اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر قانون موجود ہے مگر اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے اور طلبہ کو ہدایت کی کہ کرپشن اور ڈرگز سے انکار کرنا ہے۔

اسلام آباد میں دی ملینیم یونیورسل کالج میں ملینیم نیشنل موٹ کورٹ مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں شعبہ قانون کے طلبہ نے بطور وکیل اپنا کیس پیش کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت اور دیگر نے بطور جج فرائض سر انجام دیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بطور مہمان خصوصی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے قانونی نظام میں بہت خلا ہے اور زور دیا کہ وکلا کو عدالتوں میں مکمل تیاری کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے ورنہ نتائج بھی ویسے ہی برآمد ہوں گے جو اس وقت دیکھنے میں آ ئیں گے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم لوگ بیرون ملک سے پڑھ کر نہیں آئے تھے لیکن جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بیرون ملک تعلیم حاصل کی تھی۔

انہوں نے یونیورسٹیز پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو سول پروسیجر کورٹ کے بارے میں تعلیم دیں کیونکہ پاکستان میں ہر قانون موجود ہے جو دنیا میں نہیں ہے لیکن قانون پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورننس کے پورے ماڈل کو بہتر بنانے کے لیے ایک نئی نسل کی ضرورت ہے، 45 سال سے زائد عمر کے لوگوں نے جو کرنا تھا وہ کر چکے ہیں، اب نئی نسل کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سچ بولیں اور ایمان داری سے کام کریں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انہیں 45 سال کی عمر کے بعد ملک کی قیادت تک لے جائے گا۔

انہوں نے منشیات کے استعمال پر بتایا کہ اسلام آباد میں 200 سے 300 ایف آئی آرز منشیات سے متعلق درج ہو رہی ہیں،

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نے طلبہ سے کہا کہ وہ منشیات اور کرپشن کو مسترد کریں اور اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کریں اور روزانہ صرف ایک گھنٹہ پڑھائی کے لیے مختص کرنا کامیابی کی کنجی ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جسٹس محسن اختر کیانی نے کی ضرورت ہے

پڑھیں:

اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات موجود ہیں، شاہد خاقان

 

ہماری کنٹینر پر جانے کی کوئی سوچ نہیں، اگر کوئی جماعت جلسے کرنا چاہتی ہے تو اپنے طور پر کر لے

چیف جسٹس کے پاس کوئی اختیارنہیں رہا، آج نظام عدل چیف جسٹس نہیں حکومت کے پاس ہے

سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں، تحریک انصاف کا ایجنڈا عمران خان کی رہائی ہے ۔میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہماری کنٹینر پر جانے کی کوئی سوچ نہیں، اگر کوئی جماعت جلسے کرنا چاہتی ہے تو اپنے طور پر کر لے ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں، تحریک انصاف کا ایجنڈا عمران خان کی رہائی ہے ۔سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے بعد چیف جسٹس کے پاس کوئی اختیارنہیں رہا، آج عدل کا نظام چیف جسٹس نہیں حکومت کے پاس ہے ، عدلیہ بحالی تحریک کی حقیقت جانتا تھا، تحریک جنرل مشرف کو ہٹانے کے لیے تھی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جنرل مشرف کا طیارہ باہربھیجنے کا کہا گیا، جنرل مشرف کا طیارہ باہرنہیں جا سکتا تھا، آرمی چیف کی تبدیلی کو فوج نے قبول نہیں کیا تھا۔ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے ہماری حکومت کو ختم کروایا، وزیراعظم بننے کے بعد جنرل باجوہ نے مجھ سے ملاقات کی، جنرل باجوہ نے کہا آپ کی عزت کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ ڈان لیکس معاملے پرجنرل باجوہ اورنوازشریف مجھ سے ناراض تھے ، نوازشریف نے محسوس کیا ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی آج رخصت پر چلے گئے
  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر محمود کی خدمات اسلام آباد سے پشاور ہائی کورٹ کو واپس
  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر محمود خان کی خدمات پشاور ہائی کورٹ کو واپس
  • ذاتی جنگ میں ہزاروں غریب ملازمین کو بے روزگار کر دیا گیا :متاثرین مونال کا احتجاج
  • اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے 5 ججز کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کی حمایت کردی
  • ملک میں کم سے کم اجرت قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف
  • 3 ٹرانسفر ججز کیخلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن، اسلام آباد بار کی مکمل حمایت
  • اسلام آباد بار کا سپریم کورٹ سے ججز کی پٹیشن سن کر ٹرانسفر ججز کو واپس بھیجنے کا مطالبہ 
  • اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات موجود ہیں، شاہد خاقان