اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ماضی کی غلطی قرار دے کر آگے بڑھنے کا مشورہ دے دیا۔
سماءٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت مخالف تحریک شروع ہے اور اس جدوجہد میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملا رہے ہیں جبکہ امید ہے صحافی برادری، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں ساتھ دیں گی۔
بیرسٹر گوہر سے سوال کیا گیا کہ کیا پی ٹی آئی دور میں اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ نہیں تھی؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جو پہلے ہوا وہ تو ہوچکا، اب آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پہلے غلطیاں ہوئیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پھر دہرائیں، غلطیوں کا تدارک کیا جائے اور معذرت کرلی جائے تو کافی ہے اور بانی پی ٹی آئی کہہ چکے ہیں کہ میرے دور میں کچھ ہوا تو معذرت چاہتا ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور ہم نے کسی پر مقدمات نہیں بنائے نہ کسی کو جیلوں میں ڈالا لیکن اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

 اویس لغاری سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، توانائی سیکٹر میں تعاون پر تبادلہ خیال

مزید :.

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی

پڑھیں:

اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا مجبوری ہے، معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، صدر زرداری

لاہور:

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا ہماری مجبوری ہے، جانتا ہوں تحریری معاہدے کے نکات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

صدر آصف علی زرداری سے پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی وفد کے ارکان اور تنظیمی رہنماؤں نے گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق پارٹی رہنماؤں نے آصف زرداری کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیے۔

وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ انتظامی معاملات میں پیپلز پارٹی کے اراکین کو نظرانداز کیا جاتا ہے، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے معاملہ میں بھی ترجیح نہیں دی جا رہی۔ پارلیمانی وفد نے صدر کو حلقوں کے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

صدر سے ملاقات کرنے والوں میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر، پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی، سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود، ارکان پنجاب اسمبلی سردار ممتاز علی چانگ، ملک واصف مظہر راں، جام رئیس نبیل، رانا اقبال سراج قاضی احمد سعید، میاں کامران عبداللّٰہ مڑل، سید عامر شاہ، حبیب الرحمان چانگ، انعام باری، نرگس فیض ملک، نیلم جبار اور شازیہ عابد شامل ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ ارکان پنجاب اسمبلی کے مسائل سے متعلق وزیراعظم سے بات کروں گا جبکہ پارلیمانی وفد آئندہ بجٹ آنے تک مسائل حل ہونے کا انتظار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی کے دور میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار غلطی قرار دیدیا
  • ملٹری ٹرائل کیس:پریکٹس پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو سن 73 سے اپیلیں آ جاتیں، جج آئینی بینچ
  • پانچ ججز متفق تھے کہ سویلینز کا خصوصی ٹرائل نہیں ہوسکتا، آئینی بینچ کے ریمارکس
  • اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا مجبوری ہے، معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، صدر زرداری
  •  جب میں امریکہ پہنچی: پہلی بار یہ معلوم ہوا کہ ایرپورٹ پر قطار توڑنا کتنی بڑی غلطی ہے چاہےکسی کی مدد کے لیے ہی کیوں نہ ہو‘‘
  • پیپلز پارٹی پارلیمانی وفد کی حکومت کیخلاف شکایتیں، صدر زرداری نے ساتھ مجبوری قرار دیدیا
  • اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا ہماری مجبوری ہے،صدر آصف علی زرداری
  • بائیکر لائن کا رنگ خراب،عظمی بخاری کا بیرسٹر سیف کے بیان پر ردعمل سامنے آ گیا
  • وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا بیرسٹر سیف کے بیان پر ردعمل