الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے جلد قانونی سازی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر پیپلزپارٹی سخت برہم

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن وفاق اور صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا پابند ہے، بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبوں کی ذمہ داری ہے تاہم بدقسمتی ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم جب بھی بلدیاتی الیکشن کی تیاری کرتے ہیں صوبائی حکومتیں قوانین میں تبدیلیاں کردیتی ہیں، جس سے الیکشن کمیشن کو سارا کام دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے، صوبائی حکومتوں نے مختلف اوقات میں 5 مرتبہ بلدیاتی الیکشن قوانین میں ترامیم کیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں جماعتی بنیادوں پر جلد بلدیاتی انتخابات ہوں گے، صوبائی وزیر بلدیات

انہوں نے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت قانون سازی کا عمل جلد مکمل کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا فوری انعقاد یقینی بنایا جاسکے، 3 صوبوں، کنٹونمنٹس میں انتہائی جہدوجہد کے بعد بلدیاتی انتخابات کروانے میں کامیاب ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات پنجاب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا قانون سازی.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات چیف الیکشن کمشنر میں بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن کے لیے

پڑھیں:

پنجاب میں 100سال پرانے فوجداری قوانین تبدیل کرنے کا فیصلہ

پنجاب میں 100سال پرانے فوجداری قوانین تبدیل کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 February, 2025 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )پنجاب میں 100 سال سے زائد پرانے فوجداری قوانین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق قوانین تبدیل کرنے کے لیے قانونی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی کامران عادل کمیٹی کے سربراہ اور ایڈیشنل سیکرٹری(جوڈیشل)محکمہ داخلہ عمران حسین رانجھا سیکرٹری ہوں گے، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ قانون محمد یونس، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حسن خالد اور نمائندہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کمیٹی ممبران میں شامل ہیں۔یہ قانونی اصلاحات کمیٹی 3 ماہ میں رپورٹ محکمہ داخلہ کو پیش کرے گی۔ترجمان کے مطابق کمیٹی فوجداری قوانین کو جدید اور موثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرے گی، کمیٹی ضابطہ فوجداری 1898، تعزیرات پاکستان 1860 میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے گی۔

کمیٹی قانون شہادت آرڈر 1984 میں ترامیم اور قومی سلامتی کے قانون کا مسودہ تیار کرے گی جبکہ جرائم کی روک تھام، قانون کے مثر نفاذ امن عامہ کی بحالی سے متعلق قانونی اصلاحات لائی جائیں گی۔کمیٹی پنجاب میں خصوصا خواتین اور بچوں کے تحفظ، انسداد دہشت گردی، سائبر کرائم، سائبر سکیورٹی، بین الصوبائی رابطہ سے متعلق قوانین میں ترامیم تجویز کرے گی۔یہ کمیٹی جدید سائنسی تکنیک، قوانین اور معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ترامیم بھی تجویز کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمتی سے کوئی بھی صوبائی حکومت انتخابات کیلئے تیار نہیں، چیف الیکشن کمشنر
  • حسن بھون ایڈووکیٹ جوڈیشل کمیشن کے رکن بن گئے
  • بلدیاتی انتخابات میں تاخیر؛ پنجاب حکومت کی جلد قانون سازی کی یقین دہانی
  • اطلاعات کے حصول کا حق
  • حکومت کا ڈیجیٹل کرنسی کی پالیسی سازی کیلئے نیشنل کرپٹو کونسل بنانے کا فیصلہ
  • پنجاب میں 100سال پرانے فوجداری قوانین تبدیل کرنے کا فیصلہ
  • جرمنی میں انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ جاری
  • قیدیوں کے حقوق اور بحالی کو یقینی بنانے کیلیے جامع پالیسی بنائی جائے، چیف جسٹس کی ہدایت
  • جرمن الیکشن میں قدامت پسندوں کی جیت، اے ایف ڈی دوسرے نمبر پر