Express News:
2025-02-26@23:15:59 GMT

یوکرین روس متوقع جنگ بندی، مثبت پیش رفت

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت کے تین برس مکمل ہونے کے موقعے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یوکرین کے مسئلے پر پیش امریکی قرارداد منظورکر لی۔ قرارداد میں تنازعے کے فوری خاتمے کی اپیل کی گئی اور روس اور یوکرین کے درمیان دیرپا امن پر زور دیا گیا۔ چین، امریکا، روس اور پاکستان سمیت 10 ممالک نے قرارداد کی حمایت کی۔ مذکورہ قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش امریکی قرارداد کے مطابق ہے۔

اس وقت عالمی تنازعات میں ایک حل طلب مسئلہ روس یوکرین جاری جنگ کا خاتمہ ہے،کیونکہ اس جنگ کے عالمگیر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو اب تین برس ہوچکے ہیں، جس میں60 ہزار سے زائد یوکرینی اور روسی شہری اور فوجی ہلاک، جب کہ یوکرین میں شہرکے شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوچُکے ہیں۔

روس کے صدر، ولاد میر پیوتن نے فروری 2022 میں اپنی فوجوں کو یوکرین پر حملے کا حکم دیا تھا۔ اس تین برس کی جاری جنگ کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک طوفان آیا ہے، جس نے دنیا بَھر کے لوگوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ غریب ممالک کے عوام تو اس تباہی میں پِسے ہی، امیر ممالک کے شہری بھی توانائی، خوراک اور دوسری اشیائے صَرف کی آسمان سے چھوتی قیمتوں سے اب تک نجات نہیں پاسکے۔ روس یوکرین جنگ میں توانائی کی ڈیمانڈ، سپلائی اور قیمتوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔

 روس کے ساتھ جنگ کے تین برس مکمل ہونے کے موقع پر یوکرین نے یورپی رہنماؤں کی میزبانی کی، دوسری جانب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدرکو ’’ ڈکٹیٹر‘‘ قرار دینے اور ان پر جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کیے جانے کے باوجود زیلنسکی نے یورپ سے کہا ہے کہ وہ اپنی فوج تشکیل دے اور واشنگٹن کے لیے عملیت پسند رویہ اختیارکرے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے پیشکش کی ہے کہ ’’ اگرکیف کو نیٹو فوجی اتحاد میں شامل کیا جاتا ہے تو وہ یوکرین کے صدرکا عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوتن سے ملاقات سے قبل ایک بار مجھ سے ملیں۔‘‘

اس جاری جنگ کی وجہ سے موجودہ وقت روس کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کئی منفی محرکات ایک ساتھ اس کی معیشت کو مزید متاثرکریں گے۔ اسی پس منظر کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کی وجہ سے صدر ولادیمیر پوتن امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر بات چیت شروع کرسکتے ہیں،کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حلف برداری کے بعد کہا تھا کہ یوکرین میں جنگ ’’ روس کو تباہ کر رہی ہے‘‘ اور اپنے ایک اور حالیہ بیان میں وہ عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر پوتن نے جنگ ختم کرنے کے لیے بات چیت پر آمادگی ظاہر نہیں کی تو روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

بلاشبہ معاشی تحفظات کی وجہ سے روس یوکرین تنازع کے سفارتی حل میں دل چسپی رکھتا ہے،کیونکہ دفاعی اور قومی سیکیورٹی پر زائد اخراجات کی وجہ سے 2024 کے دوران روس میں مہنگائی کی شرح 9.

