سپہ سالار اور وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
پاکستان کی تاریخ میں ایک بار پھر فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی نے ملک کو نئی بلندیوں کی طرف گامزن کر دیا ہے۔ سپہ سالار جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی مشترکہ کوششوں کے باعث نہ صرف سکیورٹی فورسز کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ملک معاشی استحکام اور ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔ اس مثالی تعاون نے پاکستان کو ایک مضبوط اور مستحکم ملک بنانے کی راہ ہموار کی ہے۔جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف ملکی سلامتی کو یقینی بنایا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاک فوج کی کارکردگی نے اسے دنیا کی طاقتور ترین افواج میں شامل کر دیا ہے۔گلوبل فائر پاور نے دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست جاری کی ہے جس میں پاکستانی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان 0.
پی ٹی آئی کے ناکام احتجاجی مظاہرے کے دوران کچھ عناصر نے جنرل عاصم منیر کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان مظاہروں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جن پر انڈین فنڈنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ عناصر ملک کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہے لیکن پاک فوج اور عوام کی یکجہتی نے ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ پی ٹی آئی پاکستان اور ٓرمڈ فورسز کو بدنام کرنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے لیکن تقدیر کا کچھ ایسا کرنا ہوتا ہے کہ ہر حربہ ان پر ہی واپس پلٹ جاتا ہے۔ بدنامی اور بے عزتی کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ جس طرح ٹی ٹی پی ہمارے معصوم لوگوں اور فوجیوں کو شہید کر کے دہشت گردی پھیلا رہی ہے اسی طرح پی ٹی آئی پاک فوج کے خلاف زہریلی مہم چلا کر نظریاتی دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہے۔ یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے کیونکہ یہ معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ قرآن پاک میں بھی فتنے کو قتل سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔سورۃ البقرہ کی آیت نمبر191میں ارشاد ہے کہ ترجمہ: ’’اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔‘‘ یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ فتنہ اور فساد، جو معاشرے میں انتشار، بگاڑ اور امن و امان کو خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں قتل سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ فتنہ نہ صرف جسمانی نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرتی، اخلاقی اور نظریاتی بنیادوں کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔ اس لیے قرآن پاک میں فتنے کو انتہائی سنگین عمل قرار دیا گیا ہے۔فتنہ کا مطلب ہے لوگوں کو گمراہ کرنا، معاشرے میں بے امنی پھیلانا، اور اللہ کے نظام کو خراب کرنا۔ اس آیت میں فتنے کو دین کے راستے میں رکاوٹ یا فساد قرار دیا گیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ دین میں فساد اور فساد سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ یہ انسانوں کو ایمان سے منحرف کرتا ہے اور معاشرتی اور روحانی تباہی کا سبب بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے ’’قتل سے زیادہ خطرناک‘‘ قرار دیا ہے کیونکہ فتنہ انسانوں کی روحانیت اور ایمان دونوں کو متاثر کرتا ہے۔دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان اقدامات میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، صنعتی شعبے کو مضبوط بنانا، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں۔
شہباز شریف کی حکومت نے چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو بھی تیز کر دیا ہے۔ جس سے ملک میں ترقی کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ ان کی کوششوں کے باعث پاکستان کی معیشت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، ملک معاشی بحران سے نکلنے کی طرف گامزن ہے۔حال ہی میں وزیر اعظم نے آذر بائیجان اور ازبکستان کے سربراہان کی دعوت پر ان ممالک کے ہنگامی دورے کئے ہیں اور اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی کامیابی سمیٹی ہے۔ میاں شہباز شریف کے لئے اپنے سینئر صحافی دوست عاصم نصیر اور نوجوان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کی باتوں کو نقل کروں گا کہ!شہباز شریف صرف وزیراعظم نہیں بلکہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی امید ہیں ۔ آذربائیجان کا پاکستان میں مختلف شعبوں میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان وزیراعظم کی محنت کا نتیجہ ہے جو اپنی صحت کو پس پشت ڈال کر دن رات پاکستان کو قائد اور اقبال کا پاکستان بنانے کے مشن پر عمل پیرا ہیں۔ شہباز شریف نے پنجاب بدلا اور یقین ہے کہ اللہ اس شخص سے پاکستان کے لئے کام لیں گے ، پاکستان ان شااللہ ایشین ٹائیگر بنے گا اور دشمن کے تمام حربے ناکام ہوں گے پاکستان ترقی کے زینے بھی عبور کریگا اور سفارتی کامیابیاں بھی سمیٹے گا ! جنرل عاصم منیر اور شہباز شریف کی قیادت میں فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان مثالی تعاون نے پاکستان کو ایک نئی سمت دی ہے۔ دونوں قائدین کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔اگرچہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں کئی چیلنجز کا سامنا کیا ہے لیکن جنرل سپہ سالار اور وزیر اعظم کی قیادت نے ان چیلنجز کو مواقع میں بدل دیا ہے۔ مستقبل میں بھی پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان مضبوط تعلقات اور مثالی تعاون کے باعث ملک ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ مثالی کواڈنیشن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: قرار دیا گیا ہے زیادہ خطرناک شہباز شریف پاکستان کو سپہ سالار کر دیا ہے سے زیادہ کی قیادت دنیا کی ہے لیکن کرنے کے پاک فوج قتل سے کے لئے
پڑھیں:
پاکستان، ازبکستان امن، علاقائی روابط کیلئے مشترکہ وژن رکھتے ہیں: وزیراعظم
