ناظم آباد کا سسٹم ذوالفقار راہو کے سپرد،50لاکھ میں رام
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
ذوالفقار راہو نے ناظم آباد کے بلڈروں سے رابطے شروع کر دئیے ہیں جرأت میں خبروں کی اشاعت پر ڈی جی ایس بی سی اے کو بوکھلاہٹ کا شکار
ناظم آباد کا سسٹم ذوالفقار راہو کو دینے کے لئے مشتاق درانی نے ڈی جی ایس بی سی اے کو 50لاکھ روپے ہفتے پر رام کر لیا، ناظم آباد میں غیر قانونی تعمیرات کرنے والے بلڈرز نے ذوالفقار راہو سے رابطے تیز کر دیے.
ذرائع کے مطابق جرأت میں خبروں کی اشاعت نے ڈی جی ایس بی سی اے کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے ، جس کے بعد ڈی جی ایس بی سے اے نے اپنے ہی محکمے میں مخبروں کی تلاش کی ذمہ داری ڈائریکٹر ڈیمولیشن سجاد خان کے سپرد کی ہے اور ناظم آباد سے رقم جمع کرنے کی ذمہ داری مشتاق درانی کے سپرد کی ہے جس نے سسٹم کے پرانے کھلاڑی ذوالفقار راہو سے ایک میٹنگ کرکے اسے ناظم آباد میں تعیناتی دینے کا وعدہ کیا ہے، جس کے بعد مشتاق درانی نے ڈی جی ایس بی سی اے کو ذوالفقار راہو کے حوالے سے رام کر لیا ہے اور 50لاکھ روپے ہفتہ رشوت کی مد میں دینے کا وعدہ کیا ہے،
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے بعد سے ذوالفقار راہو نے ناظم آباد کے بلڈروں سے رابطے شروع کر دئیے ہیں، اس وقت ناظم آباد میں جن پلاٹوں سے ذوالفقار راہو نے تعیناتی سے قبل ہی رقم ڈی جی ایس بی سی اے اور مشتاق درانی کے نام پر وصول کی ہے، ان میں پلاٹ نمبر4/11بلاک 3Bناظم آباد اور پلاٹ نمبر 6/14بلاک 3G ناظم آباد شامل ہیں۔
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وہ کونسا شہر ہے جس کی سیوریج لائنوں میں مگرمچھ اور دیگر جانور رہتے ہیں؟
سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا کے سیوریج سسٹم میں مگرمچھ سمیت دیگر رینگنے والے اور دوسرے جانوروں کی کثرت ہوگئی ہے جو نقل و حرکت کیلئے ڈرین پائپوں کا استعمال کرتے ہیں۔
جیسے جیسے تیزی سے شہری وسعت ہورہی ہے، دنیا بھر میں جنگلی حیات انسانی ماحول کو اپنی فطری ضروریات کیلئے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
تحقیق جو جریدے ’اربن نیچرلسٹ‘ میں شائع ہوئی ہے، میں بتایا گیا ہے کہ جنگلی جانور فلوریڈا کے سیوریج سسٹم کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔
محققین نے یہ جاننے کے لیے کیمرے کا استعمال کیا کہ جنگلی انواع اس راستے کو کس طرح استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر ریاست کی کاؤنٹی الاچوا میں۔
سائنس دانوں نے شہر میں بچھے پائپوں کے جام میں جانوروں کی کُل 35 انواع دریافت کیں جو سیوریج سسٹم کو نیویگیٹ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ان میں جل تھلیائی جانور، رینگنے والے جانور اور پرندے شامل تھے۔ سیوریج سسٹم میں مگرمچھ بھی پائے گئے جو شہریوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