5 فی صد رہی۔ رواں برس روس کے مجموعی بجٹ کا 41 فی صد دفاع اور سیکیورٹی کی مد میں خرچ ہوگا جس میں قرضوں پر سبسڈی اور افرادی قوت کی قلت کی وجہ سے بڑھتی ہوئی اجرتوں پرکثیر سرمایہ خرچ کرنا پڑے گا۔ گزشتہ 15 برسوں میں صرف دو مواقعے ایسے آئے ہیں جب روس میں مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے۔

حالیہ تاریخ میں یہ موقع 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے پہلے سال کے دوران آیا۔ اس سے قبل کریمیا کے الحاق کے بعد 15-2014 میں آنے والے معاشی بحران میں روس میں افراطِ زر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اس وقت روسی صدر پوتن کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کو روس کی پہلے سے مشکلوں کا شکار معیشت پر دباؤ بڑھانے کی دھمکیوں سے روسی معیشت کمزور ہوسکتی ہے، بشمول پابندیاں اور محصولات متعارف کرانا وغیرہ، اسی تناظر میں گزشتہ ماہ جنوری میں ٹرمپ نے OPEC سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کریملن کے لیے آمدنی کے ایک اہم سلسلے کو نشانہ بنانے کے لیے تیل کی عالمی قیمتوں کو نیچے دھکیل دے۔ دراصل تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی رقم روس کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ رہی ہے، جو گزشتہ دہائی کے دوران وفاقی بجٹ کی آمدنی کا ایک تہائی سے نصف حصہ ہے۔

اگرچہ ٹرمپ نے ابھی تک جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی تفصیلی بلیو پرنٹ نہیں دیا ہے، لیکن ان کے نائب جے ڈی وینس نے اشارہ دیا ہے کہ ٹرمپ دونوں ممالک کی سرحدوں پر ایک بھاری قلعہ بند غیر فوجی زون کی تجویز رکھ سکتے ہیں اور ساتھ ہی موجودہ محاذوں پر جنگ کو منجمد کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی وہائٹ ہاؤس میں واپسی نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں مدد کے لیے مغربی امن فوج کے یوکرین میں تعینات کیے جانے کے امکان کو تقویت دی ہے، لیکن روسی وزارت خارجہ نے اس خیال کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور ساتھ ہی فرنٹ لائنز پر جنگ کو منجمد کرانے کے مطالبات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ پھر بھی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور اس ہفتے ٹرمپ نے ایسے بیانات دیے ہیں جن کا ظاہری مقصد ماسکو کو تسلی دینا تھا، لہٰذا فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے صدر زیلنسکی کو کوئی فرشتہ نہیں قرار دیا اور تجویز پیش کی کہ یوکرین کے رہنما نے جنگ کے پھیلنے کے لیے کچھ ذمے داریوں کا اشتراک کیا۔ ’’اسے اس جنگ کو ہونے نہیں دینا چاہیے تھا۔‘‘

درحقیقت ٹرمپ نے روس یوکرین تنازعہ کے بارے میں اپنا نقطہ نظر اقتصادی لحاظ سے وضع کیا ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ روس پر اقتصادی دباؤکا فائدہ پوتن کو مذاکرات پر مجبور کرسکتا ہے۔ روس پہلے ہی امریکی، یورپی اور مغربی ممالک کی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اِس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ یوکرین کی جاری جنگ اپنے منفی اثرات اس پر مرتب کر رہی ہے۔

