UrduPoint:
2025-02-27@10:21:48 GMT

شام: متحارب گروہوں میں لڑائی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

شام: متحارب گروہوں میں لڑائی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 27 فروری 2025ء) اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے شام کے شمال مغربی علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں لڑائی اب بھی جاری ہے جہاں رسائی میں مشکلات حائل ہیں۔

ادارے کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ترکیہ سے امدادی قافلوں کی شام کے شہر ادلب میں آمد جاری ہے۔

گزشتہ روز 1,000 میٹرک ٹن سے زیادہ خوراک، کمبل، شمسی لیمپ اور دیگر سامان لے کر 43 ٹرک علاقے میں داخل ہوئے۔ یہ امداد عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بھیجی تھی۔

رواں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 400 ٹرک امدادی سامان لے کر شام میں آ چکے ہیں جو گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں پانچ گنا بڑی تعداد ہے۔

(جاری ہے)

تعمیرنو اور بحالی کے اقدامات

ترجمان نے بتایا کہ امدادی ادارے ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیرنو اور ضروری خدمات کی بحالی کے لیےکام کر رہے ہیں۔ شمال مغربی علاقے میں گزشتہ ماہ سے 350 گھروں کی بحالی عمل میں آ چکی ہے جبکہ دمشق اور ملحقہ دیہی علاقوں میں 700 سے زیادہ لوگوں کواپنے گھروں کی تعمیرومرمت کے لیے مدد دی گئی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران لاطاکیہ میں پانی کی فراہمی کے دو مراکز کو بحال کیا گیا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو صاف پانی میسر آیا ہے۔

جب اور جہاں سلامتی کے حالات اجازت دیں اور مالی وسائل میسر ہوں وہاں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں تاہم امدادی وسائل کے مقابلے میں ضروریات بہت زیادہ ہیں۔

حلب میں 34 تعلیمی و طبی سہولیات اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے والی تنصیبات کو سخت نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں جنہیں فوری طور پر بحالی کی ضرورت ہے۔

امداد کی رسائی میں رکاوٹیں

ترجمان نے بتایا کہ شام کے متعدد علاقوں میں لڑائی اب بھی جاری ہے جہاں مسلح گروہ اپنا تسلط جمانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان حالات میں عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں امداد کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔

مشرقی حلب میں تشرین ڈیم اور پانی کی فراہمی کے الخفسہ مرکز اور ملک کے جنوبی علاقوں میں لڑائی کے نتیجے میں انسانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ امدادی رسائی اور لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں۔

10 لاکھ پناہ گزینوں کی واپسی

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کے آغاز میں سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر شامی شہری اپنے علاقوں میں واپس آ گئے ہیں۔

ان میں 292,150 لوگوں نے شام کے ہمسایہ ممالک ترکیہ، لبنان، اردن، عراق اور مصر سے واپسی اختیار کی ہے۔

ان کے علاوہ اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے 829,490 لوگ بھی واپس آئے ہیں۔ ادارہ ایسے لوگوں کو قانونی مشاورت اور نقل وحمل میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

'یو این ایچ سی آر' نے بتایا ہے کہ ادارہ واپس آنے والے پناہ گزینوں کو زندگی بحال کرنے میں بھی مدد دے رہا ہے۔ شدید سردی کے مہینوں میں اور بجلی کی قلت کے پیش نظر لوگوں کو گرم کپڑے، پناہ گاہیں مرمت کرنے کا سامان اور دیگر امداد مہیا کی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے علاقوں میں میں لڑائی نے بتایا لوگوں کو جاری ہے شام کے کے لیے

پڑھیں:

ایرانی طیاروں کی لینڈنگ میں رکاوٹ ہماری ملکی خودمختاری کیخلاف ہے، حزب الله

لبنانی پارلیمنٹ کے اجلاس سے اپنے ایک خطاب میں محمد رعد کا کہنا تھا کہ دشمن نہ تو ہمیں شکست دے سکتا ہے اور نہ ہی ہماری عوام کو مقاومت کی حمایت سے پیچھے ہٹا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آج لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" کے سیاسی دھڑے "الوفاء للمقاومۃ" کے سربراہ "محمد رعد" نے کہا کہ حکومت کو ایرانی پروازوں میں رکاوٹ کے موضوع کے بارے میں محکم فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ ہماری قومی خودمختاری کو لاحق خطرات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے خلاف حالیہ جنگ ایک معاندانہ کوشش تھی جو امریکی سرپرستی میں حزب الله کو ختم کرنے کے لئے شروع کی گئی تھی۔ محمد رعد نے ان خیالات کا اظہار اُس وقت کیا جب پارلیمنٹ میں نئی حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لئے اجلاس جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے پہنچائے گئے نقصان کا ازالہ ہو رہا ہے تاہم شهید سید حسن نصر الله اور دیگر شہداء کے جانے کا غم کبھی مندمل نہیں ہو سکتا۔

محمد رعد نے کہا کہ ہم دشمن کے سامنے ثابت قدم رہے۔ ہم نے دریائے لیطانیہ اور پھر اس کے بعد بیروت پر دشمن کے قبضے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ دشمن نہ تو ہمیں شکست دے سکتا ہے اور نہ ہی ہماری عوام کو مقاومت کی حمایت سے پیچھے ہٹا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے خلاف صیہونی رژیم کی جنگ معاندانہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ ظالمانہ اور مجرمانہ جنگ ہے جس میں کسی قانون کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت جنگ کے مثبت و منفی نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سبق سیکھا جائے اور نئی راہیں ایجاد کی جائیں۔ حزب الله کے سیاسی دھڑے کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں قابض پالیسیوں کا مقابلہ اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تنازعہ کشمیر علاقائی امن، پاک بھارت خوشگوار تعلقات کی راہ میں بڑی رکاوٹ، حریت کانفرنس
  • پنجاب: مختلف شہروں میں 15 سو لیٹر دودھ، غیر معیاری آئل، مضرِ صحت گوشت تلف
  • کے پی میں رمضان اور عید پیکج کے تحت مستحق خاندان کو کتنی رقم ملے گی؟
  • لوئر دیر: بچوں کی لڑائی میں گولیاں چل گئیں، 3 افراد جاں بحق
  • انتہائی خوش اخلاق سمجھے جانے والے نوجوان کا ماں، دادی،بھائی سمیت قریبی لوگوں کوقتل کرنے کا لرزہ خیز انکشاف
  • مقبوضہ کشمیر، سول سوسائٹی کا بھارتی فورسز کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر اظہار تشویش
  • ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی امداد بحال
  • ایرانی طیاروں کی لینڈنگ میں رکاوٹ ہماری ملکی خودمختاری کیخلاف ہے، حزب الله
  • بجلی کے شعبے کا گردشی قرض ختم کرنے کا پلان تیار