لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کیخلاف ایک درخواست پروفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے صحافی تنظیم کی پیکا ایکٹ میں ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پیکا ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے فیک انفارمیشن پر3 برس قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔ ماضی میں پیکا کو خاموش ہتھیار کے طور استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پیکا ترمیمی ایکٹ میں نئی سزاؤں کے اضافے سے ملک رہ جانے والی تھوڑی سی آزادی بھی ختم ہوجایے گی۔
درخواست گزار کے مطابق پیکا بل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر لایا گیا۔ پیکا ترمیمی بل کی منظوری سے آئین میں دی گئی آزادی اظہار شدید متاثر ہوگی۔ پیکا ترمیمی ایکٹ آئین میں دی گئی آزادی اظہار کے تحفظ سے متصادم ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ پیکا ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دیا جائے اور اس کے تحت ہونے والی کارروائیوں کو درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط کیا جائے۔
عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیکا ترمیمی پیکا ایکٹ ایکٹ میں

پڑھیں:

تحریک انصاف کی 22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کی درخواست خارج

جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی رہنما اکمل باری کی درخواست پر بطور اعتراض سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی 22 مارچ کو آئین اور قانون کے مطابق مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ کرنا چاہتی ہے، انتظامیہ کو جلسے کی اجازت کی درخواست دی مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی 22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کی درخواست خارج کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی رہنما اکمل باری کی درخواست پر بطور اعتراض سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی 22 مارچ کو آئین اور قانون کے مطابق مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ کرنا چاہتی ہے، انتظامیہ کو جلسے کی اجازت کی درخواست دی مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
 
درخواست میں استدعا کی گئی عدالت انتظامیہ کو پی ٹی آئی کو 22 مارچ کے روز مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کا حکم دے۔ لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے ہائیکورٹ درخواست متعلقہ کمیٹی کے سامنے دائر نہ کرنے کا اعتراض عائد کیا گیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے رجسٹرار آفس کا اعتراض بحال رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار کو ریڈرسل کمیٹی سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ریڈرسل کمیٹی فیصلہ نہیں کرتی تو آپ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔  

متعلقہ مضامین

  • توہینِ عدالت کیس،چیف سیکریٹری پنجاب کو جواب داخل کرانے کی مہلت
  • پیکا ایکٹ میں ترمیم کیخلاف درخواست، حکومت سے جواب طلب
  • پیکا ترمیمی ایکٹ، درخواستیں سماعت کیلئے آئینی بینچ کو بھیج دی گئیں
  • او ایس ڈی لگانے کیخلاف درخواست، ایف بی آر سے جواب طلب
  • پیکا کیخلاف درخواست پر جواب جمع کرانے کیلئے وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی۔
  • سندھ ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کیخلاف درخواستیں آئینی بینچ کو بھیج دیں
  • پیکا ترمیمی ایکٹ: درخواستیں سماعت کیلئے آئینی بینچ کو بھیج دی گئیں
  • تحریک انصاف کی 22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کی درخواست خارج
  • پی ٹی آئی کی22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کی درخواست خارج