Nawaiwaqt:
2025-02-27@09:09:06 GMT

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی،334 پوائنٹس کا اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی،334 پوائنٹس کا اضافہ

 پاکستان سٹاک ایکسچینج میں  کے ایس ای ہنڈرڈانڈیکس میں 334 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، مارکیٹ 1 لاکھ 14 ہزار 197 پوائنٹس پر ٹریڈ ہورہی ہے۔گزشتہ روز  پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے اختتام پر ہنڈرڈانڈیکس 665 پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 13 ہزار 862 پوائنٹس پر بند ہوا  تھا،سٹاک مارکیٹ میں دن بھر مجموعی طور پر 445 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا ،125 کمپنیز کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 260 کے شیئرز میں کمی ہوئی تھی۔ بازار میں  میں 64 کروڑ 1 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا ، 22 ارب 74 کروڑ سے زائد مالیت کے شیئرز کے سودے ہوئے ،مارکیٹ کی بلند ترین سطح 114،762 جبکہ کم ترین سطح 113،849 پوائنٹس رہی ۔  

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

عرب ممالک میں عدم مساوات کا خاتمہ ضروری، یو این رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 24 فروری 2025ء) اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ نے عرب ممالک میں مواقع اور بنیادی ضروریات تک رسائی میں مشکلات کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہاں 18 کروڑ 70 لاکھ افراد صحت، تعلیم، غذائی تحفظ، ٹیکنالوجی، سماجی تحفظ اور معیشت جیسے اہم شعبوں میں خود کو پسماندہ محسوس کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (اسکوا) نے سماجی انصاف کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی ہے۔

رپورٹ تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ:7 کروڑ 80 لاکھ بالغ افراد ناخواندہ ہیں۔1 کروڑ 53 لاکھ افراد بے روزگاری کا شکار ہیں۔17 کروڑ 40 لاکھ افراد بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔15 کروڑ 40 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

5 کروڑ 60 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔پسماندہ رہنے کا خطرہ

اسکوا میں شعبہ سماجی انصاف کے سربراہ اسامہ صفا نے ان تفاوتوں کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: "کسی کو پیچھے نہ چھوڑنا عدم مساوات کو تسلیم کرنے سے کہیں زیادہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

ان کو دور کرنے کے لیے ٹھوس پالیسیوں کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ اعداد و شمار واضح طور پر اشارہ کر رہے ہیں کہ جب تک کہ حکومتیں فیصلہ کن اقدامات نہیں کرتیں لاکھوں افراد پس ماندہ رہنے کے خطرے دوچار رہیں گے۔"

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایسکوا رپورٹ قومی حکمت عملیوں میں "کسی کو پیچھے نہ چھوڑنا" کے فریم ورک کو ضم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں پانچ عناصر پر توجہ مرکوز کی گئی ہے: امتیازی سلوک، سماجی اور معاشی حیثیت، حکمرانی، جغرافیہ، اور صدمات سے متاثر ہونے کا خطرہ، نیز اعداد و شمار پر مبنی پالیسیوں کو اپنانا جو باہم مربوط عدم مساوات کو مدنظر رکھیں۔

صنفی عدم مساوات

رپورٹ سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی بھی سفارش کرتی ہے۔ خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور گروہوں جیسے کہ خواتین، نوجوانوں، مہاجرین اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے اور صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک اور تشدد کے خلاف مضبوط قوانین کے ذریعے صنفی مساوات کو فروغ دینے کی سفارش کرتی ہے۔

رپورٹ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور کاروباری استطاعت کو فروغ دینے میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی پالیسیوں کو فعال کرنے پر بھی زور دیتی ہے۔

جیسے جیسے 2030 ایجنڈا برائے پائیدار ترقی قریب آ رہا ہے، رپورٹ حکومتوں اور فریقین سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے کوششیں تیز کریں اور سب کے لیے زیادہ جامع اور منصفانہ مستقبل کو یقینی بنائیں۔

متعلقہ مضامین

  • رمضان المبارک کی آمد سے قبل، پھلوں کی قیمت میں اضافہ، اینٹی کرپشن کی تحقیقات
  • وزیر اعظم شہباز شریف کے پاکستان سے زیادہ اثاثے بیرون ملک ہیں، فافن
  • سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد کمی
  • شیئرز خریداری کی فی آرڈر مالی حد میں 100فیصد اضافہ، اہم فیصلے کا نوٹس جاری
  • عرب ممالک میں عدم مساوات کا خاتمہ ضروری، یو این رپورٹ
  • جمہوریہ کانگو میں کشیدگی میں اضافہ، جنوری سے اب تک 7 ہزار سے زائد افراد ہلاک
  • سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کے نام پر 2 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
  • کانگو میں جاری کشیدگی میں اضافہ، جنوری سے اب تک 7 ہزار سے زائد افراد ہلاک
  • اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں پوائنٹس کی 2 سطحیں بحال