WE News:
2025-02-27@06:00:05 GMT

جھوٹ کو سچ بنانے والے

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

پروپیگنڈا اس تھیوری کے تحت تخلیق ہوا تھا کہ اگر ایک ہی جھوٹ بہت سے لوگ بولیں اور بکثرت بولیں تو وہ سچ مان لیا جاتا ہے۔ تھیوری نے پریکٹیکل کا مرحلہ سر کرنا شروع کیا تو تھیوری درست ثابت ہوتی چلی گئی۔ مگر بات اتنی سادہ رہی نہیں جتنی تھیوری میں نظر آئی تھی۔ پروپیگنڈے کا ایک نتیجہ اور بھی نکلا جسے پہلے سے بھانپا نہ جاسکا تھا۔ اور یہ دوسرا نتیجہ ہی یورپ کے لیے فی الحال سزا بنا ہوا ہے۔ کوئی بھی نہ بھانپ پایا تھا کہ اگر جھوٹ ’بکثرت‘ سے بھی زیادہ بولا جائے تو خود بولنے والا اس پر یقین کر بیٹھتا ہے اور اسے سچ مان لیتا ہے۔ ہماری داخلی سیاست میں جناب عمران خان کے یوتھیے اس کی سب سے موزوں مثال ہیں۔ خان صاحب نے ملکی معیشت کا بھٹا بٹھا دیا جو دیکھتی آنکھوں نظر آرہا ہے۔ مگر یوتھیا اب بھی ایمان کی حد کو پہنچا ہوا یقین رکھتا ہے کہ عمران خان ہی پاکستان کے تمام مسائل کا حل رکھتے ہیں۔ یوتھیے کے اس یقین کی وجہ بس اتنی سی ہے کہ یہ جھوٹ جملہ یوتھیوں نے بکثرت کی حد سے بھی آگے جا کر بولا ہے۔ صورتحال اس لیول پر پہنچ گئی ہے کہ اگر خود عمران خان بھی ان سے کہہ دیں کہ بھئی میرے پاس اس ملک کے مسائل کا کوئی حل نہیں، تو یوتھیا تب بھی نہیں مانے گا کہ خان صاحب ملکی مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس والے امریکا کو اپنے کمپلیکس کے مسلسل چلتے رہنے کے لیے مستقل بنیاد پر ’دشمن‘ کی ضرورت تھی۔ دشمن ہوگا تو ہتھیار کی ضرورت بھی رہے گی۔ چنانچہ اس منصب پر پہلے سوویت یونین اور پھر روس کو مستقل فائز کردیا گیا۔ اور مسلسل یہ جھوٹ بولاگیا کہ ہمیں روس سے خطرہ ہے۔ ساتھ ہی یورپ کو دگنا ڈرایا گیا کہ آپ تو بہت ہی قریب ہیں سو پہلا خطرہ آپ کو ہی لاحق ہے۔ یوں لگ بھگ پورا یورپ ہی امریکی اسلحے کا سب سے بڑا گاہک بن گیا۔ اگر آپ غور کیجیے تو یہ جھوٹ اپنی مدت کے لحاظ سے ہی ’بکثرت‘ والی حد پار کرچکا ہے۔ چنانچہ اب یورپ خود اپنے اس جھوٹ کو یوتھیے کی سطح پر جاکر سچ مان رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یورپ کا گریہ

یوکرین کے حوالے سے یورپ کو 2 خواب بیچے گئے۔ ایک یہ کہ یوکرین 15 ٹریلین ڈالرز مالیت کے معدنیات رکھنے والا ملک ہے۔ جب یہ نیٹو ممبر بنے گا تو اس کی معدنیات ہم آپس میں بانٹ لیں گے۔ اور یہیں تک نہ رہیں گے بلکہ ہم روس کو 5 ٹکڑوں میں بانٹ کر اس کے تمام وسائل پر بھی قبضہ کرلیں گے۔ لبرل شیخ چلیوں کے یہ خواب ’یوکرین پروجیکٹ‘ کہلاتے ہیں۔ 16 برس تک یہ  خواب اس تواتر سے دیکھا گیا کہ اسے خواب نہیں بلکہ حقیقت مان لیا گیا ۔ نتیجہ دیکھیے کہ  یورپ اس پر اس حد تک یقین کرگیا کہ جب روشین گیس سپلائی بند ہونے کے نتیجے میں ان کی معیشتوں کا جنازہ اٹھنے لگا تو انہوں نے یہ سوچ کر اسے بھی خندہ پیشانی سے قبول کرلیا کہ جب بہت جلد یوکرین اور روس کے وسائل ہمارے ہی قبضے میں ہوں گے تو اس عارضی بحران کی کیا ٹینشن ؟۔ اسی یقین کا ہی تو نتیجہ ہے کہ ان ممالک نے سنگین معاشی بحران دیکھ کر بھی قدم پیچھے ہٹانے میں ذرا دلچسپی نہ دکھائی۔

