لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق 6 پاکستانی شہریوں کی لاشیں وطن واپس پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری ) لیبیا میں کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 6 پاکستانی شہریوں کی لاشیں وطن واپس پہنچ گئیں
وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ اسلام آباد ائیرپورٹ پر میتیں وصول کیں میتیں صبح 7:30 بجے کے قریب وطن پہنچائی گئیں ۔
وطن لائی جانے والی میتوں میں مصور حسین، شعیب علی، عابد حسین، شعیب حسین، مصائب حسین کا تعلق کرم سے ہے۔
اورکزئی کے محمد علی شاہ کی میت بھی لائی گئی ۔
تمام 6 میتوں کو اسلام آباد سے انکے آبائی علاقوں میں منتقل کردیا گیا
5 فروری کو لیبیا سے سمندر کے راستے اٹلی جانے والی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا۔
حادثے میں 26 پاکستانی جاں بحق ہوگئے تھے۔
16 پاکستانیوں کی میتیں اب تک ریکور کی جا سکی ہیں۔
وزیر ہاوسنگ ریاض پیرزادہ کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک موقع پر لواحقین کے غم میں شریک ہوں۔5 فروری کو پیش آنے والے سانحے نے ملک کے کئی خاندانوں کو سوگ میں ڈال دیا۔ حکومت متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن سطح پر کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ضروری انتظامات کیے ہیں کہ متوفین کے جسد خاکی ان عزیزوں تک پہنچائے جا سکیں۔
دیگر جاں بحق افراد کو جلد وطن واپس لائیں گے۔
لیبیا میں زندہ بچ جانے والے 37 پاکستانیوں کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ وفاقی ریاض پیرزادہ نے کہا کہ یہ وقت سبق سکھاتا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے یورپ جانے کی کوشش کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے خطرناک راستے اختیار نہ کریں اور قانونی ذرائع کے ذریعے ہی بیرون ملک جانے کی کوشش کریں۔
متوفین کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ممبر بار کونسل اختر حسین نے استعفیٰ کیوں دیا؟ وجوہات سامنے آگئیں
پاکستان بار کونسل کے ممبر اختر حسین کے استعفیٰ کی وجوہات سامنے آگئیں۔
عدلیہ میں ججز کی تقرری کے طریقہ کارسے اختلاف کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے ممبر اختر حسین نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ممبر اختر حسین کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں ہونے والی تقرریوں پر شدیداعتراض تھا اس لیے عہدے سے مستعفی ہوا ہوں۔
اختر حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدلیہ میں تقرریوں کیلئے سنیارٹی کا خیال نہیں رکھا گیا اور پہلے ججز اکثریت سے تقرری کرالیتے تھے جبکہ اب حکومت اکثریت کے بل پر ججز کی تقرریاں کروا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں کسی گروپ کا نہیں بلکہ بار کا متفقہ نمائندہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے جوڈیشل کمیشن میں بھی اعتراض کیا اور اب احتجاجاً استعفی دیا۔