صدر پی ایف یو جے افضل بٹ  نے اسلام آٓباد میں منعقدہ اپوزیشن کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے عمران خان کے دور حکومت میں مریم اورنگزیب نے پیکا کو کالا قانون کہا، اس وقت کی اپوزیشن قیادت شہباز شریف اور بلاول بھٹو 2 مرتبہ ایکٹ کے خلاف لگائے ہمارے احتجاجی کیمپ میں آئے۔

ان کا کہنا تھاکہ آج شاید ہم خود احتسابی سے ڈرتے ہیں، ہمارے لئے نہ پابندیاں نئی بات ہیں نہ جدوجہد، جب نواز شریف کو سزا ہوئی پیمرا کی طرف سے آرڈر آیا کہ سزا یافتہ شخص کو ٹی وی پرنہ دکھایا جائے، ہم عدالت گئے، سلمان اکرم راجہ پٹشنر تھے اور سب کو پتا ہے ہمارے ساتھ کیا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے خطاب کیا اور کہا یہ لوگ افرا تفری پھیلانا چاہتے ہیں، پھر پیکا دوبارہ زندہ ہوگیا، ہم عدالت گئے اطہر من اللہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، مریم اورنگزیب نے عدالت میں کہا کہ پیکا کالا قانون ہے ہم بھی پٹشنر بننا چاہتے ہیں، ہم پارلیمنٹ احتجاج کیلئے گئے۔

افضل بٹ نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پریس گیلری کو تالا لگا دیا گیا، اس وقت کی اپوزیشن قیادت شہباز شریف اور بلاول بھٹو دو مرتبہ ہمارے کیمپ میں آئے، آج وہ اپوزیشن اقتدار میں آ گئی ہے اور فُل اسٹاپ اور کومہ تک پر پابندی لگا دی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو تھوڑا بہت سانس لی لیتے تھے اب اس کی بھی اجازت نہیں، جو لوگ ماضی میں غلطیاں کر چکے ہیں ان سے ایک لائین لکھوا لیتے کہ جو غلطی کی وہ آئندہ نہیں کریں گے، اگر غلطیوں پر ندامت کا احساس نہیں کرنا تو پھر ایسے اجلاس ہمیشہ منعقد ہوتے رہیں گے۔

 

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ناجائز حکومت آئین کے نام سے گھبراتی ہے، کل اسلام آباد میں قومی کانفرنس ہر صورت ہوگی، اپوزیشن اتحاد

اپوزیشن اتحاد نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت ناجائز حکومت ہے جو آئین کے نام سے گھبراتی ہے، ہم اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کررہے ہیں، کل اسلام آباد میں قومی کانفرنس ہر صورت ہوگی۔

اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پشتونخواہ میپ کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہاکہ ہم ان قوتوں کے باغی ہیں جو ملک کو کرپشن اور مار دھاڑ سے چلاتے ہیں، ہم گلی گلی میں ان ناجائز حکمرانوں کا احتساب کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں باقاعدہ اپوزیشن اتحاد کی تیاریاں، پہلے مرحلے پر کیا ہوا، مزید کیا ہونے جارہا ہے؟

انہوں نے کہاکہ ہم اس ناجائز اسمبلی کو نہیں مانتے، اگر یہی انداز جاری رہا تو اپنی اسمبلی لگائیں گے۔

سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہمارا مقصد ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں جو حکومت قائم ہے یہ عوام کی نمائندہ نہیں، جعلی حکمران آئین کے نام سے گھبراتے ہیں۔ ہم آئین و قانون کی بالادستی کی جدوجہد کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کررہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حکمران عوام کی رائے سے گھبراتے ہیں، کل کی کانفرنس میں آئین اور معیشت پر بات ہوگی۔

اس موقع پر سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہاکہ کل کی کانفرنس ہر حال میں ہوگی، ہمارے بڑوں نے یہ ملک حاصل کیا تھا اور اب انہی کی اولادیں اسے محفوظ کریں گی۔

انہوں نے کہاکہ جمہور اور انسانی حقوق کے لیے اٹھنے والوں کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت سہمی ہوئی ہے۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہاکہ ہم پاکستان میں انسانی قوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائیں گے، حکومت ڈری اور سہمی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی یا اپوزیشن اتحاد میں شمولیت سے انکار کردیا

اس موقع پر ناصر شیرازی نے کہاکہ کل آئین و قانون کو ماننے والی قوتیں اسلام آباد میں جمع ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئین و قانون کی بالادستی اپوزیشن اتحاد اسلام آباد اجلاس اسمبلی جدوجہد سلمان اکرم راجا شاہد خاقان عباسی قومی کانفرنس محمود اچکزئی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پیکا کا حقیقی مسودہ انتہائی خوفناک تھا، ہماری کوششوں سے ایکٹ میں کئی ترامیم کی گئیں، بلاول بھٹو
  • پیکا کا حقیقی مسودہ انتہائی خوفناک تھا، ہماری کوششوں سے اس میں کئی ترامیم کی گئیں، بلاول بھٹو
  • بلاول کا متنازع پیکا قانون کا دفاع، 26 ویں آئینی ترمیم کو کمپرومائزڈ قرار دیدیا
  • پیکا قانون آئیڈیل نہیں لیکن اپنی مجوزہ شکل سے بہتر ہے، بلاول بھٹو زرداری
  • پیکا قانون ابتدائی تجویز پر منظور نہیں ہوا: بلاول بھٹو
  • شہباز شریف، مریم نواز کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر نوٹسز جاری
  • ناجائز حکومت آئین کے نام سے گھبراتی ہے، کل اسلام آباد میں قومی کانفرنس ہر صورت ہوگی، اپوزیشن اتحاد
  • مریم نواز کی ایک برس کی کارکردگی پر اشتہار، ’جن اخبارات نے اشتہار چھاپا ان پر پیکا نہیں لگتا؟‘
  • سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا ترامیم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا