مصطفیٰ عامر قتل کیس: عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں پولیس کے اہم انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
مصطفیٰ عامر قتل کیس: عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں پولیس کے اہم انکشافات WhatsAppFacebookTwitter 0 27 February, 2025 سب نیوز
کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا کے بعد قتل ہونے والے مصطفیٰ عامر کے کیس میں پولیس نے ملزم ارمغان کی فرد گرفتاری اور اسلحہ برآمدگی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی، جس میں بتایا گیا کہ پولیس چھاپے کے دوران ملزم نے جدید اسلحہ سے فائرنگ کی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں مصطفیٰ عامر قتل کیس میں پولیس کی جانب سے ملزم ارمغان کی فرد گرفتاری اور اسلحہ برآمدگی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس چھاپے کے دوران ملزم نے جدید اسلحہ سے فائرنگ کی، مصطفیٰ کی بازیابی کے لیے ارمغان کے گھر پر چھاپا مارا گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس ملزم کے بنگلے پر پہنچی تو اندر موجود شخص نے دروازہ نہیں کھولا، سرکاری موبائل کی ٹکر سے گیٹ کھولا گیا اور پولیس بنگلے میں داخل ہوئی، پولیس پر جان سے مارنے کی نیت سے جدید اسلحہ سے فائرنگ ہوئی، فائرنگ سے ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور کانسٹیبل اقبال زخمی ہوئے۔
پولیس کی جانب رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملزم کو بلند آواز میں سرینڈر کرنے کے لیے کہا جاتا رہا مگر وہ وقفے وقفے سے فائرنگ کرتا رہا، ملزم باز نہیں آیا اور کافی دیر تک پولیس پر فائرنگ کرتا رہا، پولیس نے پیش قدمی کرتے ہوئے ملزم کو گھیرے میں لے کر گرفتار کیا، ملزم سے جدید اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔
ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔
ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا، بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔
ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔
بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔
دریں اثنا، 15 فروری کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عدالت میں جمع رپورٹ میں میں پولیس
پڑھیں:
مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے پر جج کے اختیارات ختم کردیے گئے
کراچی:مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے پر وزیر داخلہ سندھ کے خط کی روشنی میں ہائیکورٹ نے جج کے اختیارات ختم کردیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مصطفی عامر قتل کیس میں ملوث مرکزی ملزم ارمغان کا پولیس کو ریمانڈ نہ دینے کے معاملے پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ہائی کورٹ سندھ کو خط ارسال کیا تھا۔
وزیر داخلہ کے خط کے پیش نظر ہائی کورٹ سندھ نے ضروری احکامات جاری کیے جن کی روشنی میں محکمہ داخلہ سندھ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 1 کے جج کے اختیارات ختم کرتے ہوئے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کردیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق انسداد دیشت گردی کی عدالت نمبر 3 کو منتظم جج کے اختیارات تفویض کردیئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل کیے جانے والے نوجوان مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کا جسمانی ریمانڈ نہ دینے پر جج کے خلاف خط لکھنے کا اعلان کیا تھا۔
مصطفیٰ قتل کیس میں ملزم ارمغان اور شیراز کو عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا ہوا ہے۔