ٹرمپ اپنی صدارتی مہم کے دَوران مستقلاً یوکرین وار بند کرنے پر زور دیتے رہے، بلکہ یہاں تک کہا کہ اگر وہ مسلسل صدر رہتے، تو یہ جنگ ہوتی ہی نہیں۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر روس نے جنگ بند نہیں کی تو وہ امریکی تیل اور توانائی کے ذرایع کا ایک سیلاب یورپی ممالک کی طرف موڑ دیں گے، جس سے اُن کا روسی تیل و گیس پر انحصار ختم ہوجائے گا اور روس کو توانائی خریدنے والا کوئی دوسرا نہیں ملے گا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ روسی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کا مثبت جواب دیا اور کہا کہ وہ جنگ اور دوسرے معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ درحقیقت ٹرمپ ایک تیر سے دو شکارکرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ٹرمپ ایک سیاست داں کم اور کاروباری زیادہ ہیں۔،وہ اپنا ہر سیاسی فیصلہ سیاسی جوڑ توڑ کے ساتھ اپنے زیادہ فائدے اور کم نقصان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح اگر وہ روس یوکرین جنگ، تیل کی قیمتیں کم کروا کے روس پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو روس کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرنے کے علاوہ وہ یہ اقدام امریکا کے اندر بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، اگر تیل کی کم قیمتیں امریکا میں مہنگائی کو کم کروانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں تو وہ ٹرمپ کی دیگر پالیسیوں کے خلاف کسی بھی طرح کی عوامی ناراضگی کو کم کرانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں،کیونکہ امریکی عوام کی اکثریت کم قیمتوں پر اشیائے صرف اور ذاتی مالیات حاصل کرنے کے قابل ہو جانے کو ترجیح دیتے ہیں، یہ سوچے بغیرکہ اس کا دیگر ممالک پر کیا منفی اثر ہوسکتا ہے، یعنی کہ مجموعی طور پر امریکی عوام اور امریکی صدر دونوں کو خود غرض کہا جاسکتا ہے۔

 ٹرمپ کی جرات مندانہ حکمت عملی عالمی تنازعات کو حل کرنے کے ایک آلے کے طور پر اقتصادی فائدہ اٹھانے، خاص طور پر تیل کو نشانہ بنانے پر ان کی توجہ کو نمایاں کرتی ہے۔ ساتھ ہی وہ امریکا کی جانب سے کسی بھی امریکی اتحادی کو مالی مدد یا جنگی مدد دینے سے بھی انکار کرتے نظر آرہے ہیں، سوائے اسرائیل کے۔

زیلنسکی کی جانب سے طویل المدتی سیکیورٹی امداد پر زور دینے اور ٹرمپ کی جانب سے امن معاہدے پر بات کرنے کے باوجود یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکی اقدامات ماسکو اور کیف کو جنگ بندی کے قریب لا سکتے ہیں یا نہیں۔ حرف آخر، اگر اقوام متحدہ کی قرارداد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی خواہش عملی روپ دھارنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ عالمی امن کی جانب ایک اہم ترین پیش رفت ہوگی۔

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں مہنگائی امریکی صدر روس یوکرین یوکرین میں کی جانب سے کہ یوکرین یوکرین کے کی وجہ سے تین برس کرنے کے ٹرمپ کی روس کے روس کو جنگ کو کے لیے جنگ کے کے صدر دیا ہے رہی ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی امداد بحال

تحریک انصاف امریکا کی بھر پور کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ٹرمپ انتظامیہ بانی تحریک انصاف کی رہائی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالے۔ اس مقصد کے لیے بھر پور لابنگ کی گئی۔ یہاں تک کہا گیا کہ جب تک امریکا کی جانب سے پاکستان پر پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی تب تک پاکستان پر دباؤ نہیں آئے گا۔

اس لیے بانی تحریک انصاف کی رہائی تک پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں۔ اس ضمن میں آرمی چیف کو بھی خصوصی ٹارگٹ کیا گیا اور پاکستان پر فوجی پابندیاں لگانے کے لیے بھی زور لگایا گیا۔ آرمی چیف کے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران ایک ناکام احتجاج بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔تا ہم تحریک انصاف ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ سے پاکستان پر کوئی دباؤ ڈلوانے میں ناکام رہی ہے۔

امریکی انتخابات سے پہلے تو ایسا ماحول بنایا جا رہا تھا کہ جیسے ٹرمپ اور اس کے تمام ساتھی تحریک انصاف امریکا کی جیب میں ہیں۔ رچرڈ گرنیل کے ٹوئٹس نے بھی ماحول کو کافی گرما دیا تھا۔ لیکن پھر رچرڈ گرنیل نے تمام ٹوئٹس ڈیلیٹ کر دیے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انھیں کوئی لفٹ بھی نہیں ہے۔

ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالتے ہی دنیا بھر کے لیے امریکی ایڈ بند کر دی۔ صرف پاکستان کے لیے بند نہیں کی گئی۔ ہم نے امریکی کی نئی حکومت کی جانب سے بہت شور سنا یو ایس ایڈ میں بہت کرپشن ہو گئی ہے۔ ایسے میں ہمارے تحریک انصاف کے دوستوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ پاکستان میں یو ایس ایڈ کے منصوبوں میں بھی بہت کرپشن ہوئی ہے، اس کا بھی آڈٹ ہونا چاہیے۔ ایک طوفان بدتمیزی نظر آرہا تھا۔ لیکن اب خبر یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے لیے 5.3 ارب ڈالر کی امداد جاری کردی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی امداد کے منجمد فنڈز میں سے پاکستان سے متعلق پروگراموں کے لیے 397 ملین ڈالر سمیت 5.3 ارب ڈالر جاری کر دیے ہیں۔امریکی کانگریس کے ایک عہدیدار کے مطابق پاکستان میں امریکی حمایت یافتہ پروگراموں کے لیے 397 ملین ڈالرز مختص کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی امداد روکنے کا حکم دیا تھا، تاہم اب یہ فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔یہ کوئی معمولی خبر نہیں ہے۔ اس وقت امریکا دنیا میں کسی کو پیسے دینے کے موڈ میں نہیں ہے بلکہ پیسے لینے کے موڈ میں ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یو ایس ایڈ کی بحالی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے پاکستان امریکا تعلقات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی، اس حوالے سے کبھی امریکی کانگریس اراکین کے ذریعے خطوط لکھوائے گئے، کبھی آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر قرض پروگرام روکنے کی مذموم کوشش کی گئی۔امریکی ارکان کانگریس سے پاکستان کے خلاف توئٹس کرائے گئے۔ اس سے پہلے تو یو ایس کانگریس کی جانب سے قرار داد بھی منظور کرائی گئی ۔ بائیڈن انتظامیہ میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ میں خاص طور پر پاکستان مخالف سوال کرائے جاتے تھے۔ لیکن وہ نہ تب کامیاب ہوئے اور اب بھی ساری کوششیں ناکام ہی ہو گئی ہیں۔

ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بعد سے دنیا بدل گئی ہے۔ امریکا کے دوست بدل گئے ہیں، دشمن بدل گئے ہیں۔ دنیا کی ایک نئی صف بندی نظر آرہی ہے۔ کل تک امریکا کے قریبی اتحادی نظر آنے والے اب دشمن لگ رہے ہیں۔ جن کی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں، وہ اب دشمن نظر آرہے ہیں۔ ایک نئی معاشی جنگ کا آغاز نظر آرہا ہے۔ آپ کینیڈا اور امریکا کے تعلقات کو ہی دیکھ لیں، کیا ہم سوچ بھی سکتے تھے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تعلقات اس قدر کشیدہ ہو سکتے ہیں کہ کینیڈا کی سالمیت ہی خطرے میں آجائے گی۔

یہی صورتحال یورپ کے ساتھ بھی ہے۔ کل کا مضبوط نیٹو اتحاد آج ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔ امریکا یورپ سے دور ہو رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں یوکرین کے موضوع پر قرار داد میں امریکا نے یورپ کی روس مخالف ترامیم مسترد کر دی ہیں۔ یورپ اور امریکا کی دوستی کے بجائے اب روس اور امریکا کی دوستی کی بات کی جا رہی ہے۔ ایک دم یورپ کمزور نظر آنے لگ گیا ہے۔ یوکرین میں یورپ کے سربراہی اجلاس میں امریکی نمایندہ موجود نہیں تھا۔ امریکا کا یوکرین روس جنگ کے خاتمے کا فارمولہ یورپ کے حق میں نہیں ہے۔ لیکن یورپ بے بس نظر آرہا ہے۔

