چیمپئنز ٹرافی میں شرمناک کارکردگی: بڑے فیصلے متوقع،ریکارڈ رکھنے والے سینئر کرکٹرز کا مستقبل خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی شرم ناک کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ حکام مستقبل کے لائحہ عمل پر سوچ وبچار میں مصروف ہیں ۔ماضی کے ریکارڈز پر مسلسل کھیلنے والے سینئرز کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے۔ بابر اعظم ، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف جیسے سینئرز کیلئے ٹیم میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہورہی ہے ۔ مڈل آرڈر بیٹر طیب طاہرکا مستقبل بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ماہرین سوال اٹھارہے ہیں کہ گزشتہ تین سالوں میں4چیئرمین ،8کوچز اور 26 سلیکٹرز تبدیل ہوچکے ہیں۔ تو پھر سینئر کرکٹرز ناکام ہونے کے باوجود ٹیم کا حصہ کیوں ہیں۔
7 سے 8 لڑکوں کا گروپ کئی باتیں منوانے کیلئے بلیک میلنگ کرتا ہے
بورڈ حکام اور چیئرمین محسن نقوی کیلئے سب سے بڑا چیلنج ٹیم میں مخصوص گروپ کا خاتمہ کرنا ہے۔ مبینہ طور پر سات سے آٹھ لڑکوں کا گروپ کئی باتیں منوانے کیلئے بلیک میلنگ کرتا ہے، ان کی مضبوط لابنگ بورڈ کیلئے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستان کی پندرہ رکنی ٹیم کے اعلان کے بعد پی سی بی کی جانب سے سلیکشن کمیٹی کو کم از کم دو بار اسکواڈ پر نظرثانی کی تجویز دی گئی لیکن سلیکٹرز اور کپتان محمد رضوان نے کان نہ دھرے ۔
سلیکٹرز بعض معاملات پر سخت مؤقف رکھتے ہیں، حددرجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین محسن نقوی کے کہنے پر سلیکٹرز نے قومی اکیڈمی کے بورڈ روم میں ڈیڑھ گھنٹے کی پہلی میٹنگ کی ، لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ انہیں دو سے تین کھلاڑی تبدیل کرنے اور ایک اضافی اسپنر کو شامل کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
بھارت کے میچ سے قبل پی سی بی حکام نے سلیکٹرز اور کپتان کو کہا کہ امام الحق کی جگہ عثمان خان کو اوپنر کی حیثیت سے کھلایا جائے کیوں کہ عثمان خان نے زیادہ تر کرکٹ امارات میں کھیلی ہے۔ اس بار بھی محمد رضوان اور سلیکٹرز نے سخت مؤقف کے ساتھ رائے تبدیل نہیں کی ۔ پی سی بی چیئرمین پیر کی شب دبئی سے اسلام آباد پہنچے ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی سے دبئی جاتے ہوئے چارٹرڈ فلائٹ میں چیئرمین نے ٹیم کی حوصلہ افزائی کی لیکن واپسی کے سفر میں جہاز میں خاموشی رہی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت چیئرمین کی تمام تر توجہ چیمپئنز ٹرافی پر ہے جس کے بعد پاکستانی ٹیم کو وائٹ بال سیریز کیلئے نیوزی لینڈ جانا ہے۔ پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ 16مارچ کوکرائسٹ چرچ میں ہوگا ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فوری اکھاڑ پچھاڑ ممکن نہیں ہے لیکن ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ سلیکشن کمیٹی اور دیگر اہم عہدوں پر تبدیلی کا فیصلہ نیوزی لینڈ کے دورے کے بعد ہوگا۔ہیڈ کوچ عاقب جاوید قومی اکیڈمی میں ڈائریکٹر کے عہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ موجودہ ڈائریکٹر اکیڈمی ندیم خان اگلے ماہ ایک پی ایس ایل فرنچائز کو جوائن کرلیں گے۔
آسٹریا نے یکم مارچ سے ملک بھر میں پہلے روزہ کا اعلان کردیا
.ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیمپئنز ٹرافی ذرائع کا کے بعد
پڑھیں:
پاک بھارت ٹاکرے میں محمد شامی نے بدترین ریکارڈ اپنے نام کرلیا
کراچی:چیمپئنز ٹرافی میں روایتی حریفوں بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ میں بھارتی فاسٹ بولر محمد شامی نے ایک ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
پہلے ہی اوور میں 5 وائیڈ گیندیں پھینک کر شامی کو اپنا پہلا اوور مکمل کرنے میں 11 گیندیں لگیں، جس کے ساتھ ہی انہوں نے چیمپئنز ٹرافی میں کسی بھارتی بولر کے سب سے طویل اوور کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
اس سے قبل 2017 کے چیمپئنز ٹرافی فائنل میں جسپریت بمراہ نے پاکستان کے خلاف 9 گیندوں کا اوور کرایا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ میں بھارت کو 180 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
چیمپئنز ٹرافی کے کسی بھی میچ کے پہلے اوور میں سب سے زیادہ وائیڈ گیندیں کرانے کا ریکارڈ بھی اب شامی کے نام ہو چکا ہے تاہم اس ٹورنامنٹ میں ایک اوور میں سب سے زیادہ وائیڈ گیندیں (7) کروانے کا ریکارڈ زمبابوے کے تیناشے پنیانگارا کے پاس ہے۔
محمد شامی اپنی بھرپور فارم میں نظر نہیں آئے اور تیسرے اوور کے دوران ٹیم کے فزیو کو ان کی دیکھ بھال کے لیے میدان میں آنا پڑا، جس کے بعد وہ مختصر وقت کے لیے گراؤنڈ سے باہر چلے گئے لیکن بعد میں دوبارہ میدان میں واپس آئے۔
بھارت کے مرکزی فاسٹ بولرز محمد شامی اور ہرشت رانا اپنی ابتدائی اسپیل میں کوئی وکٹ لینے میں ناکام رہے۔ تاہم ہاردک پانڈیا نے بابر اعظم کو آؤٹ کر کے بھارت کو پہلی کامیابی دلائی۔
چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے پہلے میچ میں محمد شامی نے بنگلہ دیش کے خلاف شاندار بولنگ کرتے ہوئے 53 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