گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی--فائل فوٹو

گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دیکھتا ہوں کہ بلدیاتی نمائندوں کو یہ کیسے فنڈز نہیں دیتے، عید کے بعد ہم صوبائی حکومت کو دکھائیں گے کہ سول نافرمانی اور دھرنے کیسے ہوتے ہیں، یہ دیکھ لیں پھر کہ اپنا حق کیسے لیا جاتا ہے۔

پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک گیر احتجاج کس مقصد کے لیے کر رہی ہے؟ کیا اب یہ عدالتوں کے خلاف احتجاج کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ ایک شخص بار بار این آر او مانگ رہا ہے، لیکن این آر آو نہیں مل رہا، وہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہیں، ان کو عدالتوں نے سزائی ہے ہم نے نہیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کی ترجیحات صرف اپنے آقاؤں کو خوش کرنا ہے: بیرسٹر سیف

مشیرِ اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کی ترجیحات صرف اپنے آقاؤں کو خوش کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور  مولانا کے ساتھ جلسہ کریں گے تو کارکن کون سے نعرے لگائیں گے؟ جو مولانا فضل الرحمٰن کو مولانا نہیں کہتے تھے آج ان کے پیچھے نماز  پڑھ رہے ہیں۔

پی پی رہنما نے کہا کہ حقیقی پی ٹی آئی مولانا کے پاؤں پڑ  رہی ہے جبکہ سرکاری پی ٹی آئی گالیاں دے رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن زیرک سیاستدان ہیں وہ کسی کے ہاتھ آنے والے نہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا وزیر اعلیٰ جب زمینداروں سے ٹیکس لینے آئیں گے تو ہم دیکھیں گے کہ یہ ٹیکس کیسے لیتے ہیں، صوبے کے لوگوں کے اگر  چولہے ٹھنڈے ہوں گے تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

گورنر کے پی نے مزید کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کے لیے وکلاء کا پینل بنا رہے ہیں، جو ان کے کیس مفت لڑیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 20 ہزار ملازمین کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، انہیں نکالا جا رہا ہے، یہاں  نوکریاں بیچنے اور کمیشن لینے کا معمول ہے۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے کہا کہا کہ رہی ہے

پڑھیں:

گنڈاپور کو اصلاح کیلیے ایک ماہ کی مہلت، پھر ہم بتائیں گے دھرنا کسے کہتے ہیں، گورنر

پشاور:

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کو اصلاح کے لیے ایک ماہ کی مہلت ہے، پھر ہم بتائیں گے کہ دھرنا کسے کہتے ہیں۔
 

صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنکرز اور مورچے بنے۔ کیا صوبائی حکومت اتنی غفلت میں تھی کہ بنکرز بن گئے۔اس کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ بنکرز کیسے بنے۔ وزیراعلیٰ جواب دہ ہے کہ صوبے میں امن کی صورتحال کیوں خراب ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنا ضلع نہیں سنبھال سکتا، وہ صوبے کو کیسے سنبھالیں گے۔ ہماری دیکھا دیکھی وزیراعلیٰ نے اے پی سی اور علما کانفرنس بلائی۔ وزیراعلیٰ اسلام آباد کو فتح کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن 25 کلومیٹر کا روڈ نہیں کھول سکتے۔ ہماری نظریں سکیورٹی فورسز پر ہیں کہ صوبے میں امن قائم کریں۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے کسانوں پر ٹیکس لگایا، ہم نے اس کے لیے آواز اٹھائی۔ کسانوں پر ٹیکس ناقابل قبول ہے۔ عوام کو وسائل بھی نہیں دیے اور ٹیکس بھی لگا رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں کہ اصلاح کرلیں۔ پھر ہم پھر بتائیں گے دھرنا کیسے دیتے ہیں اور ہم دھرنا دے کر بتائیں گے۔ اسٹیڈیم ایک ایسے شخص کے نام پر کررہے ہیں جس نے صوبے کو دہشت گردوں کے نام کیا۔  وزیراعلیٰ کو بڑی تکلیف ہورہی ہے۔ دما دم مست قلندر عید کے بعد کریں گے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے بیٹھیں گے پھر انہیں معلوم ہوگا۔

قبل ازیں حکومت سندھ اور سندھ لوکل کونسل کی جانب سے کرم متاثرین کے لیے رمضان پیکیج گورنر  خیبر پختونخوا  کے حوالے کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کیخلاف احتجاج کا اعلان کردیا
  •  فیصل کنڈی کا عید کے بعد بلدیاتی نمائندوں کے حق میں دھرنے کا اعلان
  • گورنر کے پی کا بلدیاتی نمائندوں کے حق کیلیے احتجاجی دھرنے کا اعلان
  • گورنر فیصل کریم کنڈی کی ترجیحات صرف اپنے آقاؤں کو خوش کرنا ہے: بیرسٹر سیف
  • عمران خان مزید 10 ماہ رہا ہوتے نظر نہیں آ رہے:فیصل واوڈا کا دعویٰ
  • کے پی کی پی ٹی آئی حکومت میں سب کچھ برائے فروخت ہے: فیصل کریم کنڈی
  • عمران خان مزید 10 ماہ رہا ہوتے نظر نہیں آرہے، فیصل واوڈا کا دعویٰ
  • عمران خان مزید 10 ماہ قید رہا ہوتے نظر نہیں آرہے : فیصل واوڈا کا دعوی
  • گنڈاپور کو اصلاح کیلیے ایک ماہ کی مہلت، پھر ہم بتائیں گے دھرنا کسے کہتے ہیں، گورنر