محکمہ تعلیم و صحت گلگت بلتستان میں مقامی چھٹیاں ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
صوبائی کابینہ کےا جلاس میں کئی ترقیاتی منصوبوں اور قانون سازی کی منظوری بھی دی گئی، جس میں واٹر یوزر ایسوسی ایشن ایکٹ 2024ء کی منظوری دی گئی، جس کے تحت گلگت بلتستان میں پانی کے مؤثر استعمال اور مینجمنٹ کے لیے ایک جدید اور جامع نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا پندرہواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، وزیر اعلیٰ کے مشیر و معاونین، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں جی بی کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور گڈ گورننس کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں کئی ترقیاتی منصوبوں اور قانون سازی کی منظوری بھی دی گئی، جس میں واٹر یوزر ایسوسی ایشن ایکٹ 2024ء کی منظوری دی گئی، جس کے تحت گلگت بلتستان میں پانی کے مؤثر استعمال اور مینجمنٹ کے لیے ایک جدید اور جامع نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اجلاس میں گلگت بلتستان آئی ٹی بورڈ 2024ء کی منظوری دی گئی جس کے تحت نئے قائم شدہ آئی ٹی بورڈ کے لیے نجی اور سرکاری شعبے سے چار (04) اراکین کا انتخاب کیا گیا، جو ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ کیڈٹ کالج کے نئے کیمپس درنگداس گوہر آباد کے لیے سیکیورٹی عملے کی بھرتی، گلگت بلتستان فنانس ایکٹ 2024ء میں ترامیم کی منظوری، جس سے ڈرائیونگ لائسنس اور کریکٹر سرٹیفکیٹ کی فیس سے متعلق ترامیم کی منظوری دی گئی، تاکہ عوام کو مزید سہولت دی جا سکے۔
کابینہ اجلاس میں بارڈر پاس کے اجراء کے لیے معیاری طریقہ کار (SOPs) کی بھی منظوری دی گئی جو گلگت بلتستان اور ہمسایہ ملک چائنا کے درمیان نقل و حرکت کو آسان اور منظم بنانے کے لیے عملی قدم ہے۔ اجلاس میں یونین کونسل تریشنگ چورت کے نام کی درستی کی منظوری سمیت، محکمہ صحت میں اسپیشلسٹ کیڈر کے لیے تین سطحی سروس اسٹرکچر کی منظوری، عوامی خدمت کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کے ملازمین کے لئے مقامی چھٹیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں متعلقہ طبی ماہرین کے لیے اینستھیزیا الاؤنس کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاؤہ شہید پل سکردو کے ساتھ فیملی پارک کا قیام، برٹش کونسل اور ہائر، ٹیکنیکل اور اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تین سینٹرز آف ایکسیلینس (SPOKE) کے قیام کا معاہدہ شامل ہیں۔ بعد ازاں معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ نے کابینہ اجلاس کے بعد میٹ دی پریس کے موقع پر کابینہ اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں جی بی میں ترقی کی نئی راہیں کھل رہی ہیں اور حکومت عوامی مفاد میں عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گلگت بلتستان عوامی فلاح و بہبود کے عزم پر قائم ہے اور ترقی کے اس سفر کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ موجودہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنا رہی ہے اور خطے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں آئی ٹی سیکٹر کی ترقی، پانی کے منصفانہ استعمال، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور تفریحی سہولیات کے فروغ کے لیے موثر پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں نہ صرف خطے کی ترقی ہو گی بلکہ عوام کو روزگار کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں کی منظوری دی گئی اجلاس میں کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پنجاب میں 100سال پرانے فوجداری قوانین تبدیل کرنے کا فیصلہ
پنجاب میں 100سال پرانے فوجداری قوانین تبدیل کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 February, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )پنجاب میں 100 سال سے زائد پرانے فوجداری قوانین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق قوانین تبدیل کرنے کے لیے قانونی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی کامران عادل کمیٹی کے سربراہ اور ایڈیشنل سیکرٹری(جوڈیشل)محکمہ داخلہ عمران حسین رانجھا سیکرٹری ہوں گے، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ قانون محمد یونس، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حسن خالد اور نمائندہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کمیٹی ممبران میں شامل ہیں۔یہ قانونی اصلاحات کمیٹی 3 ماہ میں رپورٹ محکمہ داخلہ کو پیش کرے گی۔ترجمان کے مطابق کمیٹی فوجداری قوانین کو جدید اور موثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرے گی، کمیٹی ضابطہ فوجداری 1898، تعزیرات پاکستان 1860 میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے گی۔
کمیٹی قانون شہادت آرڈر 1984 میں ترامیم اور قومی سلامتی کے قانون کا مسودہ تیار کرے گی جبکہ جرائم کی روک تھام، قانون کے مثر نفاذ امن عامہ کی بحالی سے متعلق قانونی اصلاحات لائی جائیں گی۔کمیٹی پنجاب میں خصوصا خواتین اور بچوں کے تحفظ، انسداد دہشت گردی، سائبر کرائم، سائبر سکیورٹی، بین الصوبائی رابطہ سے متعلق قوانین میں ترامیم تجویز کرے گی۔یہ کمیٹی جدید سائنسی تکنیک، قوانین اور معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ترامیم بھی تجویز کرے گی۔