عدلیہ کو کمزور کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی:شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
عوام پاکستان پارٹی ( اے پی پی) کے کنوینر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جب تک آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی. ملک میں سیاسی انتشار رہے گا اور معیشت نہیں چلے گی۔ اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین کا لفظ حکومت کے لیے خوفزدہ کردینے والا لفظ بن گیا ہے.
اس موقع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کوئی ملک ریاستی اداروں اور افواج کے بغیر نہیں چل سکتا. ملک کو ملنے والی آزادی کے ثمرات نیچے تک نہیں گئے، ہمارے لوگوں کو حق حکمرانی میں شراکت دار نہیں بنایا گیا. حق مانگنے پر الزامات لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔محمود اچکزئی نے کہا کہ سینکڑوں سال جیل ہوئی مگر ہم پاکستان کے خلاف نہیں گئے. 8 فروری کے انتخابات میں آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں. ہم اس ملک میں حق حکمرانی چاہتے ہیں، حق صرف آئین کی حکمرانی سے ہی ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ عمر ایوب کے دادا نے میرے والد کو 14 سال کے لیے جیل میں ڈالا. خوشی ہے عمر ایوب اب یہ جمہوریت کی طرف آگئے ہیں، جو پیسے لیتا اور ضمیر بیچتا ہے اسے اہمیت اور ایماندار کو گھسیٹا جاتا ہے. خالد بن ولید کو دوران جنگ کہا گیا کہ آپ آرمی چیف نہیں ہیں. ہمیں اس قسم کا نظام لانا ہوگا، شہباز شریف اور اس کی پارٹی جھوٹ کو پرموٹ کر رہے ہیں
یاد رہے کہ 6 فروری 2025 کو حکومت اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنے کے لیے ایک اور کوشش کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو حکومت مخالف تحریک کا حصہ بنالیا تھا۔ مری سے مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن قومی اسمبلی سے یہ ملاقات تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لکھے گئے خط کے بعد ہوئی، جس میں عوام اور فوج کے درمیان مبینہ اعتماد کی کمی کو دور کرنے کے لیے ’اصلاحی اقدامات‘ کی تجویز دی گئی تھی۔پی ٹی آئی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ گرینڈ الائنس کی قیادت شاہد خاقان عباسی کریں گے، یہ فیصلہ بنی گالہ میں سابق اسپیکر اسد قیصر کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے جمع ہونے کے بعد کیا گیا۔اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ راجا ناصر عباس، شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور دیگر نے شرکت کی تھی۔
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی کرنے کے لیے نے کہا کہ ملک میں
پڑھیں:
شاہد خاقان عباسی چیف جسٹس سے متعلق غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب بیان پر معافی مانگیں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان سے متعلق بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیئر اور تجربہ کار سیاستدان کی جانب سے بیان مکمل طور پر غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب ہے، ان کے کہے گئے الفاظ ان کے قد کاٹھ کے شایان شان نہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ایک سیاسی جماعت کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سے قبل وزیر اعظم کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے بیان سے سپریم کورٹ کی ادارہ جاتی ساکھ اور ملک کے اعلیٰ ترین عدالت پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے بیان سے وکلا برادری کو تکلیف پہنچی جبکہ شاہد خاقان عباسی نے بیان سے خود کو بے وقعت کیا۔ سپریم کورٹ نے ہمیشہ تعمیری تنقید کا خیر مقدم کیا ہے اور عدلیہ سے متعلق متعدد مسائل پر کھلی بحث کی حوصلہ افزائی کے لیے اختلاف رائے کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ہماری عمارتیں گرائیں گے تو پھر سب کی گریں گی، شاہد خاقان نے ایسا کیوں کہا؟
ہم کسی فرد کو اس کے قد و قامت سے قطع نظر، عدلیہ سمیت ملک کے کسی ادارے کو داغدار اور بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم شاہد خاقان عباسی سے معافی کی توقع رکھتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ مستقبل میں اپنے عوامی بیانات سے محتاط رہیں۔
یاد رہے کہ نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ چیف جسٹس کی حیثیت ایک چپڑاسی کی نہیں ہے۔ شو کے میزبان نے انہیں ٹوکا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ میں اس سے بڑی بات بھی کہہ سکتا ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چپڑاسی چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شاہد خاقان عباسی