پاراچنار راستوں کی بندش کے باعث لوگ خوراک و علاج نہ ملنے کے باعث مر رہے ہیں، سابق ایئرمارشل سید قیصر حسین
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
سابق ایئرمارشل سید قیصر حسین نے میڈیا کے ذریعے وزیراعظم اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے نام پیغام میں کہا ہے کہ آپ دونوں اس منصب کے لئے نااہل ہیں، اس وجہ سے پاراچنار کے محصور پانچ لاکھ آبادی کو ریلیف دینے یا امدادی پیکیج دینے کی بجائے محض میڈیا کے بیانات پر اکتفا کررہے ہیں جبکہ راستوں کی بندش کے باعث لوگ خوراک و علاج نہ ملنے کے باعث مر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق ایئر مارشل سید قیصر حسین نے کہا ہے کہ نااہل صوبائی اور وفاقی حکومت پاراچنار سمیت اپر و لوئر کرم کے محصور پانچ لاکھ آبادی کے لئے مین روڈ فوری طور پر کھول کر رمضان المبارک کے لئے اشیائے خوردونوش کی ترسیل یقینی بنائیں اور کسی بڑے انسانی المیے سے قبل افغان سرحد بھی فوری طور کھول دیں۔ اپنے تحریری پیغام میں سابق ایئرمارشل سید قیصر حسین نے میڈیا کے ذریعے وزیراعظم اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے نام پیغام میں کہا ہے کہ آپ دونوں اس منصب کے لئے نااہل ہیں، اس وجہ سے پاراچنار کے محصور پانچ لاکھ آبادی کو ریلیف دینے یا امدادی پیکیج دینے کی بجائے محض میڈیا کے بیانات پر اکتفا کررہے ہیں جبکہ راستوں کی بندش کے باعث لوگ خوراک و علاج نہ ملنے کے باعث مر رہے ہیں۔ سید قیصر حسین کا کہنا ہے کہ رمضان کا مہینہ قریب ہے اور ابھی تک راستہ کھولنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اور نہ ہی کوئی امید نظر نہیں ارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خرلاچی کی چیک پوسٹ کو کھول کر افغانستان کا راستہ کھول دے، بارڈر کے اس طرف افغانستان کا جاجی قبیلہ رہتا ہے، وہ پاراچنار کو روزمرہ کی اشیاء فراہم کر سکتا ہے۔ آج سے چند برس پہلے افغان علاقے میں زلزلہ متاثرین کو بھی ضلع کرم کے طوری اور بنگش قبیلوں نے ان کی مدد کی تھی جبکہ دونوں قبیلوں میں 500 سال پرانا معاہدہ ہے، اس مشکل وقت میں یہ ایک دوسرےکی مدد کریں گے، یہ دونوں ایک مسلک کے نہیں ہیں، لیکن انسانیت کی قدر و قیمت سے واقف ہیں۔ سید قیصر حسین کا کہنا ہے ضلع کرم کے عوام کو صوبے و وفاق کے مابین سیاسی چپقلش کی بھینٹ نہ چڑھائے ورنہ علاقے میں بڑا انسانی المیہ پیش آسکتا ہے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میڈیا کے کے باعث کے لئے
پڑھیں:
جسم کو سِلم اور اسمارٹ بنانے کےانتہائی آسان طریقے جانیں
ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دِکھنے میں سِلم اور اسمارٹ نظر آئے، ویسے تو خود کو چاق و چوبند رکھنا مشکل تو نہیں البتہ اتنا آسان بھی نہیں تھوڑی بہت مشقت تو لازمی سا امر ہے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر جاپانی لوگوں کا وزن کم ہوتا ہے کیونکہ ان لوگوں کا طرز زندگی (لائف اسٹائل) ایسا ہے ان کی خوراک میں توازن اور اعتدال پایا جاتا ہے جس سے انہیں سِلم اور اسمارٹ رہنے میں مد ملتی ہے اور بنیادی طور پر یہی ان کی صحت مند زندگی کا راز ہے۔وزن کم کرنے میں بلاشبہ ڈائٹ کنٹرول بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے ساتھ ورزش اس کی افادیت مزید اضافہ کرتی ہے۔
صحت سے متعلق بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق جاپان کے لوگ سِلم اور اسمارٹ رہنے کیلیے غذائیت سے بھرپور اور تازہ خوراک پسند کرتے ہیں جس میں تازہ سبزیاں، خمیر شدہ اشیاء مچھلی اور سبز چائے شامل ہے۔زیرنظر مضمون میں 6 ایسی غذاؤں سے متعلق آگاہ کیا جا رہا ہے کہ جن کو استعمال کرکے آپ بھی جاپانیوں کی طرح خود کو اسمارٹ اور چاق و چوبند بنا سکتے ہیں۔
ہارا ہاچی بو
ہارا ہاچی بو طریقے کے مطابق آپ معدے کو پوری طرح بھرنے کے بجائے 80 فیصد تک کھانا کھاتے ہیں اور 20 فیصد کی گنجائش چھوڑتے ہیں اس طرح زیادہ کھانے سے پرہیز کیا جاتا ہے اور کم کیلوریز لی جاتی ہیں۔ نتیجتاً وزن کم ہوتا ہے۔
کم کیلوریز والی غذائیں
روایتی جاپانی کھانوں میں سبزیاں، چربی کے بغیر گوشت اور ہول گرین شامل ہے۔ غذایئت والی اس خوراک سے وٹامنز اور منرلز حاصل ہوتے ہیں۔
مچھلی اور سی فوڈ
جاپانیوں کی خوراک مچھلی اور سی فوڈ سے پھرپور ہوتی ہے جو چربی کے بغیر پروٹین اور اومیگا 3 حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ اس سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، میٹابولزم بہتر ہوتا ہے۔
چھوٹے سائز کے برتنوں کا استعمال
جاپان کے لوگ کھانے کے لیے چھوٹی پلیٹیں اور پیالے استعمال کرتے ہیں جس سے کم کھانے کی عادت پڑتی ہے کیونکہ چھوٹی پلیٹ بھر کر کھانے سے دماغ کو سگنل جاتا ہے کہ کافی کھا لیا ہے۔
سبز چائے پینے کی عادت
جاپان میں گرین ٹی کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔ اس میں کیٹچنز پایا جاتا ہے جو چربی کی آکسیڈیشن کو بڑھاتا ہے اور کیلوریز کو جلاتا ہے۔ کھانے سے پہلے یا بعد میں گرین ٹی پینے سے نظام ہضم بہتر ہوتا ہے۔
ورزش اور زیادہ پیدل چلنے کی عادت
سِلم اور اسمارٹ رہنے کیلیے جاپان کے لوگ پیدل چلنے اور سائیکل کے استعمال کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں جس سے قدرتی طور پر کیلوریز کم کر کے وزن سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے۔
مذکورہ بالا ہدایات پر عمل کرکے اور ان عادات کو اختیار کرکے آپ زائد وزن اور اضافی چربی سے باآسانی نجات حاصل کرسکتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنا مکمل طرز زندگی بدلیں اور خود کو ایسی خوراک کا عادی بنائیں جو آپ کی زندگی کا حصہ بن جائے جسے آپ انجوائے کرسکیں اور جو آپ کے لئے مالی بوجھ بھی نہ بنے۔