لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق 6 پاکستانیوں کی میتیں وطن واپس پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق 6 پاکستانیوں کی میتیں وطن واپس پہنچ گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 27 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 6پاکستانیوں کی میتیں وطن واپس پہنچ گئیں۔
وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیرزادہ نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر میتیں وصول کیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افسوسناک واقعے پر لواحقین کے غم میں شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 5 فروری کو پیش آنے والے سانحے نے ملک کے کئی خاندانوں کو سوگ میں ڈال دیا ہے۔ حکومت متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہرممکن سطح پر کھڑی ہے۔ تمام ضروری انتظامات کیے ہیں کہ متوفین کے جسد خاکی ان کے عزیزوں تک پہنچائے جا سکیں۔
وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ باقی جاں بحق افراد کے جسد خاکی بھی جلد وطن واپس لائیں گے۔ اسی طرح لیبیا میں زندہ بچ جانے والے 37 پاکستانیوں کی واپسی کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ وقت سبق سکھاتا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے یورپ جانے کی کوشش کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ ایسے خطرناک راستے اختیار نہ کریں اور قانونی ذرائع ہی کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کریں۔
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وطن واپس
پڑھیں:
4 شہریوں کی میتیں ملنے پر اسرائیل نے 456 فلسطینی قیدی رہا کردیے، 97 مصر جلاوطن
اسرائیل اور حماس میں قیدیوں کے تبادلے پر ایک ہفتے سے جاری ڈیڈ لاک ختم ہوگیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حماس کی جانب سے 4 اسرائیلی قیدیوں کی میتیں اسرائیل کے حوالے کردی گئیں، بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں قید 456 فلسطینیوں کو رہا کر دیا گیا، جو غزہ کے یورپی ہسپتال پہنچ گئے ہیں، 97 فلسطینی قیدیوں کو مصر جلا وطن کیا گیا ہے، اسرائیل نے مجموعی طور پر 642 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینی شہریوں کے پہنچنے پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، رہا ہونے والے درجنوں فلسطینی قیدی عمر قید اور طویل سزائیں کاٹ رہے تھے، جو اپنے اہل خانہ سے دوبارہ مل رہے ہیں۔ اسرائیل نے 97 فلسطینیوں کو مصر جلاوطن کر دیا۔
اس سے قبل حماس نے ریڈ کراس کے ذریعے 4 قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی تھیں، اسرائیل نے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں شناخت کرنے کے بعد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی بمباری میں اب تک 48 ہزار 300 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جب کہ ایک لاکھ 11 ہزار 761 فلسطینی زخمی قرار دیے ہیں، تاہم سرکاری میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد کم از کم 61 ہزار 709 بتائی ہے، اور کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کو مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کی زیر قیادت حملوں کے دوران اسرائیل میں کم از کم ایک ہزار 139 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس (اے ایس آر اے) نے خان یونس کے یورپی ہسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ صالح الحمس کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ رہا ہونے والے 456 قیدی یورپی ہسپتال پہنچے ہیں، ہسپتال کا عملہ 24 بچوں اور 2 بالغ قیدیوں کی آمد کی توقع کر رہا تھا لیکن اسرائیلی حکام نے ان کی رہائی میں تاخیر کی ہے۔
رہا کیے جانے والے قیدی انتہائی اذیت ناک حالت میں ہیں، ان میں سے کچھ مار پیٹ اور تشدد کی شدت کی وجہ سے چل بھی نہیں سکتے، زیادہ تر قیدی جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ایک کو پھیپھڑوں کے فائبروسس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے رات بھر نگہداشت میں رکھا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ رہائی پانے والے تمام قیدیوں کو خارش کی دوا دی گئی، قیدیوں کو سینے کے حصے پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔
ایک سابق قیدی ذیابیطس کی وجہ سے کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ اور دوسرا کٹے ہوئے پاؤں کے ساتھ ہسپتال آیا تھا۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اسرائیلی قیدیوں کی چاروں لاشوں کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔
شلومو منصور، اتزک ایلگارات اور احد یہلومی کی شناخت کی تصدیق ہو چکی تھی، اسرائیل نے اب ساچی عدن کی باقیات کی شناخت کی گئی ہے۔
اسرائیلی صدر نے کہا کہ قید سے ہمارے بھائیوں کی لاشوں کی واپسی اس ذمہ داری پر زور دیتی ہے کہ ہم غزہ میں قید سے اغوا ہونے والے تمام افراد کو فوری طور پر واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
یونیورسٹی آف سان فرانسسکو میں مشرق وسطیٰ کے مطالعے کے ڈائریکٹر اسٹیفن زونس کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ مکمل ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ بہت مشکل ہونے جا رہا ہے، خاص طور پر اسرائیلیوں کے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے، جنہیں انہوں نے فتح کیا ہے، مثال کے طور پر اسرائیل نے لبنان سے انخلا سے انکار کر دیا ہے، کیوں کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ وہ شام میں اپنے قبضے کو بڑھاتے رہیں۔
اسٹیفن زونس نے کہا کہ اس بات کا احساس ہے کہ نیتن یاہو سیاسی دباؤ اور انتخابات سے بچنے کے لیے جنگ کے مکمل خاتمے میں تاخیر کر رہے ہیں، یقیناً یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس بات کی کوئی توقع نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نیتن یاہو کو ’سمجھوتے‘ پر مجبور کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے، وہ شاید احتجاج کے بغیر جنگ دوبارہ شروع کریں گے، لہٰذا یہ اسرائیلی سول سوسائٹی اور عالمی دباؤ کے دیگر اقدامات پر منحصر ہوگا۔