گلگت بلتستان میں برفباری
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
شاہراہ قراقرم کوہستان کے مقام پر بلاک ہے۔ جگلوٹ سکردو روڈ بھی کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہے، مقامی انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے غیر ضروری سفر سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شدید برفباری اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بلتستان کے چاروں اضلاع، استور اور بابوسر ٹاپ اور دیوسائی میں شدید برفباری ہو رہی ہے جبکہ گلگت اور مضافات میں گزشتہ رات سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جی بی کے پہاڑی علاقوں میں ایک سے تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے، دیوسائی میں تین فٹ سے زائد کی برفباری ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹے کے دوران برفباری اور بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب شاہراہ قراقرم کوہستان کے مقام پر بلاک ہے۔ جگلوٹ سکردو روڈ بھی کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہے، مقامی انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے غیر ضروری سفر سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں برفباری کے مناظر
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں سرکاری ملازمین کے ڈیپوٹیشن پر پابندی عائد
چیف سیکرٹری جی بی ابرار احمد مرزا کی جانب سے جاری تحریری آرڈر میں تمام صوبائی سیکرٹریز کو آئندہ ڈیپوٹیشن کیسز پروسیس نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، ساتھ ہی ڈیپوٹیشن پر تعینات تمام ملازمین کو واپس اپنے اداروں میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں سرکاری ملازمین کے ڈیپوٹیشن پر پابندی عائد کر دی گئی۔ چیف سیکرٹری جی بی ابرار احمد مرزا کی جانب سے جاری تحریری آرڈر میں تمام صوبائی سیکرٹریز کو آئندہ ڈیپوٹیشن کیسز پروسیس نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، ساتھ ہی ڈیپوٹیشن پر تعینات تمام ملازمین کو واپس اپنے اداروں میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں کئی سنیئر آفیسرز ڈیپوٹیشن پر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں تعینات ہیں۔ صوبائی وزراء ان ملازمین کی واپسی کو روکنے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں۔