یوکرین پروجیکٹ کے ہی ذرا 3 ضمنی پروپیگنڈے بھی دیکھتے جائیے جن پر خود پروپیگنڈا کرنے والے یقین کر بیٹھے۔ پہلا پروپیگنڈہ بدنام زمانہ امریکی سینیٹر جان مکین نے کچھ یوں کیا تھا ’روس ایک گیس اسٹیشن ہے جس نے ملک کا روپ دھار رکھا ہے‘۔ 2015ء میں مکین کی کہی یہ بات بھی پچھلے 10 برسوں کے دوران مسلسل اچھالی گئی۔ اور اتنی اچھالی گئی کہ روس سے پنگا لینے والے یہی بھول گئے کہ روس گیس اسٹیشن نہیں بلکہ دنیا کی دوسری بڑی سپر طاقت ہے۔ اور یہ میدان جنگ میں اتنی غیر متزلزل طاقت ہے کہ جب یہ سپر طاقت نہ تھا تب بھی اس نے 19 ویں صدی میں نپولین کا یہ حال کردیا تھا کہ وہ اپنی فوج چھوڑ کر میدان جنگ سے فرار ہوگیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ 20ویں صدی کے وسط میں دوسری جنگ عظیم دوران اس نے 2 کروڑ 70 لاکھ افراد کی قربانی دے کر برلن فتح کرلیا تھا۔ سو یوکرین جیسا پدی ملک اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔

یوکرین پروجیکٹ کا دوسرا ضمنی پروپیگنڈا وہ تھا جو 2022ء میں خدا جانے کیا سونگھ کر یورپین یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے کیا۔ موصوف نے عجیب سرمستی کے عالم میں فرمایا ’یورپ ایک خوبصورت باغ ہے۔ اور اس باغ سے باہر جو بھی ہے وہ جنگل ہے۔ ہمارے باغ کو جنگل سے خطرہ ہے‘۔ تکبر ہمیشہ ہی گلے پڑتا ہے مگر یہ تکبر تو کچھ زیادہ ہی جلد گلے پڑ گیا۔ سال بھی نہ گزرا تھا کہ جوزف بوریل کا باغ اسی لوڈ شیڈنگ کا شکار ہوگیا جو لوڈشیڈنگ جنگل کے ایک حصے پاکستان میں ہوا کرتی تھی۔ اور باغ جیسے یورپ کا سب سے بڑا صنعتی ملک جرمنی ڈی انڈسٹرلائزیشن کا شکار ہوگیا۔

یوکرین پروجیکٹ کا تیسرا ضمنی پروپیگنڈہ یورپین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈرلین نے کچھ یوں فرمایا ’ہماری پابندیوں کے نتیجے میں روس کا برا حال ہے۔ وہ واشنگ مشینوں سے چپس نکال کر میزائلوں میں لگانے پر مجبور ہے‘۔ اگر آپ کو ہمارے کہے پر یقین نہیں تو یہ سارے پروپیگنڈے یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ ارسلا اس ملک سے متعلق یہ دعویٰ کر رہی تھیں جو خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے والا ہی نہیں بلکہ انسان بھیجنے والا بھی پہلا ملک ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس پروپیگنڈے پر بھی اس حد تک یقین کرلیا گیا کہ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں بتا رہے ہیں کہ روس ایک بڑی سپر طاقت ہے۔ اس کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکتا۔ یوکرین جنگ ہار چکا، اس کا نیٹو ممبر بننے کا کوئی امکان نہیں۔ اور یہ کہ امریکا روس کے ساتھ تجارتی تعلقات کا آغاز کرنے جا رہا ہے، تو یورپ اس بات پر یقین کرنے کو تیار ہی نہیں۔ یورپ کے نزدیک اب بھی سچ یہی ہے کہ روس دشمن ہے۔ روس ایک گیس اسٹیشن ہے جس نے ملک کا روپ دھار رکھا ہے۔ یورپ ایک باغ ہے اور باقی دنیا جنگل۔ اور یہ کہ روس واشنگ مشینوں سے چپس نکال کر میزائلوں میں نصب کرنے پر مجبور ہے۔ لہٰذا اس کی شکست تو طے ہے۔

