5 جج متفق تھے سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا: جسٹس مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر ) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ 5 ججز متفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 1973 سے اپیلیں آنا شروع ہو جاتیں۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ مقدمے کی سماعت کی۔ سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ فوجی عدالتوں کیخلاف 5 رکنی بنچ کا ایک نہیں تین فیصلے ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے فیصلے لکھے۔ انہوں نے دلیل دی کہ تمام ججز کا ایک دوسرے کے فیصلے سے اتفاق تھا ۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ججز نے اضافی نوٹ نہیں بلکہ فیصلے لکھے تھے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تمام پانچ ججز متفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اپیل کا دائرہ محدود کر دیا تو ہماری کئی اپیلیں بھی خارج ہوجائیں گی۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ لارجر بنچ مقدمہ پہلی بار سن رہا ہوتا اس لیے پہلے فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میرا آئینی بینچ پر مکمل اعتماد ہے۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئینی بینچ آرمی ایکٹ کی شقوں کو کالعدم قرار دیے بغیر بھی سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو خود اپنا دائرہ اختیار طے کرنا ہوتا ہے۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر کوئی مزار قائد کا قبضہ مانگ لے تو کیا عدالت یہ کہے گی کسی نے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں؟ کیا سویلین کو فوجی تحویل میں دینے کا فیصلہ درست نہیں تھا، حوالگی فرد جرم عائد ہونے کے بعد ہی دی جاسکتی ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ، ملزم فرم جرم عائد ہونے سے قبل بھی ملزم ہی ہوتا ہے، مجرم نہیں بن جاتا۔ ضیاء الحق وقت کا فرعون تھا چار پانچ ججز کھڑے ہوئے کتنے لوگوں کی زندگیاں بچائی۔ جن کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوچکا ان کا دوبارہ ممکن نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں فوجی عدالت سزا دیکر اے ٹی سی کو کیس بھیج دے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا آرمی ایکٹ میں تو ایف آئی آر کا تصور ہی نہیں ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر مجسٹریٹ کسی ملزم کی فوج کو حوالگی دے تو اس ملزم کو بھی اپیل کا حق ہوتا ہے۔ فیصل صدیقی نے مؤقف اپنایا کی محض ایف آئی آر کی بنیاد پر ملزم کو فوج کی تحویل میں دینا درست نہیں۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیصل صدیقی نے کہا کہ وکیل فیصل صدیقی نے فوجی عدالت جسٹس جمال
پڑھیں:
ملٹری ٹرائل کیس:پریکٹس پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو سن 73 سے اپیلیں آ جاتیں، جج آئینی بینچ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے جج نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کے فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو سن 73 سے اپیلیں آ جاتیں۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں سویلین کے کورٹ مارشل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ کر رہا ہے۔سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ فوجی عدالتوں کے خلاف 5 رکنی بینچ کا ایک نہیں، تین فیصلے ہیں، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے فیصلے لکھے، تمام ججز کا ایک دوسرے کے فیصلے سے اتفاق تھا، فیصلے یکساں اور وجوہات مختلف ہوں تو تمام وجوہات فیصلے کا حصہ تصور ہوتی ہیں۔
دودی خان نے راکھی ساونت کو انگوٹھی پہنا دی
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ججز نے اضافی نوٹ نہیں بلکہ فیصلے لکھے تھے جبکہ جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا تمام پانچ ججز متفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔
فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل عذیر بھنڈاری نے انٹرا کورٹ اپیل کا دائرہ اختیار محدود ہونے کا مؤقف اپنایا، میں عذیر بھنڈاری کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عذیر بھنڈاری کا انحصار پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں جسٹس منصور کے نوٹ پر تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو سن 73 سے اپیلیں آ جاتیں، جس پر وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا اپیل کا دائرہ محدود کر دیا تو ہماری کئی اپیلیں بھی خارج ہو جائیں گی۔
گلوکار اسد عباس کے انتقال کے بعد اہل خانہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور
جسٹس امین الدین کا کہنا تھا فیصلہ دینے والا بینچ ہی نظرثانی اپیل سنتا ہے جبکہ انٹرا کورٹ اپیل لارجر بینچ سنتا ہے، لارجر بینچ مقدمہ پہلی بار سن رہا ہوتا ہے اس لیے پہلے فیصلےکا پابند نہیں ہوتا۔
وکیل سول سوسائٹی فیصل صدیقی کا کہنا تھا میرا آئینی بینچ پر مکمل اعتماد ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ اسی طرح دلائل دیتے رہے تو لگتا ہے آپ کو 3 ماہ سننا پڑے گا۔
فیصل صدیقی کا کہنا تھا آئینی بینچ آرمی ایکٹ کی شقیں کالعدم قرار دیے بغیر بھی سویلین کا ٹرائل کالعدم کر سکتا ہے، سیکشن 94 کے تحت کمانڈنگ افسر کو ملزمان کی حوالگی کا صوابدیدی اختیار درست نہیں۔
اروشی روٹیلا نے تامل فلموں کی کمائی میں عالیہ بھٹ کو پیچھے چھوڑ دیا
جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا پہلے دن سے پوچھ رہا ہوں اے ٹی سی جج کا ملزم حوالے کرنے کا کوئی باضابطہ حکمنامہ ہے؟ جس پر فیصل صدیقی کا کہنا تھا حکم نامہ تو ہے لیکن اس میں وجوہات نہیں دی گئیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کیا عدالت کو خود دیکھنا ہوتا ہے کہ اسے اختیار سماعت ہے یا نہیں؟ کیا لازمی ہے کہ کوئی فریق ہی دائرہ اختیار کا اعتراض کرے؟ جس پر جسٹس امین الدین نے کہا عدالت کو خود اپنا دائرہ اختیار طے کرنا ہوتا ہے۔
وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا کوئی مزار قائد کا قبضہ مانگ لے تو کیا عدالت یہ کہےگی کسی نے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں کیا؟
مداح نے اچانک راستے میں اداکارہ عالیہ بھٹ کو پکڑ لیا پھر رنبیر نے کیا کیا؟ ویڈیو وائرل
مزید :