چینی فلم’نیژا 2′ اینیمیٹڈ فلم باکس آفس میں پہلے نمبر پر
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
چینی فلمیں گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا بھر میں اپنی منفرد کہانیوں، شاندار ویژول ایفیکٹس، اور بڑے پیمانے پر پروڈکشن کے لیے مشہور ہیں۔ چین کی فلمی صنعت، جسے ‘بالی ووڈ’ کے مقابلے میں ‘چائنا ووڈ’ بھی کہا جاتا ہے، نے نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پہچان بنائی ہے۔ چینی فلموں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ فلمیں اب دنیا کی سب سے بڑی باکس آفس مارکیٹس میں سے ایک ہیں۔
چینی فلموں کی تاریخچینی فلموں کی تاریخ کا آغاز 20ویں صدی کے اوائل میں ہوا۔ پہلی چینی فلم ‘دی بیٹل آف ڈنگجونگ’ 1905 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے چینی فلمی صنعت نے کئی ادوار دیکھے ہیں، جن میں سیاسی تبدیلیوں، ثقافتی انقلاب، اور معاشی ترقی کے اثرات شامل ہیں۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں چینی فلموں نے بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل کی، خاص طور پر ڈائریکٹرز جیسے ژانگ ییمو اور چین کائگے کی فلموں نے۔
چینی فلمیں اب صرف چین تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ فلمیں جیسے ‘کروچنگ ٹائیگر، ہڈن ڈریگن’ (2000)، ‘ہیرو’ (2002)، اور ‘دی گرینڈ ماسٹر’ (2013) نے نہ صرف چین میں بلکہ دنیا بھر میں شاندار باکس آفس کامیابی حاصل کی۔
چینی فلموں کی بین الاقوامی کامیابی کی ایک اور بڑی مثال ‘دی وینڈرنگ ارتھ’ سیریز ہے، جو چینی سائنس فکشن فلموں کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس سیریز کی پہلی فلم ‘دی وینڈرنگ ارتھ’ (2019) نے دنیا بھر میں 700 ملین ڈالر سے زیادہ کی کمائی کی۔
چین کی باکس آفس مارکیٹ اب دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکی ہے۔ 2020 میں، چین نے امریکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ باکس آفس ریونیو حاصل کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ چین کی بڑھتی ہوئی متوسط طبقے کی آبادی ہے، جو سینما جانے اور فلموں سے لطف اندوز ہونے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیار ہے۔ چینی فلموں کی مقبولیت کا ایک اور سبب یہ ہے کہ چین میں ہالی ووڈ فلموں کے مقابلے میں مقامی فلموں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چینی حکومت کی جانب سے ہالی ووڈ فلموں پر لگائی جانے والی پابندیاں بھی مقامی فلموں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
2025 میں چینی فلمیں باکس آفس پر راج کر رہی ہیں، اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ چین کی فلم انڈسٹری نے گزشتہ کچھ سالوں میں زبردست ترقی کی ہے، اور اب یہ نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔
چینی فلموں کے معیار اور ٹیکنالوجی میں جدتچینی فلمیں اب صرف ایکشن یا تاریخی ڈراموں تک محدود نہیں ہیں۔ چینی فلم میکرز نے فلموں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا ہے۔ ویژول ایفیکٹس، سنیماٹوگرافی، اور پروڈکشن ویلیو میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، چینی فلمیں اب بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں مقبول ہو رہی ہیں۔
