علماء مشائخ نے کہا کہ سندھ حکومت و کراچی انتظامیہ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرے، عوام میکڈونلڈز، کے ایف سی،پیپسی سمیت تمام تر اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں، جنگ جیو و دیگر ٹی وی چینلز و اخبارات اسرائیلی مصنوعات کی کاروباری تشہیر سے اجتناب کریں۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے زیر اہتمام مرکزی بانی صدر حجۃ الاسلام علامہ مرزا یوسف حسین کی زیر صدارت ان کی رہائش گاہ جامع مسجد و امام بارگاہ نورایمان میں محاذ کے بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری کی میزبانی میں منعقدہ 17واں سالانہ استقبال و تقدس رمضان امن سیمینار میں شریک مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ سمیت مرکزی چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی سلفی، علامہ محمد حسین مسعودی، مولانا منظرالحق تھانوی، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد داؤد، علامہ سید محمد عقیل انجم قادری، علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شمیل احمد قادری حنبلی، ناصر احمد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کا طوفان آچکا ہے جبکہ پڑوسی ملک بھارت و دیگر غیر مسلم ممالک میں رمضان کے احترام میں 50 فیصد تک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کردی گئی ہے۔

علماء مشائخ نے کہا کہ سندھ حکومت و کراچی انتظامیہ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرے، گراں فروشوں کو گرفتار اور ان پر بھاری جرمانے عائد کرے، سحر و افطار، نمازوں و تراویح کے اوقات میں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت، مساجد کے اطراف صحت و صفائی و سیکورٹی جیسے اہم مسائل کو فوری طور پر ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائیں،احترام رمضان میں کم از کم قیمتوں میں 30 فیصد کمی کا اعلان کیا جائے، عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ غزہ فلسطین کی غذائی، طبی، بحالی و آبادکاری کیلئے اپنے صدقہ فطر، روزے کا فدیہ اور زکواۃ و صدقات و عطیات سے بھرپور امداد کریں۔

علماء مشائخ نے کہا کہ عوام میکڈونلڈز، کے ایف سی،پیپسی سمیت تمام تر اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں، جنگ جیو و دیگر ٹی وی چینلز و اخبارات اسرائیلی مصنوعات کی کاروباری تشہیر سے اجتناب کریں، پیمرا ٹیلی ویژن پر چلنے والے تمام تر ڈراموں پر پابندی لگائے، حکومت فحش و عریانی، جوئے کے اڈوں، شراب خانوں پر مکمل پابندی عائد کرے، سڑکوں کی تعمیر، ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کی جائے، ٹریفک جام کے اذیت ناک مسائل پر قابو پائے، سحر و افطار کے مقدس نام پر غیر مہذبانہ نمائشی و تشہیری دسترخوانوں پر پابندی لگائی جائے۔

سیمینار میں حماس، حزب اللہ کے قائدین و دیگر شہدائے مقاومت فلسطین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ فلسطینی و کشمیری عوام اور افواج پاکستان کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ بلند کرکے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ یوم القدس کو جوش و جذبے، بھرپور ایمانی غیرت کے ساتھ منانے کا اعلان کیا گیا۔ سیمینار سے علامہ سید سجاد شبیر رضوی، مولانا مفتی وجیہہ الدین، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی، علامہ محمد حسن شریفی، علامہ زاہد حسین ہاشمی مشہدی، مولانا قاری محمد اقبال رحیمی، مولانا مفتی علی المرتضیٰ، فیضان فاروقی، حسن مہدی، سینئر صحافی سید صادق حسین زیدی و دیگر نے خطاب کیا۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی مصنوعات علماء مشائخ

پڑھیں:

