پاکستان اور ازبکستان کا تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
پاکستان اور ازبکستان نے آئندہ چار سالوں میں تجارتی حجم چار ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔یہ مفاہمت بدھ کو تاشقند میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کے درمیان ملاقات میں ہوئی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔ملاقات کے دوران انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے بالخصوص تجارت، سیاحت، توانائی، علاقائی روابط اور ثقافتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنمائوں نے ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ 2021، ترجیحی تجارتی معاہدہ 2023 کو موثر طریقے سے نافذ کرنے، دونوں ممالک کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور پاکستان اور ازبکستان کی کاروباری برادریوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
دونوں فریقوں نے تجارت اور علاقائی روابط کو فروغ دینے کے لیے ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبے پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے دوران انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان خاص طور پر ترمیز، بخارا، لاہور اور کراچی کے درمیان سیاحت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔عالمی اور علاقائی امور پر اپنے مشترکہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے پائیدار ترقی اور عالمی امن و سلامتی کے حصول کے لیے بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کے کردار کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔اپنے ریمارکس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے نئی راہیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے علاقائی رابطوں کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں پر توجہ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔شہباز شریف نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط شراکت داری کو دونوں ممالک اور پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مفید قرار دیا۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرز ایوف نے اپنے کلمات میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں اقتصادی استحکام اور حکومت کے ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے ازبکستان کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔
اشتہار
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اور ازبکستان اور ازبکستان کے دونوں ممالک کے کے درمیان کے لیے
پڑھیں:
تاشقند: پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
تاشقند: پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط WhatsAppFacebookTwitter 0 26 February, 2025 سب نیوز
تاشقند:وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں پاکستانی وفد کے دورہ تاشقند کے دوران پاکستان اور ازبکستان میں مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب کی تقریب منعقد ہوئی جس میں دونوں ملک کے درمیان معلومات کے تبادلے، کھیلوں، سائنس و ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کے امور پر مفاہمی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔
تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایوف نے بھی شرکت کی، اس موقع پر تاشقند اور لاہور کے درمیان مفاہمتی یادداشت، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان معلومات کے تبادلے، نوجوانوں کے امور، سفارتی پاسپورٹس اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اورازبکستان کےصدرشوکت میرضیایوف نےمشترکہ اعلامیے پردستخط کیے اور دستخط شدہ مشترکہ اعلامیہ کا تبادلہ کیا۔
اس موقع پر صدر ازبکستان شوکت میرضیایوف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روشن مستقبل کے لیے دونوں ممالک کی گفتگو اور معاہدے بہت اہم ہیں، مسائل سےنمٹنےکےلیے مشترکہ لائحہ عمل اور مواقع سے فائدہ اٹھاجائےگا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے، تاشقند اور لاہور کے درمیان پروازیں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں، پاکستان کی ممتاز کاروباری شخصیات دورہ تاشقند پر ہیں، سرمایہ کاری و تجارت کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ہورہی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، علاقائی و عالمی فورمز پر ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم شہاز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط روابط قائم ہیں، دونوں ملکوں کے تعلقات کی طویل تاریخ ہے، دونوں ممالک کے تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں،ازبکستان پاکستان کا قابل اعتماد شراکت دار ہے، سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