Juraat:
2025-02-27@01:27:17 GMT

مقبوضہ کشمیرسے مسلم لٹریچر کی ضبطگی

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

مقبوضہ کشمیرسے مسلم لٹریچر کی ضبطگی

ریاض احمدچودھری

سری نگر، مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی پولیس نے اسلامی تعلیمات کیخلاف ایک اور کارروائی کرتے ہوئے مختلف کتاب خانوں، دکانوں اور مراکز پر چھاپے مار کر اسلامی کتب ضبط کرنا شروع کردی ہیں، جن کتابوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان میں جماعت اسلامی کے بانی، مرحوم سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تصانیف سرِفہرست ہیں۔ یہ اقدام درحقیقت اس وسیع منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کے ذریعے کشمیر کی اسلامی شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
زمینوں پر قبضہ، ترقی کے نام پر آبادی کے تناسب میں تبدیلی، غیر کشمیری ہندوؤں کو ڈومیسائل جاری کر کے کشمیر میں آباد کرنا، اور اب اسلامی کتابوں پر پابندی،یہ سب ایک گہری سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ہندو انتہا پسندوں کے دباؤ پر، بھارتی حکومت کشمیر کا نام تک تبدیل کرنے کے عزائم رکھتی ہے، جیسا کہ ہندوستان کے دیگر شہروں کے اسلامی نام تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ سید مودودی کی کتب پر پابندی لگائی گئی ہو، سعودی عرب، ہندوستان اور دیگر کئی ممالک میں ان کی تحریریں پہلے ہی ممنوعہ قرار دی جا چکی ہیں، جیسا کہ سید قطب شہید اور محمد قطب سمیت دیگر مصنفین کی کتب پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں اسلامی طرزِ حکومت، سیاسی اسلام اور اسلامی دستور کے حق میں فکر انگیز مباحث پائی جاتی ہیں، جو استعماری اور ظالمانہ حکومتوں کیلئے ایک چیلنج بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کتابوں کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کیخلاف اقدامات کسی ایک پہلو تک محدود نہیں رہے۔ عدالتی فیصلے، حکومتی نوٹیفیکیشنز اور مختلف سازشی ہتھکنڈوں کے ذریعے اسلامی شعائر اور شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ان اقدامات کیخلاف مسلمانوں کی جانب سے کوئی متفقہ اور مؤثر مزاحمت دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ شاید ابھی مسلمان اس سنگین سازش کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے کہ ان کا انجام کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے ایک بیان میں منوج سنہا کی زیرقیادت ہندوتوا حکومت کی طرف سے اسلامی لٹریچر کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد سکولوں میں ہندوتوا نظریہ مسلط کرکے مقبوضہ کشمیر کے اسلامی تشخص کو تبدیل کرنا ہے۔
بھارتی پولیس نے سرینگر میں کتب فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 6 سوسے زائد دینی کتب ضبط کر لیں۔ ضبط شدہ تصانیف میں جماعت اسلامی کے بانی ابوالاعلیٰ مودودی، امین احسن اصلاحی اور تحریک آزاد ی کشمیر کے معروف قائد سید علی گیلانی شہید کی تصانیف شامل ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن روح اللہ مہدی نے بھی کتابوں کی ضبطی کو کھلا ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے اسکی مذمت کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی نے کہا کہ اب مقبوضہ جموں وکشمیرمیں معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بھارتی پولیس کی طرف سے اسلامی لٹریچر کے خلاف جاری کریک ڈائون کی مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے کہا کہ یہ اقدام ہندوتوا کی ذہنیت کا عکاس ہے جو مسلمانوں کی شناخت، تاریخ اور ثقافت کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے سکول بچوں کو صبح کی اسمبلیوں میں بھارت کاقومی ترانہ گانے کے لئے مجبور کرنے پر مودی حکومت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حکم نامے کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعلیمی اداروں کے خلاف بی جے پی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے۔بی جے پی کی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے تمام اسکولوں کو صبح کی اسمبلیوں میں بھارت کاقومی ترانہ گانے کا حکم دیا ہے تاکہ کشمیری مسلمان طلبا کو اپنے مذہبی اور ثقافتی ورثے کو ترک کرنے پر مجبورکیا جائے۔حریت ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد علاقے کی مسلم شناخت کو مٹانا اور مسلم اکثریت والے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ہندوتوا نظریہ مسلط کرنا ہے۔
1937ء میں ہونیوالے انتخابات کے بعد کانگریس نے کئی صوبوں میں اپنی حکومتیں قائم کیں تو انہیں اپنے انتہاپسندانہ نظریات مسلمانوں پر مسلط کرنے کا موقع میسر آگیا، اسی تناظر میں ایک حکمنامہ کے تحت تمام سکولوں میں بندے ماترم گانا لازمی قرار دے دیا جس کی قائداعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے شدید مزاحمت کی تھی۔ مسلمان اس فیصلہ کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ بندے ماترم بت پرستی کا شاہکار اور مجموعی طور پر مسلمانوں کیخلاف اعلان جنگ ہے۔ ”بندے ماترم” ایک نفرت انگیز گیت ہے۔ اس کا پس منظر ایک ایسے ڈرامے سے جڑا ہوا ہے جس میں مرکزی نظریہ مسلمانوں کی مسجدوں کو برباد کرنا اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔ یہ ان انتہا پسند ہندو تنظیموں کا نعرہ بھی رہاجو خانہ کعبہ پر قبضہ کر کے وہاں ”اوم” لکھنا چاہتے تھے۔ اس میں درگا دیوی کو ماں کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے بنیادی عقائد کے خلاف ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے خبردار کیا ہے کہ خصوصی حیثیت کی منسوخی، زمینوں اورجائیدادوں پر قبضے اور مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنے سمیت کشمیرمخالف اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بقاء کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے تمام برادریوں پر زور دیا کہ وہ ان خطرات کے خلاف متحد ہو جائیں انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے لیے علیحدہ بستیوں کے قیام کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا۔