سانحہ کنن پوشپورہ، میرپور میں سیمینار کا انعقاد

سیمینار کا بنیادی مقصد بھارتی قابض افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری صنفی بنیادوں پر جنگی جرائم کو اجاگر کرنا تھا، جو جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انسٹیٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز کے زیراہتمام میرپور میں سانحہ کنن پوشپورہ کے بارے میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق "کنن پوشپورہ، بھارتی قابض افواج کے ذریعے صنفی جنگی جرم بین الاقوامی قانون کے تناظر میں” کے عنوان سے سیمینار کا اہتمام پی جی ڈگری کالج برائے خواتین میرپور کے تعاون سے کیا گیا۔سیمینار میں فیکلٹی ممبران، عملہ، انتظامیہ اور طالبات نے شرکت کی۔ سیمینار کا بنیادی مقصد بھارتی قابض افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری صنفی بنیادوں پر جنگی جرائم کو اجاگر کرنا تھا، جو جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ تقریب کا مقصد طلبہ میں جموں و کشمیر میں قابض فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا بھی تھا۔ 23 فروری 1991ء کی شب ضلع کپواڑہ کے گائوں کنن اور پوش پورہ میں بھارتی فوج کی 4 راجپوتانہ رائفلز کے اہلکاروں نے 100 کے قریب کشمیری خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ بھارتی فوج کی درندگی کا نشانہ بننے والی خواتین کی عمریں 12 سے 60 سال کے درمیان تھیں۔ یہ خوفناک جرم جدوجہد آزادی کشمیر کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک ہے۔

متاثرہ خواتین 34سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود انصاف سے محروم ہیں جبکہ مجرموں کو کالے قوانین کے تحت تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ بھارت اس سفاکانہ واقعے کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کرانے میں مسلسل ناکام رہا ہے بلکہ اس کے برعکس وہ اس سانحے کی تحقیقات میں تاخیر کی کوشش کر رہا ہے۔ سیمینار میں بھارتی افواج کے مظالم اور اس اندوھناک واقعے کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا۔ یہ واقعہ بھارت کے نظام انصاف پر بھی ایک بدنما داغ ہے۔ کالج کی پرنسپل پروفیسر شگفتہ زرین نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ہر جگہ انصاف کی راہیں مسدود ہو رہی ہوں، تو ہمیں مظلوموں کی آواز بننا ہو گا۔ نئی نسل کو بھارتی قابض افواج کے مظالم اور ان کے سنگین جرائم کے بارے میں آگاہی فراہم کی جانی چاہیے۔ پروفیسر شازیہ نسرین نے بین الاقوامی قوانین کے تحت خواتین کے حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران جنسی تشدد کو جنیوا کنونشنز کے تحت جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے 1949ء کے چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 27 کا حوالہ دیا، جس کے دوران جنگ کے دوران زیادتی اور بے حرمتی کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اسٹیٹیوٹ کا حوالہ بھی دیا، جس کے مطابق جنسی تشدد بشمول عصمت دری، آرٹیکل 7 اور 8 کے تحت جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید رسول نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر قابض طاقت آزادی کی جدوجہد کو دبانے کے لیے ظلم کا سہارا لیتی ہے، مگر آج کے دور میں ظلم کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سمجھنا ہو گا کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، خاص طور پر کشمیری خواتین کی حالت زار سے انہیں آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ غلامی اور آزادی میں فرق کو پہچان سکیں۔ سیمینار کا اختتام اس مطالبے کے ساتھ ہوا کہ کنن پوشپورہ کیس پر بین الاقوامی توجہ مبذول کرائی جائے اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ سیمینار کی دیگر مقررین بشمول حفصہ نعمان، عائشہ ذاکر، رفعت بتول اور مومنہ عزیز نے بھی کنن پوشپورہ میں ہونے والے مظالم کی مذمت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پارا چنار کا راستہ کھلوانے میں ناکامی پر تشویش ہے، علامہ سبطین سبزواری
  • متحدہ علماء محاذ کے تحت استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار، علماء مشائخ کا خطاب
  • متحدہ علماء محاذ کا استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار
  • متحدہ علماء محاذ کا استقبال و تقدس رمضان و امن سیمینار کا انعقاد
  • متنازعہ تعلیمی نصاب کی بجائے متفقہ نصاب بحال کیا جائے، نصاب تعلیم کمیٹی
  • ہنگو، استقبال ماہ مبارک رمضان اور شہدائے راہیان قدس کی یاد میں سیمینار کا انعقاد
  • فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی حمایت نہیں کی جا سکتی: مولانا فضل الرحمٰن
  • سانحہ کنن پوشپورہ، میرپور میں سیمینار کا انعقاد
  • پاراچنار، استقبال رمضان المبارک اور یاد شہداء سیمینار کا انعقاد