اقوام متحدہ میں پاکستان کا غزہ میں مکمل اور فوری جنگ بندی پر زور
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک:اقوام متحدہ میں پاکستان نے غزہ میں مکمل اور فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پائیدارامن کے قیام کو ترجیح دے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی مغربی کنارے میں جارحیت کو فوری روکا جائے۔انسانی امداد کو ہتھیارکےطورپراستعمال نہیں کیا جا سکتا۔
سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔منگل 25 فروری, 2025
عاصم افتخار نے غزہ میں مکمل اور فوری جنگ بندی پر زوردیا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بدامنی کی جڑ اسرائیل کا غیر قانونی قبضہ ہے، عالمی برادری مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پائیدارامن کے قیام کوترجیح دے۔
پاکستان کے متبادل مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپیل کی کہ سلامتی کونسل فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خلاف ڈٹ کرکھڑی ہو۔
.ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اقوام متحدہ سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور
قرارداد میں روس کو جارح قرار دینے یا یوکرین کی علاقائی سا لمیت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا گیا
ٹرمپ انتظامیہ نے کیف اور یورپ کو ایک طرف کر کے ماسکو کے ساتھ بات چیت شروع کر دی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے امریکی حکومت کی جانب سے روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق قرارداد منظور کرلی ہے۔ا امریکا نے یوکرین کے بارے میں اقوام متحدہ کی 2 قراردادوں پر ووٹنگ میں روس کا ساتھ دیا۔دونوں ممالک نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد کی مخالفت کی تھی جس میں یوکرین میں ماسکو کی جانب سے جنگ کی مذمت کی گئی تھی، اس کے بعد یو این ایس سی میں امریکی حمایت یافتہ قرارداد منظور کرلی گئی، جس میں تنازع کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں روس کو جارح قرار دینے یا یوکرین کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا گیا ہے، امریکا کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں رکھنے والے برطانیہ اور فرانس کے علاوہ روس اور چین نے دوسری رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، اسی طرح غیر مستقل ارکان ڈنمارک، یونان اور سلووینیا نے بھی ایسا ہی کیا۔یوکرین پر روس کے حملے کی تیسری برسی کے موقع پر ہونے والی یہ ووٹنگ ایک بار پھر مغربی اتحادیوں کے درمیان گہری تقسیم کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے امریکی حمایت کو ختم کر دیا ہے، جو دیرینہ خارجہ پالیسی سے انحراف کا اشارہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کیف اور یورپ کو ایک طرف کر دیا ہے، کیونکہ امریکا نے ممکنہ امن معاہدے پر ماسکو کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔یورپی حمایت یافتہ قرارداد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 93 ووٹوں سے منظور کیا گیا تھا، جس میں روسی فیڈریشن کی جانب سے یوکرین پر جاری مکمل حملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، یوکرین، علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے اس کے تباہ کن اور دیرپا نتائج پر روشنی ڈالی گئی تھی۔