ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے: بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے: بلاول بھٹو WhatsAppFacebookTwitter 0 26 February, 2025 سب نیوز
کراچی :چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
آکسفورڈ یونین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان میں جمہوریت مضبوط نہیں، دیگر ممالک کو بھی جمہوریت سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے، پیپلزپارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے ، پیپلزپارٹی کا میثاق جمہوریت میں اہم کردار تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں اپوزیشن کو مصروف رکھا، قومی سیاست میں ضرورت پڑنے پر پیپلزپارٹی نے ہی ساتھ دیا ہے، ماضی میں احتساب کے نام پر پیپلز پارٹی کو نشانہ بنایاجاتارہا، آصف زرداری پہلی بار منتخب ہوئے تو کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا، بانی پی ٹی آئی کے دور میں میری پھپھو کو گرفتار کیاگیا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں شہبازشریف اور دیگر سیاسی لوگ گرفتار ہوئے، ہم سیاسی طور پر کسی کو بھی نشانہ بنانے کے حامی نہیں، مسائل کے حل کیلئے پیپلزپارٹی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، بانی پی ٹی آئی کے دور میں سیاسی قیدیوں کیلئے جیل مینو تک تبدیل کیاگیا، اب جیل مینو کی تبدیلی اور سہولیات فراہمی کی استدعاہورہی ہے۔
پی پی چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری نے بطورسیاسی قیدی طویل عرصہ جیل میں گزارا، پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو ہم نے کہا جمہوریت بہترین انتقام ہے ہم نے ہمیشہ نیب کے نظام احتساب کی مخالفت کی ، سمجھتے ہیں اداروں کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اداروں کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال نہیں ہونا بلاول بھٹو
پڑھیں:
جوہری صلاحیت کا حامل ایران ایک ذمہ دار ملک ہے، اسحاق ڈار
غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی صلاحیتوں اور استعمال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو کے دوران ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول اور استعمال کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ایران اس حوالے سے ایک ذمہ دار ملک ہے، اس لیے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیتوں اور استعمال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کرے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسلام آباد کا اس حوالے سے واضح موقف ہے کہ ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ایٹمی معاہدے اور مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ہم ممالک کی قومی خودمختاری کے احترام کے اصول پر کاربند ہیں اور کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ باہمی احترام اور دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ٹرمپ کے دور میں ایٹمی معاہدے سے امریکی انخلاء اور مستقبل میں اس معاہدے کی بحالی کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک اس معاہدے کی موجودہ حیثیت کے بارے میں مکمل معلومات تک رسائی نہیں رکھتے، لیکن ہمارے اصولوں میں ہمیشہ تسلسل رہا ہے۔