مزید پڑھیے: امریکی میڈیا، سچ اور معاشرتی علوم

اپنے طویل پروپیگنڈے کے سحر سے نہ نکل پانے کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ اب بھی اس ضد پر کھڑے ہیں کہ انہوں نے گیس اسٹیشن یعنی روس پر قبضہ کرنا ہے۔ یہ شدید قسم کی حیرت میں مبتلا ہیں کہ آخر ڈونلڈ ٹرمپ اس گیس اسٹیشن کے مالکان سے بات چیت کیوں کر رہے ہیں؟ اور حواس ان کے ایسے منتشر ہیں کہ جس سانس میں روس سے جنگ جاری رکھنے کی بات کرتے ہیں اسی سانس میں یہ بھی کہہ بیٹھتے ہیں کہ مذاکرات کی میز پر ہماری کرسی کیوں نہیں ؟ امریکا ہی نہیں روس بھی اس سوال کا بہت سادہ سا جواب دیتے ہیں، دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ بات چیت ہم دونوں ممالک کے باہمی امور سے متعلق ہو رہی ہے۔ اس سے یورپ کا کیا لینا دینا ؟ آپ اس جوابی سوال کی گہرائی سمجھ رہے ہیں ؟ امریکا ہی نہیں روس بھی درحقیقت یورپ سے یہ کہہ رہا ہے کہ مفادات بس سپر طاقتوں کے ہوتے ہیں، چمچوں کا کچھ نہیں ہوتا۔ چمچوں کو تو بس فالو کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو لگے کہ ہم مبالغہ کر رہے ہیں تو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی اس چٹکی کا لطف لے لیجیے جو اسی مسئلے پر انہوں نے یورپ کو بھری ہے۔

مارکو روبیو نے کہا، یورپ کو بھی مذاکرات کی میز پر سیٹ دی جائے گی۔ کیونکہ جب بات چیت کے نتیجے میں ہم روس پر عائد اپنی پابندیاں اٹھا لیں گے تو پیچھے یورپین پابندیاں رہ جائیں گی۔ تب ہم انہیں بلائیں گے اور میز پر بٹھائیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کے اس ارشاد کا سیاسی ترجمہ یہ ہے کہ جب ہم سارے فیصلے کرلیں گے تو پھر یورپ کو بھی کمرے میں بلا لیں گے اور ان سے پوچھیں گے، ہاں بھئی آپ لوگ پابندیاں کب اٹھا رہے ہیں؟ خود ہی سوچیے امریکی پابندیاں اٹھنے کے بعد یورپین پابندیاں برقرار رہ پائیں گی؟ امریکی پابندیاں اٹھنے کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ امریکا اور روس باہمی تجارت کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یورپ کے پاس کیا آپشن ہوگی؟ امریکا پر بھی پابندیاں لگائے گا ؟ذرا اس پہلو سے سوچیے کہ یوکرین کی جنگ میں معاشی نقصان کس کا ہوا ہے؟ امریکا کو تو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ اس کے بس ساڑھے 300 ارب ڈالر ہی خرچ ہوئے ہیں۔ روس کو تو نقصان کی بجائے فائدہ ہوا ، اور وہ بھی غیر معمولی۔ اس کی معیشت نے اس عرصے میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔جبکہ بیڑا صرف یوکرین اور یورپ کا غرق ہوا ہے۔ ایسے میں امریکا اور روس یورپ کے کسی دباؤ میں آئیں گے؟ یہ دونوں ہی ممالک یورپ سے بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ نہیں اٹھانی پابندیاں تو مت اٹھائیے، بھگتیے نتائج۔

ذرا صورتحال کا  یہ دلچسپ پہلو دیکھیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے ایک روز قبل تک یورپ یہ کہتا رہا کہ ویلادیمیر پیوٹن تنہا ہو گیا۔ اور صرف ایک ماہ بعد کی صورتحال یہ ہے کہ 24 فروری کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یوکرین نے روسی حملے کے 3 سال مکمل ہونے پر ایک مذمتی قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والے ممالک میں امریکا، روس، جنوبی کوریا اور ہنگری قابل ذکر ہیں۔ کسی نے تصور بھی کیا تھا کہ یوکرین کے مسئلے پر امریکا، روس اور جنوبی کوریا ایک ہی کیمپ میں ہوں گے؟ صرف یہی نہیں، اسی روز سلامتی کونسل میں امریکا نے جنگ کے جلد خاتمے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے 3 بڑے ممالک امریکا، روس اور چین تھے۔ جبکہ برطانیہ اور فرانس سمیت 5 یورپین ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ذرا سوچیے تنہا کون ہوا؟ اگر امریکا ہی اس مسئلے پر گلوبل ساؤتھ سے جا ملا ہے تو یورپ کے پاس بچا کیا؟