چینی ثقافت اور تاریخ کو فلموں میں بہترین طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے۔ چینی فلمیں اب صرف چین تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ ایشیا، یورپ، اور امریکا میں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔ چینی ثقافت کی منفرد پہچان اور اس کی داستانیں بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو متوجہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ چینی فلمیں اب صرف مقامی موضوعات تک محدود نہیں ہیں۔ وہ عالمی مسائل، جیسے ماحولیاتی تبدیلی، سماجی انصاف، اور انسانی حقوق کو بھی اپنے موضوعات میں شامل کر رہی ہیں۔ اس سے چینی فلمیں عالمی سطح پر مقبول ہو رہی ہیں۔
چینی حکومت نے فلم انڈسٹری کو بڑی حد تک سپورٹ کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے فنڈنگ، پالیسیوں میں تبدیلی، اور بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں شرکت کو فروغ دیا گیا ہے۔ اس سے چینی فلمیں عالمی سطح پر نمایاں ہو رہی ہیں۔
2025 میں چینی فلمیں باکس آفس پر راج کر رہی ہیں، اور اس کی وجہ چینی فلم انڈسٹری کی مسلسل ترقی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، ثقافتی اثرات، اور بین الاقوامی تعاون ہے۔ چینی فلمیں اب صرف چین تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری دنیا میں اپنا اثر بڑھا رہی ہیں۔ مستقبل میں چینی فلم انڈسٹری کا ستارہ اور بھی بلند ہونے کی توقع ہے۔
چینی نئے سال کے موقع پر جاری ہونے والی فلم ‘نیژا2 ‘ نے دنیا بھر کے سینماؤں میں کامیابی سمیٹی ہے۔ نیٹ ورک پلیٹ فارم کے اعداد و شمار کے مطابق،18فروری کو چینی اینیمیٹڈ فلم’نیژا 2’ کا عالمی باکس آفس 1698 ملین ڈالرز سے تجاوز کر گیا۔ یوں یہ فلم عالمی اینیمیٹڈ فلم باکس آفس فہرست میں پہلے نمبر پر آ گئی ہے اور عالمی سطح پر فلمی تاریخ کی باکس آفس فہرست میں سر فہرست 8فلموں میں شامل ہوگئی ہے، جو ‘دی لائن کنگ’ (2019) سمیت دیگر اینیمیٹڈ فلموں کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
اس سے قبل بھی ‘نیژا 2’ نے مسلسل کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں اور یہ عالمی اینی میشن فلم باکس آفس چارٹ میں ٹاپ 2 میں شامل ہوگئی ہے۔ یہ چینی فلم کی تاریخ میں پہلی فلم ہے جس نے پورے ایشیا میں10 بلین یوآن کو عبور کیا ہے اور اس نے عالمی سطح پر کسی ایک فلمی مارکیٹ میں سب سے زیادہ باکس آفس کا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔
یہ اینیمیٹڈ فلم قدیم چینی افسانوں پر مبنی ہے، اور اینیمیشن پروڈکشن میں جدید ترین تکنیکی ذرائع کا استعمال کیا گیا ہے۔ 138 اینیمیشن کمپنیوں کے 4ہزار افراد نے اس فلم کی تکمیل کے لیے 5 سال تک کام کیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی فلموں جیسے ‘نیژا 2’، ‘فینگشین 2’ اور ‘تانگ ڈیٹیکٹو 1900’ کی مقبولیت کے ساتھ ، 17 فروری کو، نیشنل فلم ایڈمنسٹریشن اور چائنا میڈیا گروپ کے زیر اہتمام ‘فالو دا موووی ٹور ان چائنا’ کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ جس کا مقصد چینی فلموں کی عالمی مارکیٹ میں اسکریننگ اور بین الاقوامی فلم فیسٹیولز اور نمائشوں کی مدد سے ‘فلم اور سیاحت’ کو فروغ دینا ہے۔
چینی فلموں کے لیے مستقبل کی راہیں روشن نظر آرہی ہیںان کامیابیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ چینی فلمی صنعت کا مستقبل روشن نظرآتا ہے۔ چین کی حکومت فلمی صنعت کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ 3D اور IMAX کے استعمال سے چینی فلمیں اب پہلے سے کہیں زیادہ دیدہ زیب اور پرکشش ہوگئی ہیں۔
