اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
عموماً مذہب اور سائنس کو ایک مغالطہ کے زیر اثر ایک دوسرے کا متضاد یا مدمقابل قرار دیا جاتا ہے۔ بالخصوص اسلام کو سائنس میں ڈھونڈنے کا الزام اسی ایک سطحی سوچ کا نتیجہ ہے۔ پوری قرآنی آیات اور تعلیمات و احادیث مبارکہ میں کسی ایک جگہ پر بھی سائنس اور ٹیکنالوجی یا دیگر جدید علوم کے برخلاف کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ چہ جائیکہ کہ قرآن کریم کبھی تفصیلاً اور کبھی اشاروں کنایوں میں دین اسلام کے عالمگیر علوم اور زندگی کے عملی قواعد و ضوابط کا ایک مکمل اور بھرپور نمونہ پیش کرتا ہے۔
قرآن کریم کے شائد بہت کم محققین اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ قرآن مقدس میں قیامت تک کی جدید سے جدید تر سائنسی و آفاقی تعلیمات کے بارے میں ارشادات باری آیات کی صورت میں موجود ہیں۔ اگر کسی قاری یا مفسر کی نظر اس طرف نہیں جاتی تو یہ ان کا قصور ہے قرآن مجید کا نہیں ہے۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے جن کو رب کائنات نے غیر متبدل اور اٹل طبیعاتی قوانین کے مطابق قائم رکھا ہوا ہے۔ قرآن بلیض میں ایک ایک آیت کے لامتناہی مطالب اور مفاہیم ہیں جن کو وقت کے قدیم اور جدید پیمانوں پر جب بھی پرکھا جائے گا وہ ان کے معیار اور مقام پر عین پورا اتریں گے۔ قرآنی آیات کو اسی لئے “آیات آفاق” بھی کہا جاتا ہے کہ ان سے ہر آنے والے جدید دور میں اس کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق ہمیشہ معانی اور مطالب نکلتے رہیں گے۔ اگر قرآن کی کچھ آیات کا لفظی ترجمہ کیا جاتا ہے، ان کی معنویت سے کچھ ناپسندیدہ چیز برآمد کی جاتی ہے تو اس میں انسانی فہم و فراست کی لغزش ہے ورنہ قرآن اقدس میں کسی بھی جگہ کم بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے یعنی قرآن فرقان کے ہم قارئین اور مبصرین و مبلغین کو کوئی غلطی لگ سکتی ہے مگر قرآن حکیم میں کسی غلطی یا لغزش کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔قرآن پاک میں مثال کے طور پر ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ، “اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو،” جس کا ایک مطلب و مفہوم “اللہ کی رسی” سے متعلق ہے اور دوسرا تفرقہ میں نہ پڑو” کے بارے میں ہے۔ اللہ کی رسی کو طبیعات کے بنائے گئے سائنسی قوانین سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اسے انسانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق سے بھی موسوم کیا جا سکتا ہے جبکہ تفرقے میں نہ پڑو سے مراد یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے انہی سائنسی قوانین میں زندگی اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو بھٹک جائو گے اور ناکام رہو گے۔ اللہ کی یہ رسی پوری کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس نے کائنات کی ایک عام سی چیز لکڑی اور پتھر وغیرہ سے لے کر زمین، چاند ستاروں اور کہکشائوں کو سائنس کی زبان میں کہا جائے تو کشش ثقل” کے ذریعے ایک مضبوطی کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یہ کائنات تب تک قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ جب اللہ تعالی اپنی اس رسی (Gravity) کو کو کھول دے گا یا ختم کر دے گا تو سارے ستارے اور سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور “قیامت” برپا ہو جائے گی جس کی سائنس اور مذہب دونوں تصدیق کرتے ہیں کہ بلآخر ایک دن یہ کائنات منہدم ہو جائے گی۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر ہم بنی نوع انسان زندگی، کائنات اور اپنے روزمرہ کے معاملات کو ان مصدقہ سائنسی اور فطری اصولوں اور قاعدوں کے مطابق نہیں چلائیں گے تو ہماری زندگی نہ صرف پرآسائش نہیں ہو گی بلکہ اس سے ہر دم ہمارا سامنا ایک قیامت صغری” سے رہے گا۔ اس آیت مبارکہ کا ترجمہ اور مفہوم “مذہبی تفرقے” کے حوالے سے کیا جائے تو قرآن پاک میں واضح طور پر تفرقوں یا فرقہ بندی” سے منع کیا گیا ہے مگر قرآن حمید کی اس آیت کریمہ کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت خود کو سنی، شیعہ، وہابی، دیوبندی اور اہل حدیث وغیرہ کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے حالانکہ یہ تمام فرقے قرآن کی اس آیت کو جھٹلاتے ہیں یعنی قرآن حکیم مسلمانوں کو فرقہ بندی سے منع کرتا ہے مگر ہم مسلمانوں کی اکثریت ان پر ایمان رکھتی ہے۔قرآن عظیم کی اس آیت مبارکہ کا دین اسلام پر صحیح اطلاق کیا جائے تو اس کی روشنی میں مسلمانوں کے تمام فرقے قرآن کے متضاد اور متوازی فرقے” یا “مذاہب” ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی لینا دینا ہے، نہ اس کی مثال نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زندگیوں میں ملتی ہے اور نہ ہی صالحین ان پر ایمان رکھتے ہیں۔دین اسلام بہت سادہ اور سائنسی قواعد کا ضابطہ حیات ہے جن سے انحراف اسی طرح کی تنزلی سے دوچار کرتا ہے جس طرح سے آج مسلم دنیا زوال سے گزر رہی ہے۔
(جاری ہے)
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: دین اسلام اللہ کی اس ا یت ہے اور
پڑھیں:
پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے، رانا ثنا اللہ
لاہور( این این آئی)وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی کا سامنا ہے اور اس کے پیچھے بھارت ہے،بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی غیر ملکی فنڈنگ سے ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے بھارت ہے۔ایک انٹرویومیںانہوںنے کہا کہ بلوچستان میں فارن فنڈڈ دہشتگردی ہے،پاکستان کی دشمن قوتیں دہشتگردوں کے پیچھے ہیں، دہشتگردی کے پیچھے بلوچستان کا عام آدمی نہیں، پہاڑوں سے آ کر بسوں سے اتار کر مارنا ایسے لوگ تو دیگر شہروں میں بھی ہیں۔انہوںنے کہا کہ کیا دہشتگرد بلوچستان میں بھتہ خوری نہیں کرتے ، کوئلہ کانوں سے پیسے نہیں لیتے؟، 22 سے 23 مزدوروں کو گولیاں ماردی گئیں یہ آزادی کی تحریک ہے؟ ، پہاڑوں پر چھپ جانا آسان ہے ، پہاڑوں سے ڈھونڈنا مشکل ہے۔دہشتگردوں کو طالبان ، را ء اور باقی دشمن ایجنسیوں کی سپورٹ ہے، دہشتگرد پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں، دہشتگرد پہاڑوں سے دوسرے ممالک چلے جاتے ہیں واپس بھی آجاتے ہیں ، باڑ لگانے سے فرق پڑا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے حکمرانوں کا دہشتگردی کے معاملے پر رویہ درست نہیں، دہشتگرد کس قسم کی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ تو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، جب تک ہماری سکیورٹی ایجنسیز ہیں پاکستان کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکے گا، سکیورٹی ایجنسیز کام کر رہی ہیں ، مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے، روز انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے ہیں ، ہمارے جوان اور افسران شہید ہوتے ہیں۔