حماس نے کہا ہے کہ مصر کی ثالثی میں ایک ایسا معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے بعد ان 620 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل رہا کرے گا جن کی رہائی میں تاخیر کی گئی تھی۔

حماس کے مطابق اسرائیل کے ساتھ یہ مذاکرات مصر کے شہر قاہرہ میں ہوئے جہاں یہ طے پایا کہ حماس 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرے گی جس کے بدلے میں اسرائیل 6 سو سے زائد فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے: حماس نے ہفتے کو یرغمالی رہا نہ کیے تو غزہ پر شدید حملے شروع ہوجائیں گے، اسرائیل

واضح رہے کہ ان فلسطینی قیدیوں کی رہائی اسرائیل نے حماس پر یرغمالیوں کی رہائی کے وقت ’پبلک شو‘ کرنے کے الزام کے میں روک دی تھی جس کے بعد دونوں فریقین میں جاری جنگ بندی معاہدہ کشیدگی کا شکار ہوا تھا۔

حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ اس بحران کے بعد جنگ بندی ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے تھے جن کا اس معاہدے کے ذریعے سدباب کیا گیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنوری میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے 29 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

deal Hamas hostages Israel prisoners.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بعد

پڑھیں:

اسرائیل کا 42 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر غور، غزہ اور جنین میں کشیدگی برقرار

یروشلم: اسرائیل غزہ میں 42 دن کی جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے تاکہ باقی 63 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے، جبکہ غزہ کے مستقبل پر فیصلہ مؤخر کرنے کا امکان ہے۔

جنگ بندی کا معاہدہ 19 جنوری سے جاری ہے، جو ہفتے کے روز ختم ہو رہا ہے، لیکن فریقین کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکے۔

اسرائیلی نائب وزیر خارجہ شارین ہاسکل کا کہنا ہے کہ اگر جمعہ تک کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو یا تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے یا موجودہ سیز فائر برقرار رہے گا، لیکن قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوگا اور اسرائیل غزہ میں امداد روک سکتا ہے۔

اب تک 29 اسرائیلی قیدی اور 5 تھائی باشندے رہا کیے جا چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں فلسطینی قیدی بھی رہا کیے گئے۔ اسرائیل نے مزید 600 فلسطینی قیدیوں کی رہائی مؤخر کر دی ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

اسرائیلی بلڈوزر نے جنین کے پناہ گزین کیمپ کا بڑا حصہ منہدم کر دیا، جس سے 40 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوجی وہاں طویل قیام کی تیاری کر رہے ہیں اور فوجی سازوسامان اور پانی کے ٹینک نصب کر دیے گئے ہیں۔

جنین کی بلدیہ کے ترجمان کے مطابق، یہ وہی حکمت عملی ہے جو غزہ کے جبالیہ کیمپ میں اپنائی گئی تھی۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنین کیمپ کے رہائشیوں کی واپسی پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل 620 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر آمادہ، جنگ بندی معاہدے میں اہم پیشرفت
  • چاراسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کے بدلے 620 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پاگیا، حماس
  • اسرائیل کا 42 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر غور، غزہ اور جنین میں کشیدگی برقرار
  • حماس کا اسرائیلی وزیر اعظم پر غزہ جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کا الزام
  • حماس کی غزہ پر حکمرانی کا خاتمہ کریں گے، نیتن یاہو
  • اسرائیل غزہ میں لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے ہر لمحے تیار ہے‘ جنگ کے مقاصد ہر صورت پورے کیے جائیں گے .نیتن یاہو
  • حماس نے قیدیوں کی رہائی تک اسرائیل کیساتھ مزید مذاکرات سے انکار کر دیا
  • فلسطینیوں کی رہائی تک اسرائیل سے مذاکرات نہیں، حماس کا دو ٹوک اعلان
  • فلسطینی قیدیوں کی رہائی تک اسرائیل سے مذاکرات نہیں، حماس کا دوٹوک اعلان