اس لیے اس وقت امریکا دنیا میں پیسے خرچ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس وقت امریکا دنیا سے اپنے خرچ کیے گئے پیسے واپس لینے کے موڈ میں ہے۔ آپ دیکھیں وہ عالمی تنظیموں سے اس لیے الگ ہو رہا ہے کہ وہاں امریکا کو زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑ رہے تھے۔ اسے اب عالمی اداروں کی چودھراہٹ پیسے خرچ کر کے نہیں چاہیے۔ یہ سب منظر نامہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سمجھ سکیں کہ اس موقع پر پاکستان کے لیے یوایس ایڈ کی بحالی کوئی معمولی بات نہیں۔ یقیناً بیک چینل پر پاکستان اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بات چیت کافی حد تک کامیاب ہو گئی ہے، یہ اسی کامیابی کا اشارہ ہے۔

اسی طرح جب امریکی انتخابات میں واضح نظر آنے لگا کہ ٹرمپ نئے امریکی صدر ہوںگے تو بانی پی ٹی آئی اور اس کی جماعت نے یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی کہ جیسے ہی ٹرمپ اقتدار میں آئے گا بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر ہوں گے مگر یہ سب کچھ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بیوقوف بنانے اور پاکستانی حکومت پردباؤ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔اب لگ رہا کہ وہ سب جھوٹ تھا۔ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ صرف تحریک انصاف کے کارکنوں کو جھوٹی امید دلانے کی کوشش کی گئی تھی۔

پی ٹی آئی نے امریکی صدر ٹرمپ کے آنے کے بعد بھی خطوط کا سلسلہ جاری رکھا مگر اس میں نہ انھیں پہلے کامیابی ملی تھی اور نہ ہی اب ملی ہے لہٰذا پی ٹی آئی کا ٹرمپ کارڈ چل نہیں سکا۔ ابھی حال ہی میں عارف علوی جو پاکستان کے سابق صدر بھی ہیں نے دورہ امریکا کے دوران پاکستان کے حوالے سے جو زہر اگلا ، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ایک سابق صدر کو کیا یہ سب کچھ کرنا زیب دیتا ہے؟ جب کہ وہ ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہ کر وہ تمام مراعات حاصل کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں، بہرحال پی ٹی آئی کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور امریکا پاکستان کے ساتھ معاشی، دفاعی اور دیگر شعبوں میں کام کرنے کے لیے پرعزم نظر آتا ہے۔

سابق صدر عار ف علوی نے بھی اپنے حالیہ دورے کے دوران یو ایس ایڈ کو ہی نشانے پر رکھا ہے۔ اور یہی بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے کہ یو ایس ایڈ ماضی میں غلط استعمال ہوئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے کسی بڑے امریکی چینل کو نہیں بلکہ ایک مقامی چینل کو انٹرویو دیا ہے۔ جس کو پاکستان میں سوشل میڈیا میں ایسا ظاہر کیا گیا ہے جیسے امریکا کے کسی بڑے چینل نے ان کا انٹرویو کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • زیلنسکی کا نیٹو رکنیت کا خواب چکنا چور، امریکہ کی ایک اور بے وفائی
  • یوکرینی صدر واشنگٹن میں معاہدہ کریں گے، ٹرمپ کا حیران کن انکشاف
  • ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی امداد بحال
  • یوکرین جنگ چند ہفتوں میں ختم ہوسکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
  • یوکرین جنگ چند ہفتوں میں ختم ہوسکتی، مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں: ٹرمپ
  • ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی ملاقات میں یوکرین تنازعے پر اختلاف رائے
  • ٹرمپ اور میکرون کے درمیان ملاقات دوستانہ ، لیکن یوکرین پر اختلاف
  • یوکرین، روس جنگ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بن سکتی ہے، صدر ٹرمپ
  • یوکرینی صدر زیلنسکی کی ٹرمپ سے ٹھن گئی، معدنی وسائل دینے سے صاف انکار