تاشقند‘ اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کی خصوصی دعوت پر 2 روزہ دورہ پر تاشقند پہنچ گئے۔ ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ عاریپوف، ازبک وزیرِ خارجہ بختیار سیدوف، تاشقند کے میئر شوکت عمرزاکوف، ازبکستان کے پاکستان میں سفیر علی شیر تختائیف اور پاکستان کے ازبکستان میں سفیر احمد فاروق سمیت اعلیٰ سفارتی و سرکاری اہلکاروں نے وزیرِ اعظم کا ائرپورٹ پر استقبال کیا۔ شہباز شریف ازبک صدر شوکت مرزیایوف سے دو طرفہ ملاقات بھی کریں گے جس میں ازبکستان اور پاکستان کے مابین علاقائی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، سلامتی، علاقائی استحکام اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ پر گفتگو ہوگی۔ دونوں رہنماؤں کے مابین باہمی دلچسپی کے عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال بھی ہوگا۔ ملاقات کے بعد پاکستان اور ازبکستان کے مابین دوطرفہ تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں پر بھی دستخط ہوں گے۔ پاکستان اور ازبکستان کی کاروباری و سرمایہ کار برادری کے مابین تعاون کو بڑھانے کیلئے تاشقند میں پاکستان اور ازبکستان بزنس فورم کا انعقاد بھی آج 26 فروری کو ہوگا جس میں وزیراعظم شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے۔ وزیرِ اعظم ازبکستان کی تعمیری صنعت کے مشاہدے کیلئے تاشقند میں قائم ٹیکنو-پارک کا دورہ بھی کریں گے۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ سرمایہ کاری و نجکاری عبدالعلیم خان، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی وزیرِ اعظم کے دورہ ازبکستان میں پاکستانی وفد میں شامل ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تاشقند میں یادگار آزادی کا دورہ کیا اور پھولوں کی چادر چڑھا کر ازبکستان کی عظیم تاریخی شخصیات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ منگل کو یادگار آزادی آمد پر وزیراعظم کو یادگار آزادی کے تاریخی پس منظر سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یادگار پر پھول رکھے۔ وزیراعظم نے ازبکستان کی تعمیر و ترقی اور غیور و محنتی ازبک عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ازبکستان میں ہوائی اڈے پر پہنچنے پر شاندار استقبال اور میرے پیارے بھائی وزیر اعظم عبداللہ عاریپوف کی طرف سے پرتپاک خیر مقدم سے دلی خوشی ہوئی۔ سوشل میڈیا سائیٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ازبکستان وسطی ایشیا کا تاج ہونے کے ناطے اپنے قدیم شہروں کی عظمت، لازوال فن اور شاندار فن تعمیر کی تاریخ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی طور پر مفید تعاون کے ذریعے دوستی کے رشتوں کو تقویت دینے کی مشترکہ خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی مصروفیات کے منتظر ہیں۔ پاکستان میں بھی سماجی بہبود کے جدید سنٹر قائم کریں گے۔ وزیراعظم نے ازبکستان کی ترقی اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزادی کی یادگار ازبک عوام کے حوصلے اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علاقائی روابط کیلئے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔ یہ دورہ مشترکہ اقداک اور روشن مستقبل کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت کا اعادہ ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے تاشقند میں یادگار آزادی کا دورہ کیا اور اس موقع پر ازبکستان کے وزیر اعظم عبداللہ عاریپوف بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ دورہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو اجاگر اور دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے ازبکستان کی ترقی اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے اس کی پاکستان کی آزادی اور ترقی کی جدوجہد کے ساتھ مماثل قرار دے دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزادی کی یادگار ازبک عوام کے حوصلے اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان اور ازبکستان امن، خوش حالی اور علاقائی روابط کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔ یادگار کے دورے کے دوران وزیر اعظم کو ازبک قوم کی 3000 سالہ تاریخ اور اس کے ہیروز کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ازبکستان دونوں ممالک کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے، دورے کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے مابین زراعت، علاقائی روابط، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوں گے، جس سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باکو میں عوامی خدمات کی فراہمی کے جدید مرکز ’’آسان خدمت‘‘ کا دورہ کیا اور عوامی فلاح و بہبود کی اس سہولت کے جدید ماڈل کو سراہا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے "آسان خدمت" کی شکل میں عوامی خدمات کی فراہمی کے اس کے جدید ماڈل کی تعریف کی جس نے دیگر ممالک کے لئے خدمات کا ایک اعلی معیار قائم کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اسلام آباد میں "خدمت مرکز" کی طرز کا ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم آذربائیجان کے سا تھ معاہدہ کر کے آپ کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ انہوں نے آسان خدمت کی ایک ٹیم کو پاکستان کا دورہ کرنے اور باہمی تعاون کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے خدمت مرکز میں قائم سٹارٹ اپس کے فروغ کیلئے قائم سنٹر (INNOLAND) کا بھی دورہ کیا۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر سرمایہ کاری و نجکاری عبدالعلیم خان، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کویت کے قومی دن اور یوم آزادی کے موقع پر امیر کویت شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح، ولی عہد شیخ صباح الخالد الحماد الصباح، وزیر اعظم شیخ عبداللہ الاحمد الصباح اور عوام کو مبارکباد دی ہے۔ وزیراعظم نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ وہ امیر کویت شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح اور وزیر اعظم شیخ عبداللہ الاحمد الصباح کو اور کویت کی حکومت کو برادر ریاست کے قومی دن اور یوم آزادی کے موقع پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پرمسرت موقع پر ہم غیر ملکی جارحیت سے آزادی کا جشن منانے میں کویتی عوام کے ساتھ ہیں۔ پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات ہماری مشترکہ تاریخ، مذہب اور ثقافت پر مبنی ہیں، ہم ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے، باہمی طور پر مفید تعاون کو بڑھانے اور علاقائی امن اور خوشحالی کے لئے کویت کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