متحدہ علماء محاذ کا استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
علماء مشائخ کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ غزہ فلسطین کی غذائی، طبی، بحالی و آبادکاری کیلئے اپنے صدقہ فطر، روزے کا فدیہ اور زکواۃ و صدقات و عطیات سے بھرپور امداد کریں، عوام میکڈونلڈز، کے ایف سی،پیپسی سمیت تمام تر اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
متحدہ علماء محاذ کی جانب سے استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا
اسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے زیر اہتمام مرکزی بانی صدر حجۃ الاسلام علامہ مرزا یوسف حسین کی زیر صدارت ان کی رہائش گاہ جامع مسجد و امام بارگاہ نورایمان میں محاذ کے بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری کی میزبانی میں منعقدہ 17واں سالانہ استقبال و تقدس رمضان امن سیمینار میں شریک مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ سمیت مرکزی چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی سلفی، علامہ محمد حسین مسعودی، مولانا منظرالحق تھانوی، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد داؤد، علامہ سید محمد عقیل انجم قادری، علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شمیل احمد قادری حنبلی، ناصر احمد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ و دیگر نے خطاب کیا۔ سیمینار میں حماس، حزب اللہ کے قائدین و دیگر شہدائے مقاومت فلسطین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ فلسطینی و کشمیری عوام اور افواج پاکستان کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ بلند کرکے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ یوم القدس کو جوش و جذبے، بھرپور ایمانی غیرت کے ساتھ منانے کا اعلان کیا گیا۔ سیمینار سے علامہ سید سجاد شبیر رضوی، مولانا مفتی وجیہہ الدین، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی، علامہ محمد حسن شریفی، علامہ زاہد حسین ہاشمی مشہدی، مولانا قاری محمد اقبال رحیمی، مولانا مفتی علی المرتضیٰ، فیضان فاروقی، حسن مہدی، سینئر صحافی سید صادق حسین زیدی و دیگر نے خطاب کیا۔.ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
شامی علویوں اور باغیوں کے درمیان محاذ آرائی
اپنی ایک رپورٹ میں الجزیرہ کا کہنا تھا کہ القرادحہ کے مقامی افراد چاہتے ہیں کہ شام پر قابض، مسلح باغی فورسز ان کے علاقے سے باہر نکل جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آج شامی باغیوں نے مغربی علاقے "القرادحہ" پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران انہوں نے متعدد مقامی افراد کو حراست میں لے لیا جس کے بعد وہاں کے افراد میں اشتعال کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے باغی حکومت کی قائم کردہ پولیس پوسٹ کا محاصرہ کرتے ہوئے زیرحراست افراد کی رہائی کا فوری مطالبہ کیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس محاذ آرائی کے دوران باغیوں کو دمشق کی جانب سے ہتھیار اور گولہ و بارود ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ عوامی احتجاج کا گلہ گھونٹ سکیں۔ اسی واقعے کے حوالے سے الجزیرہ نے رپورٹ دی کہ القرادحہ کے مقامی افراد چاہتے ہیں کہ شام پر قابض، مسلح باغی فورسز ان کے علاقے سے باہر نکل جائے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسی صورت حال میں رونماء ہوا ہے کہ جب رواں برس جنوری کے مہینے میں شمالی و مغربی شام میں ہزاروں علویوں نے وسیع مظاہرے شروع کئے۔ یہ مظاہرے، علویوں کے برجستہ روحانی امام کی قبر کی بے حرمتی کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے۔ تاہم کچھ ہی گھنٹوں کے بعد شام کی قابض حکومت سے وابستہ باغی فورسز نے ان مظاہروں پر قابو پا لیا تھا۔