تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ براہ راست جوہری مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ جب تک واشنگٹن "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، مذاکرات ممکن نہیں۔

امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں 30 سے زائد بحری جہازوں اور ایرانی قومی آئل کمپنی کے سربراہ پر پابندیاں شامل ہیں۔

عراقچی نے تہران میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران دباؤ، دھمکی یا پابندیوں کے تحت کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

ایران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز کیا ہے اور روس اور چین کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ لاوروف نے تہران کا دورہ کیا اور اقتصادی، علاقائی اور 2015 کے جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔

ایران اور روس نے شام کے حوالے سے بھی قریبی مؤقف اختیار کیا اور شام کی خودمختاری اور استحکام کی حمایت کا اعلان کیا۔

دونوں ممالک یوکرین جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کی زد میں ہیں، جس کے بعد باہمی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
 

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے ساتھ

پڑھیں:

امریکی انکار کی صورت میں آبادکاری کے منتظر افغانوں کو ملک بدر کر دیا جائیگا: اسحاق ڈار

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے آباد کاری کے لیے قبول نہ کیے جانے والے افغان مہاجرین کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جائے گا اور ملک بدر کر دیا جائے گا۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ پاکستان اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے ، لیکن جن پناہ گزینوں کی آبادکاری سے انکار کیا گیا ہے انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور مذاکرات کریں گے تاہم اصولی طور پر اگر کسی پناہ گزین کو کسی دوسرے ملک کی جانب سے، مدت سے قطع نظر، مناسب طریقہ کار کے بعد لے جایا جاتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا اور ملک انکار کرتا ہے تو اس شخص کو پاکستان میں غیر قانونی تارکین وطن تصور کیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسے پناہ گزینوں کو ان کے اصل ملک افغانستان واپس بھیجنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔اگست 2021ء میں طالبان کے قبضے کے بعد سے اب تک تقریباً چھ لاکھ افغان ظلم و ستم کے خوف سے پاکستان ہجرت کر چکے ہیں، بہت سے لوگوں نے تیسرے ممالک، بالخصوص امریکہ میں آبادکاری کا مطالبہ کیا، تقریباً 80 ہزار افغانوں کو کامیابی کے ساتھ دوسری جگہ منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 40 ہزار سے زائد افراد اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان نے ابتدائی طور پر کسی تیسرے ملک میں آبادکاری کے منتظر افغانوں کو اس وقت تک ملک میں رہنے کی اجازت دی تھی جب تک کہ ان کی درخواستوں پر کارروائی نہیں ہو جاتی، تاہم اسحٰق ڈار کے تازہ ترین ریمارکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مہلت جلد ہی ختم ہو جائے گی۔پاکستان اس وقت 25 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن میں سے نصف یو این ایچ سی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، پہلے سے رجسٹرڈ افراد کو جون 2025 تک قیام کی مدت میں توسیع دی گئی ہے۔گزشتہ ماہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے 3 مرحلوں پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس میں اسلام آباد اور راولپنڈی سے افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر رضامندی ظاہر کرنے والی غیر ملکی حکومتوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ وہ ڈیڈ لائن سے پہلے اپنی آبادکاری کے عمل کو تیز کریں ورنہ ان لوگوں کو افغانستان واپس بھیجنے کا خطرہ مول لینا چاہیے جو پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے منتظر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جوہری صلاحیت کا حامل ایران ایک ذمہ دار ملک ہے، اسحاق ڈار
  • پیوٹن کے یار غار کا دورہ تہران
  • بھارتی وزیرِ خارجہ کی بنگلہ دیش کو وارننگ؛ ‘اپنا ذہن بنائیں کہ ہمارے ساتھ کیسے تعلقات چاہتے ہیں’
  • ایران کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت‘امریکا نے بھارت‘چین‘متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کی کمپنیوں پر پابندیاں عائدکردیں
  • ایران اور یورپی ممالک کے مابین جوہری پروگرام پر بات چیت
  • چینی کمپنیوں اور مارکیٹ کو مسترد کرنے سے خود امریکہ کو نقصان پہنچے گا، چینی وزارت خارجہ
  • حماس نے قیدیوں کی رہائی تک اسرائیل کیساتھ مزید مذاکرات سے انکار کر دیا
  • امریکی انکار کی صورت میں آبادکاری کے منتظر افغانوں کو ملک بدر کر دیا جائیگا: اسحاق ڈار
  • اسرائیلی فوج مکمل طور پر لبنانی سرزمین سے نکلے، مصری وزیر خارجہ