پشاور، ایم این اے انجینئر حمید حسین کا ٹیسکو کے چیف سے ملاقات، ضلع کرم کے بجلی کے بحران پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
ٹیسکو چیف نے ایم این اے صاحب کو یقین دلایا کہ ضلع کرم بالخصوص پارہ چنار کے عوام کے مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے گھریلوں صارفین اور چھوٹے کاروبار سے منسلک تاجروں کے لئے بجلی کے دورانیہ کو جلد بڑھایا جائے گا اور نئے کمرشل فیڈرز پر بھی کام کا آغاز ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری صاحب کا TESCO CEO سے انکے آفس میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر ضلع کرم کے بجلی کے بحران پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری صاحب نے پاراچنار محاصرے کے ساتھ ساتھ ضلع کرم میں بجلی کے بحران کے حوالے سے TESCO CEO سے انکے آفس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ایم این اے انجینئر حمید حسین طوری صاحب نے کہا کہ ٹل پارہ چنار مین شاہراہ بندش کے باعث ڈیزل اور پیٹرول کی ترسیل نہ ہونے کی وجہ پارہ چنار شہر اور دیہاتوں میں بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل اور آٹا مشین کیلئے بجلی کی دورانیہ نہ صرف انتہائی کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔گھریلوں صارفین اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ ملکان کو بجلی کی دورانیہ کو بڑھایا جائے۔ ٹیسکو چیف نے ایم این اے صاحب کو یقین دلایا کہ ضلع کرم بالخصوص پارہ چنار کے عوام کے مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے گھریلوں صارفین اور چھوٹے کاروبار سے منسلک تاجروں کے لئے بجلی کے دورانیہ کو جلد بڑھایا جائے گا اور نئے کمرشل فیڈرز پر بھی کام کا آغاز ہوگا۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم این اے پارہ چنار بجلی کے
پڑھیں:
لیبیاکشتی متاثرین سےکرم کے MNA انجنیئر حمید طوری کا اظہار ہمدردی
پاکستانی مسافرین پر مشتمل لیبیا سے یورپ جانے والی کشتی کو حادثہ پیش آیا جس میں تیس سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں سے 13 افراد کا تعلق ضلع کرم سے ہے۔ ایم این اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اپنے بچوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ سمیت کسی بھی ملک نہ بھیجیں بلکہ اس رقم سے اپنے ملک اور اپنے علاقے میں کاروبار شروع کریں۔ اسلام ٹائمز۔ پاراچنار! ضلع کرم سے منتخب ایم این اے اور قومی اسمبلی میں مجلس وحدت المسلمین کے پارلیمانی لیڈر انجنیئر حمید حسین نے وزارت خارجہ اور اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے لیبیا کے سمندری حدود میں غرق ہونے والے افراد کی لاشوں کو پاکستان لانے میں تعاون کیا ہے اور کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 7 فروری کو لیبیا سے سمندری راستے اٹلی جانے والے افراد کی کشتی کو حادثہ پیش آیا جس میں تیس سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں سے 13 افراد کا تعلق ضلع کرم سے ہے۔
ایم این اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اپنے بچوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ سمیت کسی بھی ملک نہ بھیجیں بلکہ اس رقم سے اپنے ملک اور اپنے علاقے میں کاروبار شروع کریں۔
انجنیئر حمید حسین نے متاثرہ خانوادوں کو آ گاہ کیا ہے کہ 6 افراد کی لاشیں دوحہ ایئر لائنز کے ذریعے اسلام آباد 27 فروری کو صبح ساڑھے سات بجے لائے جائیں گے۔ لہذا انکے ورثاء لاشوں کو لے جانے کے لیے انتطامات کر لیں