امریکہ نے چین اور ہانگ کانگ کی چھ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کمپنیوں پر یہ پابندیاں ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے الزام میں لگائی گئی ہیں۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق، یہ کمپنیاں ایران کے ڈرون پروگرام کی مدد کر رہی تھیں اور امریکی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی تھیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران کے فوجی پروگرامز کی ترقی کو روکنا اور ایران کی بین الاقوامی سلامتی کے معاملات میں مداخلت کی روک تھام ہے۔ ان پابندیوں کے تحت، امریکہ میں ان کمپنیوں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور امریکی اداروں کے ساتھ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

یہ اقدام امریکہ کے ایران کے خلاف سخت پالیسی کا حصہ ہے، جو عالمی سطح پر ایران کی فوجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ کا امریکی گولڈ کارڈ کے اجرا کا اعلان، کارڈ کی قیمت کیا ہو گی ؟ جانیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویزا گولڈ کارڈ کے اجرا کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے ویزوں کی فروخت سے امریکہ میں ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے جبکہ اس سے ہونے والی آمدن کو امریکا کے قومی خسارے کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

عالمی کے مطابق ٹرمپ نے اوول آفس میں نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ ہم ایک گولڈ کارڈ فروخت کرنے جا رہے ہیں۔ آپ کے پاس گرین کارڈ ہے، مگر یہ ایک گولڈ کارڈ ہے۔ ہم اس کارڈ کی قیمت تقریباً 50 لاکھ ڈالر مقرر کرنے جا رہے ہیں۔اقتدار سنبھالتے ہی امریکا میں مقیم لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری کا اعلان کرنے والے صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ یہ قیمتی گولڈ کارڈ امریکی شہریت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہو گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ بہت سے لوگ امریکا میں رہنا چاہتے ہیں، گولڈ کارڈ کے حامل افراد یہاں کام کرسکیں گے، کمپنیاں بنا سکیں گے اور لوگوں کو نوکریاں فراہم کر سکیں گے۔ یہ پیسے والے لوگ ہوں گے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ نئے گولڈ کارڈ کی فروخت آئندہ دو ہفتوں میں شروع کر دی جائے گی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم شاید دس لاکھ کے قریب گولڈ کارڈ لوگوں کو فروخت کر پائیں گے، ہم نے اس ضمن میں قانونی کارروائی پوری کر لی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نئے گولڈ کارڈ کے حصول کے لیے درخواست دینے والے تمام افراد کی احتیاط سے جانچ پڑتال کی جائے گی، مگر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا روس کے امیر افراد بھی گولڈ کارڈ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے تو انھوں نے جواب دیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ ’ممکن ہے۔ میں چند روسی بااثر کاروباری شخصیات کو جانتا ہوں جو اچھے لوگ ہیں۔ یہ ممکن ہے۔ اگرچہ یہ روسی کاروباری شخصیات اب اتنی دولت مند نہیں رہیں جتنی پہلے ہوتی تھیں۔ مگر میرے خیال میں وہ 50 لاکھ ڈالر ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر اوول آفس میں ٹرمپ کے پہلو میں کھڑے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے گولڈ کارڈ کے بارے میں کہا کہ ہم اس رقم کو اپنے خسارے کو کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔اس موقع پر کسی نے سوال کیا کہ کیا ہم اسے ٹرمپ گولڈ کارڈ کہہ سکتے ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ اگر ایسا کرنے سے مدد مل سکتی ہے تو کیوں نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جدہ اجلاس کے بارے میں ایرانی و سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان مشاورت
  • ٹرمپ کا امریکی گولڈ کارڈ کے اجرا کا اعلان، کارڈ کی قیمت کیا ہو گی ؟ جانیں
  • بجلی پر سبسڈی  بی آئی ایس پی کے مستحقین تک محدود کرنے کی تجویز
  • ایران کا امریکہ سے جوہری مذاکرات سے انکار، نئی امریکی پابندیاں مسترد
  • ایران، چابہار میں دہشتگرد تنظیم جیش العدل کے 6 کارندے گرفتار
  • کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر شیڈول کے مطابق ٹیرف عائد ہوں گے.صدر ٹرمپ
  • ایران کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت‘امریکا نے بھارت‘چین‘متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کی کمپنیوں پر پابندیاں عائدکردیں
  • ایران کیخلاف کسی حملے میں سہولت فراہم کرنیوالے دشمن شمار ہونگے، ایرانی جنرل
  • چینی کمپنیوں اور مارکیٹ کو مسترد کرنے سے خود امریکہ کو نقصان پہنچے گا، چینی وزارت خارجہ