شامی علویوں اور باغیوں کے درمیان محاذ آرائی
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
اپنی ایک رپورٹ میں الجزیرہ کا کہنا تھا کہ القرادحہ کے مقامی افراد چاہتے ہیں کہ شام پر قابض، مسلح باغی فورسز ان کے علاقے سے باہر نکل جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آج شامی باغیوں نے مغربی علاقے "القرادحہ" پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران انہوں نے متعدد مقامی افراد کو حراست میں لے لیا جس کے بعد وہاں کے افراد میں اشتعال کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے باغی حکومت کی قائم کردہ پولیس پوسٹ کا محاصرہ کرتے ہوئے زیرحراست افراد کی رہائی کا فوری مطالبہ کیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس محاذ آرائی کے دوران باغیوں کو دمشق کی جانب سے ہتھیار اور گولہ و بارود ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ عوامی احتجاج کا گلہ گھونٹ سکیں۔ اسی واقعے کے حوالے سے الجزیرہ نے رپورٹ دی کہ القرادحہ کے مقامی افراد چاہتے ہیں کہ شام پر قابض، مسلح باغی فورسز ان کے علاقے سے باہر نکل جائے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسی صورت حال میں رونماء ہوا ہے کہ جب رواں برس جنوری کے مہینے میں شمالی و مغربی شام میں ہزاروں علویوں نے وسیع مظاہرے شروع کئے۔ یہ مظاہرے، علویوں کے برجستہ روحانی امام کی قبر کی بے حرمتی کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے۔ تاہم کچھ ہی گھنٹوں کے بعد شام کی قابض حکومت سے وابستہ باغی فورسز نے ان مظاہروں پر قابو پا لیا تھا۔
.ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پاک افغان فورسز کے درمیان کشیدگی، طور خم بارڈر آج بھی بند، سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں
پاک افغان فورسز کے درمیان کشیدگی، طور خم بارڈر آج بھی بند، سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 26 February, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز )پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان کشیدگی کے باعث طور خم بارڈر آج پانچویں روز بھی بند ہے، جس کے باعث سینکڑوں مسافر گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ تجارتی سرگرمیاں بند ہونے سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان کشیدگی کے باعث پاک افغان بارڈر طور خم آج پانچویں روز بھی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز طورخم زیرو پوائنٹ پر دونوں ممالک کے درمیان اجلاس بلا نتیجہ ختم ہوا تھا، طورخم سرحدی گزرگاہ پر جمعہ کے روز پاک افغان فورسز کے درمیان حالات کشیدہ ہوئے۔
ذرائع کے مطابق افغان فورسز سرحد کے متنازع حدود میں چیک پوسٹ تعمیر کر رہے تھے، پاکستانی فورسز نے افغان فورسز کو تعمیراتی کام سے روک دیا تھا، تعمیراتی کام روکنے کے بعد پاکستانی فورسز اور افغان فورسز کے درمیان حالات کشیدہ ہوئے تھے۔ طورخم سرحدی گزرگاہ تجارتی سرگرمیوں اور پیدل آمدورفت کے لیے بھی بند ہے، سرحدی گزرگاہ بند ہونے سے دونوں جانب مسافر پھنس گئے ہیں، تجارتی سرگرمیاں بند ہونے سے تاجروں کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