وسطی امریکی ملک بیلیز کے ساحلی علاقے میں 3 نوجوان لڑکیوں کی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
وسطی امریکی ملک بیلیز کے ایک ساحلی علاقے میں سیاحت کی غرض سے آنے والی 3 امریکی لڑکیوں کی لاشیں ملی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہوٹل کا عملہ شک ہونے پر خواتین کے کمرے میں ماسٹر چابی سے دروازہ کھول کر داخل ہوا تو تینوں کو مردہ پایا۔
کمرے میں کسی کے داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور نہ ہی خواتین کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔
لاشوں کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔ لاشوں کو فوراً قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ خواتین کی موت کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں۔
شُبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تینوں کی موت ممکنہ طور پر منشیات کی زیادہ مقدار کے استعمال کی وجہ سے ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں خواتین کے کمرے میں سے شراب اور دیگر نشہ آور چیزیں بھی ملی ہیں۔
تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ منشیات امریکا سے لائی گئی تھی یا مقامی لوگوں سے خریدا تھا۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، ضیاء کالا سسٹم ضلع وسطی میں غیر قانونی تعمیرات کا سرپرست
فرحان ڈیوڈ کامران مرزا نے غیر قانونی بننے والی عمارتوں کی حفاظت کا مکمل ذمہ اٹھا لیا
لیاقت آباد کے رہائشی B1ایریا پلاٹ 20/10اور 18/8اور 18/5پر کمرشل تعمیرات
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بدعنوان افسران نے سسٹم کے نام پر غیرقانونی تعمیرات سے ماہانہ کروڑوں روپے بٹورنے کے لئے مختلف علاقوں میں اپنے خاص بیٹر تعینات کر رکھے ہیں، اسی سلسلے میں لیاقت آباد میں بھتہ خوری کے مقدمے میں نامزد ملزم ضیاء الرحمن عرف ضیاء کالے کو غیر قانونی دھندوں سے خطیر رقمیں بٹورنے کا ٹاسک دیا گیا ہے جس نے سسٹم کے دیئے گئے ہدف کو پورا کرنے کے لئے اعلیٰ عدلیہ کے احکامات ہوا میںاڑاتے ہوئے کرپٹ ٹولے کو منظم کرنے کے بعد وسطی کے علاقے لیاقت آباد میں ایک مضبوط سسٹم قائم کر رکھا ہے جس میں فرحان المعروف ڈیوڈ کے ساتھ غیر قانونی امور کے جاری دھندوں کو تیز کرنے اور بننے والی غیر قانونی عمارتوں کی حفاظت کے لئے اپنے برادر نسبتی کامران مرزا کو بھی غیر قانونی امور کی سرپرستی کی مکمل چھوٹ دے دی ہے جس نے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل غیرقانونی تعمیرات کا آغاز کروا کر عمیر چھلکے کو لین دین کے معاملات طے کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے ۔لیاقت آباد میں بی ون ایریا کے پلاٹ 20/10اور 18/8اور 18/5بننے والی غیرقانونی بلند عمارتوں کی تعمیرات پر علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف دی گئی درجنوں شکایات جمع کروانے کے باوجود بھی غیر قانونی تعمیرات بلا روک ٹوک جاری ہیں ہم محکمہ انسداد رشوت ستانی اینٹی کرپشن اور وزیر بلدیات سعید غنی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بدعنوان افسران اور ان کے بیٹرز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کیلئے جلد از جلد عملی اقدامات کر کے انسانی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