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مسلمانوں کی کرتے ہوئے شناخت کو کے خلاف

پڑھیں:

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کیخلاف احتجاج کا اعلان کردیا

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کیخلاف احتجاج کا اعلان کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 February, 2025 سب نیوز

پشاور:گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی وفاق سے خیبرپختونخوا کو پانی کا حصہ نہ دینے کی شکایت کردی۔
پشاور ہائیکورٹ بار روم میں وکلا سے خطاب میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد دھرنے بھی ہونگیں اور دمادمست قلندر بھی ہوگا، بھر ہم بتائیں گے کہ صوبائی حکومت کسانو ملازمین اور بلدیاتی نمائندوں کو کیسے حق نہیں دیتی، ہم ان کو رلائیں گیں اور ان سے اپنا حق بھی لیں گیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کرنے سے پہلے اپنی جماعت کے اندر اتحاد پیدا کرلے، صوبے میں بد انتظامی اور کرپشن کی انتہا ہے، ملازمتوں اور ٹی ایم ایز کی خرید و فروخت کو پہلے ٹھیک کریں، یہ انجمن فارغان ہیں،انکو کرنے دیں جو کرتے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں آج پہلی دفعہ بار سے خطاب کر رہا ہوں، میرے کئی فیملی ممبرز کا ججز اور وکلا برادری سے تعلق ہے، آج فخر ہے کہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں، پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے قربانی دی اور ملک کو آئین دیا، 18 ویں ترمیم پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاس کرائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پانی کے شیئر کا حصہ نہیں ملا، صوبے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے، دن دیہاڑے ایک گروپ کسی کو بھی اُٹھا لیتا ہے، شہریوں کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، کرم اور ضم اضلاع کے حالات دن بدن بتر ہو رہے ہیں، سیاسی اختلافات بھلا کر صوبے کے لئے کام کرنا ہو گا، ہم صوبے کی کامیابی اور ترقی چاہتے ہیں، سب سے سستی بجلی ہمارے صوبے میں پیدا ہو رہی ہے، سب سے بڑا ڈیم ہمارے صوبے میں ہے، بجلی اور گیس کی پیداوار ہمارے صوبے میں ہو رہی ہے لیکن سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ بھی یہاں ہو رہی ہے، 2009 کے بعد صوبے میں این ایف سی ایوارڈ نہ ہو سکا۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ افغانستان کو چند سالوں میں ایک سوپر پاور طاقت فتح کرتا ہے، جب افغانستان اسلحہ وہاں چھوڑ جاتا ہے تو وہ اسلحہ ہماری فورسز پر استعمال کیا جاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں، بارڈر کھلنے سے بہت سارے کاروبار بہتر ہو جائیں گے، ہمارے صوبے میں بہت سارے وسائل موجود ہیں، گورنر ہاؤس کے دروازے وکلا کے لیے کھلے ہیں، وزیر اعظم کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے یہاں کا بھی دورہ کریں، وزیر اعظم یہاں آکر ہماری مشکلات دیکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ، امیر مقام
  • گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کیخلاف احتجاج کا اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر، سول سوسائٹی کا بھارتی فورسز کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر اظہار تشویش
  • اقراء یونیورسٹی کراچی میں ”مقبوضہ کشمیر میں فوجی جماؤ اور ماحولیاتی مسائل” کے عنوان سے سیمینار
  • مقبوضہ کشمیر کی زمینی صورتحال بھارتی وزیر داخلہ کے دعوئوں کے بالکل برعکس ہے
  • بھارتی اسمبلی میں مسلمانوں کو ملی 90 سال پرانی روایت ختم
  • کشمیر پر مسلمانوں کی خاموشی کشمیریوں کے مستقبل کیلئے سنگین خطرہ ہے، علامہ جواد نقوی
  • محبوبہ مفتی مقبوضہ کشمیر میں شراب پر پابندی کی دستخطی مہم میں شامل ہوئیں
  • تحریکِ انصاف نے سفارتی دہشت گردی شروع کر رکھی ہے، احسن اقبال کا الزام