کورنگی کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل سرگرمیوں پرپابندی
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
ڈی جی ایس بی سی اے پیش، سندھ ہائی کورٹ کا کارروائی نہ کرنے پر اظہار برہمی
آئندہ سماعت سے پہلے میکنزم فعال ہوجائے گا،ڈی جی کی عدالت کو یقین دہانی
سندھ ہائیکورٹ میں کورنگی کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل سرگرمیوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے کمرشل سرگرمیاں فوری بند کرانے کا حکم دے دیا ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر سندھ عدالت میں پیش ہوئے ۔سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کے پاس شکایت جلد نمٹانے کا کیا میکنزم اور ایس او پیز ہیں؟ جس پر ڈی جی ایس بی سی اے نے جواب دیا کہ شکایت جلد نمٹانے کیلئے ہمارے پاس ابھی تک ایس او پیز نہیں ہیں ۔ اسمارٹ کمپلینٹ میکنزم بنارہے ہیں ۔ ڈی جی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت سے پہلے میکنزم فعال ہوجائے گا ۔ جس پر عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا اور حکم دیا کہ ڈی جی ایس بی سی اے آئندہ سماعت پر ایس او پیز ڈرافٹ پیش کریں اور ایس او پیز میں بتائیں کہ شکایت کو حل کرنے کیلئے کتنا وقت درکار ہوگا اور شکایت سے منسلک جائے وقوعہ کا دورہ کون کرے گا ۔ یہ تمام چیزیں ایس او پیز کا حصہ ہونا چاہئیں ۔سندھ ہائیکورٹ نے مزید سماعت گیارہ مارچ تک ملتوی کردی
.ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بھارتی کامیڈین منور فاروقی پر ایک اور مقدمہ درج، اب کیا کردیا؟
کامیڈین منور فاروقی اپنے شو ”ہفتہ وسولی“ میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں قانونی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایڈوکیٹ امیتا سچدیوا نے اپنے X اکاؤنٹ پر شکایت کی ایک کاپی شیئر کی، جس میں کہا گیا کہ شو فحاشی کو فروغ دیتا ہے اور مختلف مذاہب کی توہین کرتا ہے۔
شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ شو ثقافتی اقدار کی خلاف ورزی کرتا ہے اور نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ وکیل نے آئی ٹی ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت ایف آئی آر کی درخواست کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس کے ساتھ ہی ہندو جنجاگرتی سمیتی نے بھی شو پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق شو میں نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے، جو عوامی سطح پر ناقابل قبول ہے۔
واضح رہے کہ یہ پوڈ کاسٹر رنویر الہ آبادیہ کے انڈیاز گوٹ لیٹنٹ پر تبصرے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں ’والدین کے جنسی تعلقات‘ پر ان کے تبصروں نے بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا۔ مذکورہ ایپی سوڈ میں موجود رنویر، سمے رائنا اور دیگر متاثرین کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