چینی فلمیں اور باکس آفس کامیابی کا ایک شاندار سفر طے کرچکے ہیں۔ چین کی فلمی صنعت نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں اپنی پہچان بنا چکی ہے۔ مستقبل میں، چینی فلمیں مزید ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، اور یہ صنعت دنیا بھر کے فلم بینوں کے لیے مزید پرکشش اور دلچسپ فلمیں پیش کرتی رہے گی۔ چینی فلموں کا یہ سفر نہ صرف چین کی ثقافتی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ یہ دنیا بھر کے فلمی صنعت کے لیے ایک بڑا مرکز بننے کی طرف بڑھتا ہوا ایک اہم قدم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی سطح پر چینی فلمیں اب صرف تک محدود نہیں ہیں چینی فلموں کی سے چینی فلمی عالمی سطح پر میں چینی فلم دنیا بھر میں فلم انڈسٹری کر رہی ہیں فلمی صنعت ا رہی ہیں سے زیادہ فلموں کے باکس آفس میں چین صرف چین چین کی کی فلم کے لیے اور اس
پڑھیں:
’بڑا دکھ ہے‘، عامر خان نے بیٹے کی فلم ”لوویاپا“ کی باکس آفس ناکامی پر خاموشی توڑ دی
عامر خان نے اپنے بیٹے جنید خان کی پہلی فلم ”لویاپا“ کی باکس آفس پر ناکامی پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بہت دکھ ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے ذاتی پراجیکٹس سے زیادہ جنید کی فلم کے بارے میں فکر مند تھے۔
بالی ووڈ کے سپر اسٹار عامر خان کے بیٹے جنید خان نے حال ہی میں خوشی کپور کے ساتھ اپنی پہلی فلم ”لوویاپا“ کے ذریعے بڑے پردے پر قدم رکھا۔ یہ رومانوی کامیڈی فلم ہونے کے باوجود باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی، جس سے نہ صرف مداحوں بلکہ جنید کے خاندان کو بھی مایوسی ہوئی۔
عامر خان، جو اپنی جذباتی گہرائی کے لیے جانے جاتے ہیں، نے اب اس فلم کی کم کامیابی اور اپنے بیٹے کے مستقبل کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عامر خان نے ایک انٹرویو میں کہا، ”بدقسمتی سے فلم نہیں چل سکی، مجھے اس کا بہت دکھ ہے۔“
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلم اور جنید کی اداکاری دونوں ہی قابل ستائش ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے پروجیکٹس سے کہیں زیادہ ”لوویاپا“ کے لیے بے چین تھے۔ ونڈو کے قریب کھڑے ہو کر، ان کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا۔ انہوں نے اس احساس کو والد کے ناقابل بیان جذبات سے منسلک کرتے ہوئے کہا، ”میں دور سے دیکھ رہا ہوں، اور میرا دل تیزی سے دھڑک رہا ہے۔“
انہوں نے فلم انڈسٹری کی غیر یقینی نوعیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا، ”یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں آپ کو کامیابی اور ناکامی دونوں کا سامنا ہوتا ہے۔“ تاہم، وہ پرامید ہیں اورجنید خان کی مثبت سوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناکامی انہیں آگے بڑھنے میں مدد دے گی۔
جنید خان کے مستقبل کے حوالے سے عامر خان نے بتایا کہ جنید نے پہلے ہی عامر خان پروڈکشن کے تحت ایک اور فلم مکمل کر لی ہے، جو اس سال کے آخر میں ریلیز ہو گی۔ فلم میں جنید خان اور سائی پلاوی کو جوڑا گیا ہے، جسے عامر خان نے ”اچھی محبت کی کہانی“ قرار دیا۔
اگرچہ ”لوویاپا“ باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی، لیکن یہ جنید خان کے کیریئر کا ایک اہم آغاز تھا، جس نے بالی ووڈ میں نئی نسل کے لیے نئے دروازے کھولے ہیں۔