ کاری نہ آئے ، ترقی نہ ہو سکے ،تاکہ زر خرید نام نہاد سرداروں اور عیاش وڈیروں کے ذریعہ سے غریب اور مجبور بلوچ نوجوانوں کو دہشت گردی کی بھٹی میں جھونکنے کا سلسلہ جا ری رہ سکے ۔ چین کے ساتھ اب سعودی سرمایہ کاری آنے سے عالمی دہشت گردوں کا یہ خواب سمجھیں بکھر گیا ۔ سعودی سرمایہ کاری دو مراحل میں مکمل ہونے جا رہی ہے ،پہلے مرحل میں 10فیصد شیئر کے لیے330 ملین ڈالر اور دوسرے مرحلہ میں اضافی 5کے لیے210 ملین ڈالر کا سرمایہ آئے گا ۔پیداوار 2028 تک شروع ہوگی اور37 سال کی متوقع مدت کے دوران ریکوڈک سے تقریباً 74 بلین ڈالر کا کیش فلو پیدا ہوگا ، جو پاکستان کی معیشت کو نمایاں طور پر تقویت دے گا ۔بلوچستان میں سعودی عرب کی شمولیت، خصوصاً سعودی کان کنی فنڈ ’’منارا منرلز ‘‘ کو متحرک کرنا اس کی سٹریٹجک دلچسپی کو واضح کرتا ہے۔اس سرمایہ کاری کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہزاروں مقامی لوگوں کے لئے براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی ،علاقائی انفراسٹرکچر مستحکم ہوگا ۔پراجیکٹ، فنڈنگ ڈویلپمنٹ اور فلاحی اقدامات سے بلوچستان کے ریونیو کا حصہ بڑھے گا ۔مقامی افرادی قوت کو بااختیار بناتے ہوئے، کان کنی کے شعبے میں مہارت کی ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ ملے گا اور معیار زندگی کو بہتر ہوگا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کے منصوبے پاکستان دشمن عناصر کے لئے موت کے پیغام سے کم نہیں ، یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں صف ماتم بچھی ہے اور سازشی پروپیگنڈہ سے ان منصوبوں کو عدم استحکام سے جوڑنےکی کوشش کی جارہی ہے جو معاشی ترقی اور سلامتی کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ دشمن حقائق کو مسخ کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور بین الاقوامی لابنگ کا استعمال کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کے خلاف سٹیک ہولڈرز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اب یہ حیلے کارگر ثابت نہیں ہو سکتے ۔ سعودی عرب کی ریکوڈک میں شمولیت، عالمی سپلائی چین میں تانبے کی طلب، بارک گولڈ کمپنی کا مغربی پس منظر، یہ سب بدلتی صورتحال کے اشارےہیں۔ اب نئے حالات میں دہشت گردوں کو بیک وقت بہت سے ملکوں کے خلاف پوزیشن لیتے بہت کچھ سوچنا پڑے گا ۔ یہ چینی پروجیکٹ نہیں ہیں جن کو ٹارگٹ ہوتا دیکھ کر زبانی مذمت کر کے دنیا دم سادھ لے گی، یہاں چین کے بعد اب سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک آرہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے مقابل کھڑے ہونے والے یہ دوست ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی دست وبازو بن رہے ہیں ۔ پھر کہنا چاہوں کہ سب اچھا کی منزل ابھی نہیں آئی لیکن نحوست کے سائے چھٹ رہے ہیں ، تنہائ میں دھکیلنے کی سازش اپنی موت آپ مر چکی ، پاکستان ایک بار پھر اپنی جغرافیائی حقیقت کے ساتھ میدان میں کھڑا ہے ، بقول علی سردار جعفری:
مستیٔ رندانہ ہم سیرابیٔ مے خانہ ہم
گردش تقدیر سے ہیں گردش پیمانہ ہم
خون دل سے چشم تر تک چشم تر سے تا بہ خاک
کر گئے آخر گل و گلزار ہر ویرانہ ہم
کیا بلا جبر اسیری ہے کہ آزادی میں بھی
دوش پر اپنے لیے پھرتے ہیں زنداں خانہ ہم
راہ میں فوجوں کے پہرے سر پہ تلواروں کی چھاؤں
آئے ہیں زنداں میں بھی با شوکت شاہانہ ہم
مٹتے مٹتے دے گئے ہم زندگی کو رنگ و نور
رفتہ رفتہ بن گئے اس عہد کا افسانہ ہم
یا جگا دیتے ہیں ذروں کے دلوں میں مے کدے
یا بنا لیتے ہیں مہر و ماہ کو پیمانہ ہم
قید ہو کر اور بھی زنداں میں اڑتا ہے خیال
رقص زنجیروں میں بھی کرتے ہیں آزادانہ ہم

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سعودی عرب کی ترقی اور رہے ہیں کے ساتھ میں بھی کے خلاف رہی ہے

پڑھیں:

افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے، وزیراعظم

اسلام آباد:

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام خطے کے مفاد میں ہے۔

تاشقند میں ازبک صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ دورہ ازبکستان پر بہترین میزبانی پر مشکور ہوں، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط روابط قائم ہیں جبکہ تعلقات کی طویل تاریخ بھی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، ازبکستان پاکستان کا قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کی خوشحالی اور ترقی ہمارا مشترکہ عزم ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ازبک صدر عملی اقدام پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے ازبکستان کو ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔ ازبکستان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتا ہوں۔ پاکستان کی ترقی کے لیے میں پرعزم ہوں اور نواز شریف کے دیے ہوئے ترقی کے ویژن پر گامزن ہوں۔ انتھک محنت اور پختہ عزم سے ہی ترقی کا سفر طے کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں؛ پاکستان ازبکستان کا تجارت دو ارب ڈالر تک لانے کا فیصلہ، ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیم کے ہمراہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، طویل ترین سفر کا آغاز پہلے قدم سے ہوتا ہے جو ہم نے اٹھایا لیا اور ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔

حکومتی اقدامات پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے 2.4 فیصد پر لے آئے ہیں اور پالیسی ریٹ میں کمی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا جبکہ معاشی شرح نمو میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے ترقیاتی ماڈل سے مستفید ہوں گے اور انتھک محنت سے پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا۔ ریولے کے ذریعے تجارت اہمیت کی حامل ہے، معدنیات کے شعبے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری یقینی بنائیں گے اور سیاحت کے شعبے میں بھی مل کر کام کریں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ازبکستان کو کراچی اور لاہور سے منسلک کریں گے، شاہراہ ریشم سے شروع تاریخی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ دونوں ممالک میں مفاہمتی یادداشتیں اور معاہدے جلد حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں سرمایہ کاری کی تزویراتی اہمیت
  • حکومت صنعتی شعبے میں ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کوشاں
  • پاکستان اور ازبکستان کی تاجر برادری تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے: شہباز شریف
  • پاکستان میں سستی توانائی کے حصول کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، وزیراعظم
  • پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہت مواقع موجود ہیں، ازبک تاجر فائدہ اٹھائیں، وزیراعظم
  • افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے، وزیراعظم
  • پاکستان کے کن شعبوں میں سعودی عرب کتنی سرمایہ کاری کر رہا ہے؟
  • 2 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدوں کو ایک ماہ میں حتمی شکل دینے پر اتفاق ہوگیا، وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان 2 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے پر اتفاق