جو نسخہ جاسوسی ادارے استعمال کر رہے ہیں، وہ روس استعمال کرکے بری طرح ناکام ہوچکا، محمود اچکزئی WhatsAppFacebookTwitter 0 26 February, 2025 سب نیوز


اسلام آباد:پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ جو نسخہ آج ہمارے جاسوسی ادارے استعمال کر رہے ہیں، وہ نظام روس استعمال کرچکا ہے اور وہ بری طرح ناکام ہوا۔
اسلام آباد میں منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تحریک لوگوں کو گالیاں دینے کے لیے شروع نہیں کی، کوئی بھی ملک فوج اور خفیہ اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جاسوسی ادارے ہر ملک کی آنکھ اور کان کا کام کرتے ہیں، جاسوسی ادارے سیاسی قیادت کو معلومات فراہم کرتے ہیں جس کی بنیاد پر سیاسی قیادت ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرتے ہیں، یہاں پر نظام مختلف ہے، جو آدمی منتخب نہیں ہوکر آتا وہ کیسے عوام کا سوچے گا؟
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو نسخہ آج ہمارے جاسوسی ادارے استعمال کر رہے ہیں وہ نظام روس استعمال کرچکا ہے اور وہ بری طرح ناکام ہوا، سوویت یونین ٹوٹ گیا، ہمیں سیکھنا چاہیے، لوگوں کو تلخ تجربات سے تجربہ حاصل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر جگہ اقتدار کی جنگ ہے، ہمیں 1947 کو آزادی ملی اس آزادی کے ثمرات نیچے تک نہیں پہنچے، ہم نے آج بھی لوگوں کو حق حکمرانی نہیں دیا، جب عوام کے حق حکمرانی کی بات ہوتی ہے تو جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک آدمی ایک ووٹ کی بات کرتے تھے، ہم نے اپنے بزرگوں کی بات نہیں مانی۔

.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جاسوسی ادارے استعمال کر رہے ہیں بری طرح ناکام روس استعمال

پڑھیں:

کنن پوش پورہ کے متاثرین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں، محمود ساغر

حریت رہنما کا کہنا ہے کہ اس گھنائونے جرم میں ملوث فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کافی ثبوتوں کے باوجود مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے کنن پوش پورہ سانحے کو کشمیر کی حالیہ تاریخ کا ایک خوفناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اجتماعی عصمت دری کے متاثرین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ذرائع کے مطابق محمود ساغر نے اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں کہا کہ کپواڑہ کے علاقے کنن پوشپورہ میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری بھارتی جمہوریت کے چہرے پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ انہوں نے اسے بزدلی کا شرمناک مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 23 فروری 1991ء کے دن بھارتی فوجیوں نے سرحدی ضلع میں دہشت گردی کا کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے عمر سے قطع نظر سینکڑوں خواتین کی عصمت دری کی۔ انہوں نے اس گھنائونے جرم میں ملوث فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کافی ثبوتوں کے باوجود مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث ایک بھی بھارتی فوجی کو اب تک سزا نہیں دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے انسانی مداخلت کو کم سے کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ
  • حق مانگنے پر الزامات لگنے شروع ہو جاتے ہیں: محمود خان اچکزئی
  • آپ نے کہا فوج عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتی، اب کہہ رہے ہیں فوج اپنے لوگوں تک یہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، سویلین پر نہیں،جسٹس محمد علی مظہر
  • ہزاروں لوگ اس لئے جیلوں میں ہیں کہ انہوں نے جلوس کیوں نکالا: محمود خان اچکزئی
  • ہزاروں لوگ اس لیے جیلوں میں ہیں کہ انہوں نے جلوس کیوں نکالا: محمود خان اچکزئی
  • کنن پوش پورہ کے متاثرین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں، محمود ساغر
  • ملک غلط حکمرانوں کے ہاتھ میں آکر بحران میں گھرا ہوا ہے:محمود خان اچکزئی
  • پاکستان غلط حکمرانوں کے ہاتھ میں آکر بحران میں گھرا ہوا ہے: محمود خان اچکزئی
  • ملک غلط حکمرانوں کے ہاتھ میں آ کر بحران میں گھرا ہوا ہے، محمود خان اچکزئی