پاکستان پیپلز پارٹی پیکا ایکٹ کے حقیقی مسودے کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہے
پیکا کو سب سے پہلے عمران خان نے لانے کی کوشش کی، چیئرمین پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پیکا کا حقیقی مسودہ انتہائی خوفناک تھا، ہماری کوششوں سے ایکٹ میں کئی ترامیم کی گئیں۔آکسفورڈ یونین سے خطاب کے بعد ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ پیکا کا حقیقی مسودہ انتہائی خوفناک تھا اور اس کو سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان نے لانے کی کوشش کی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ہی محنت اور کوششوں کی وجہ سے ہی پیکا ایکٹ میں کئی ترامیم کی گئیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پیکا ایکٹ کے حقیقی مسودے کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہے ، پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ، پاکستان میں جمہوریت مضبوط نہیں، دیگر ممالک کو بھی جمہوریت سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے ، پیپلزپارٹی کا میثاق جمہوریت میں اہم کردار تھا۔

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا

پڑھیں:

محبوبہ مفتی مقبوضہ کشمیر میں شراب پر پابندی کی دستخطی مہم میں شامل ہوئیں

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس جس کے پاس 50 ارکان اسمبلی اور دو ارکان پارلیمنٹ ہیں، دفعہ 370 اور 35A سمیت اہم مسائل پر مضبوط موقف اختیار کرے اور ان پر کھل کر بات کرنے سے گریز نہ کرے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے مارشل لاء جیسے حالات پیدا کرنے پر ریاستی اسمبلی کے سپیکر عبدالرحیم راتھر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسمبلی کے اسپیکر کا کردار ایوان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ اس میں رکاوٹیں پیدا کرنا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک تجربہ کار سیاست دان ایک آئینی عہدے پر فائز ہوتے ہوئے ایک قسم کا مارشل لاء نافذ کر رہے ہیں۔ دریں اثناء محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی کے حوالے سے پارٹی کی دستخطی مہم میں حصہ لیا۔ اس مہم کا آغاز ان کی بیٹی اور پارٹی لیڈر التجا مفتی نے گزشتہ روز کیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ان کی پارٹی کی طرف سے لائے گئے بلوں کی حمایت کریں اور علاقے میں ایسے کاروباری ضوابط نہ بنائیں جن سے 5 اگست 2019ء کے غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلوں پر منظوری کی مہر ثبت ہو جائے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جس کے پاس 50 ارکان اسمبلی اور دو ارکان پارلیمنٹ ہیں، دفعہ 370 اور 35A سمیت اہم مسائل پر مضبوط موقف اختیار کرے اور ان پر کھل کر بات کرنے سے گریز نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بڑے مسائل کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ اگر 2019ء میں کوئی غلط اور غیر آئینی فیصلہ کیا گیا تو کاروباری قوانین کو اس طرح سے نہیں بنایا جانا چاہیے جس سے ایک عوامی حکومت کے ذریعے اس فیصلے کو جائز قرار دیا جائے۔ انہوں نے سیاحت، نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور منشیات کے استعمال جیسے مسائل پر بات چیت کے فقدان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنمائوں کو ان مسائل سے بچنے کے بجائے ان کو حل کرنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کیلئے آصف زرداری کا بلاول کیساتھ پنجاب میں بیٹھنے کا اعلان
  • پیکا کا حقیقی مسودہ انتہائی خوفناک تھا، ہماری کوششوں سے ایکٹ میں کئی ترامیم کی گئیں، بلاول بھٹو
  • پیکا کا حقیقی مسودہ انتہائی خوفناک تھا، ہماری کوششوں سے اس میں کئی ترامیم کی گئیں، بلاول بھٹو
  • پیکا قانون آئیڈیل نہیں لیکن اپنی مجوزہ شکل سے بہتر ہے، بلاول بھٹو زرداری
  • پیکا قانون ابتدائی تجویز پر منظور نہیں ہوا: بلاول بھٹو
  • ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے: بلاول بھٹو 
  • ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے: بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ بار کا پیکاایکٹ واپس لینےکا مطالبہ
  • محبوبہ مفتی مقبوضہ کشمیر میں شراب پر پابندی کی دستخطی مہم میں شامل ہوئیں