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ اور ڈونلڈ ٹرمپ کا قالین

ایک اور نہایت دلچسپ چیز دیکھیے۔ تقریباً ہفتہ ہونے کو ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو ڈکٹیٹر قرار دیا۔ 3 روز قبل فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی موجودگی میں فرانسیسی صحافی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا، کیا آپ پیوٹین کو ڈکٹیٹر مانتے ہیں؟ ٹرمپ نے نفی میں جواب دے کر میکرون کو جس طرح بدمزا کیا وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یوکرین کی جنگ سے نکلنے میں یورپ کو کوئی مشکل پیش آنی ہے؟ قطعاً نہیں، بلکہ فائدہ ہوسکتا ہے۔ روس سے اس گیس کی سپلائی کھل سکتی ہے جس سے ان کی معیشتوں کی حیات جڑی ہے۔ تو پھر مشکل کیا ہے؟ مشکل یہ ہے کہ یورپ اپنے جھوٹے پروپیگنڈوں سے نجات حاصل نہیں کر پا رہا۔ انہیں یورپین یوتھیے سمجھنا غلط نہ ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

امریکا جھوٹ بکثرت جھوٹا بیانیہ جھوٹا سچ روس یورپی یوتھیے یورپین یوتھیے یوکرین.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا جھوٹ بکثرت جھوٹا بیانیہ جھوٹا سچ یوکرین ڈونلڈ ٹرمپ گیس اسٹیشن نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہی نہیں رہے ہیں یورپ کا یورپ کو یورپ کے بھی اس گیا کہ تھا کہ اور یہ کے لیے بھی نہ کہ روس رہا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

یوکرین جنگ کے معاملے پر یورپی یونین کی امریکا کو شکست

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ووٹنگ ان یورپی ممالک کی فتح تھی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں روس کے ساتھ امریکی پیش کش پر فکرمند تھے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں یو کرین کے معاملے پر یورپی یونین نے امریکا کو شکست سے دو چار کردیا۔ یوکرین پر روس کے حملے کے 3 سال مکمل ہونے کے موقع پر تیار کی گئی قرارداد پر اقوام متحدہ کی ووٹنگ میں امریکا نے حصہ نہیں لیا، کیونکہ جنرل اسمبلی نے واشنگٹن کی تیار کردہ قرارداد کے متن میں کیف کی حمایت کرنے والے الفاظ شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ووٹنگ ان یورپی ممالک کی فتح تھی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں روس کے ساتھ امریکی پیش کش پر فکرمند تھے۔

اصل امریکی مسودہ 3 پیراگراف پر مشتمل تھا جس میں روس-یوکرین تنازع کے دوران ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا، اور اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنا اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنا ہے، اور تنازع کے فوری خاتمے اور دیرپا امن پر زور دینا ہے۔ لیکن یورپی ترامیم میں روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کی ضرورت کا حوالہ دیا گیا اور یوکرین کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

متعدد قراردادوں میں روس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یوکرین سے اپنی افواج واپس بلا لے۔ قائم مقام امریکی سفیر ڈوروتھی شیا نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ یہ قراردادیں جنگ کو روکنے میں ناکام رہی ہیں، ہمیں ایک قرارداد کی ضرورت ہے جو اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کی جانب سے جنگ کے پائیدار خاتمے کے عزم کی نشاندہی کرے۔ امریکا کی جانب سے تیار کردہ ترمیم شدہ قرارداد کے حق میں 93 ووٹ پڑے جبکہ 73 ریاستوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ امریکا قرارداد کا اپنا متن پیش کرتے ہوئے یوکرین اور یورپی اتحادیوں کے خلاف کھڑا ہوگیا جنہوں نے گزشتہ ایک ماہ تک اپنی قرارداد پر مذاکرات کیے، قرارداد کے حق میں 93 ووٹ ڈالے، جب کہ 18 ووٹ مسترد ہوئے جبکہ 65 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

متعلقہ مضامین

  • مسلم بچوں کو سائنسداں بنانے والے یوگی آدتیہ ناتھ کا بیان ناقابل اعتبار ہے، اپوزیشن
  • یوکرینی صدر واشنگٹن میں معاہدہ کریں گے، ٹرمپ کا حیران کن انکشاف
  • سلامتی کونسل نے امریکا کی روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق قرارداد منظور کرلی
  • امریکا اورفرانس کے صدور کی ملاقات‘ یوکرین روس جنگ پر اختلاف کا اظہار
  • یوکرین جنگ کے 3 سال مکمل ہونے پر کیف میں یورپی ممالک کا اجلاس
  • یوکرین جنگ کے معاملے پر یورپی یونین کی امریکا کو شکست
  • اقوام متحدہ میں یوکرین جنگ پر روس کی حمایت کیلیے امریکی قرارداد مسترد
  • سمندر کے راستے شہریوں کو یورپ بھجوانے والے 2 انسانی اسمگلرز گرفتار
  • یوکرین جنگ: یورپی یونین اور امریکا آمنے سامنے، اقوام متحدہ میں آج اہم ووٹنگ