پشاور:

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سی ایم ہاوس کے سامنے بلدیاتی نمائندوں کے حق کے لیے احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا۔

گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پہلے امن و امان پر کانفرنس کا انعقاد کیا تھا، بلدیاتی نمائندے جہاں پر بھی کہیں گے میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں گا، تین سالوں میں بلدیاتی نمائندوں کا کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آج بلدیاتی نمائندوں کا کنونش بلایا تو وزیر اعلیٰ بھی جاگ گئے، وزیر اعلیٰ سے پوچھ لیں انھیں کیا چاہیے، وفاق سے پیسے میں لے کر آؤں گا۔ این ایف سی سیکیورٹی فورسز کے پیسے آئے لیکن کہیں اور خرچ ہوئے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ اگر بلدیاتی نمائندوں کے مطالبات پورے نہیں ہوتے تو ہم عید کے بعد آپ کے ساتھ مل کر سی ایم ہاوس کے باہر بیٹھیں گے اور تب تک نہیں اٹھیں گے جب تک مطالبات منظور نہیں ہوتے۔

کنونشن میں تمام تحصیل چیئرمینز نے فرداً فرداً خطاب بھی کیا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان بلدیاتی نمائندوں

پڑھیں:

دھرنے کا خرچہ کہاں سے آیا، دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں دوبارہ بسایا گیا، عطا تارڑ

لاہور:

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دھرنے کا خرچہ کہاں سے آتا رہا کیونکہ کوئی ایک ہفتے کا دھرنے کا خرچہ نہیں اٹھا سکتا، خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو دوبارہ بسایا گیا۔

لاہور میں یوتھ کانفرنس میں سوال و جواب کی نشست پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اس ملک میں دہشت گردی کا ناسور اب بھی موجود ہے، دہشت گرد گوریلا وار کسی اخلاقیات کی پابندی نہیں کرتا، جب دہشت گردی کی کوئی اخلاقی حدود نہ ہو تو پھر سانحہ اے پی ایس ہوتا ہے اور دہشت گرد بلوچستان میں بھی دہشت گردی کر رہے ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ای پی ایس میں کسی کو شک نہیں اس کے دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا ہے، ہمیں اب گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کا چیلنج ہے۔ دہشت گرد کا کوئی دوست نہیں، ان کا تو کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ان کو کے پی میں دوبارہ بسایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور و کراچی جیسے شہر میں دھماکے بند ہوئے 2013-17ء میں دہشت گردی کو ن لیگ نے بند کر دیا، دہشت گردی کیسے واپس آئی؟ جنوبی کے پی کے ساتھ پنجاب میں دہشت گردوں کی واپسی ہوئی، دہشت گرد کسی کے دوست نہیں بلکہ لوٹ مار اور بھتہ لینے والے ہیں، ٹی ٹی پی تو پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اے پی ایس حملہ پر نظریہ بنایا گیا، ٹی ٹی پی نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کیں اور ملک میں بدامنی پھیلائی، اللہ کے ہاتھ میں زندگی ہے، دہشت گرد برے لوگ ہیں اب انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینکیں گے، دہشت گردوں نے تو چھوٹے بچوں کو شہید کیا تو وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مجھے اور میری لیڈر کو برا بھلا کہہ دیں لیکن عوامی منصوبوں کو برا نہ کہیں، مرسڈیز والے بابوؤں کو جنگلا بس قبول نہیں جو ایک نرس ڈاکٹر انجینیئر کو بٹھا کر لے جاتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان کا قیام کیوں ضروری تھا؟ اس ملک کی بنیادوں میں لاکھوں لوگوں کا خون شامل ہے، آزاد وطن کے لیے لاکھوں افراد نے بہت مصائب برداشت کیے، دو قومی نظریہ ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پار اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اس لیے دو قومی نظریے کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ غزہ، فلسطین اور کشمیر میں مظالم کا نام لیں تو سوشل میڈیا پر سناٹا چھا جاتا ہے۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ اے آئی اور نئی ٹیکنالوجی کے تحت ان مظالم پر کی جانے والی پوسٹس پر لائیکس کم ہو جاتے ہیں، ہم جو کچھ بھی ہیں پاکستان کی وجہ سے ہیں اور پاکستان ہے تو سیاست ہے، تحریک پاکستان میں نوجوانون کا ہم کردار تھا، ملکی ترقی میں نوجوان اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کسی جگہ بغیر فیس وصول کیے لیپ ٹاپ نہیں دیے جاتے، پاکستان میں پہلی مرتبہ نوجوانوں کو میرٹ پر لیپ ٹاپ دیے گئے۔ کووڈ کے اندر ورک فرام ہوم یا آن لائن کلاسز کی وجہ سے ہماری معیشت نہیں بیٹھی کیونکہ ہمارے بچوں کے پاس لاکھوں لیپ ٹاپ موجود تھے، اربوں روپے انڈونمنٹ فنڈ طلبہ کو باہر بھیجنے کے لیے خرچ کیا گیا۔ سیاسی نعرہ لگانے والوں سے پوچھتا ہوں کتنے سسٹم بنائے جو پی کے ایل آئی بنایا یا لیپ ٹاپ اسکیم بنائی۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ دانش اسکول کے ساتھ کیا مسئلہ تھا، جنوبی پنجاب کے علاقوں سے یتیموں اور غریبوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی گئی، دانش اسکولوں کے باعث کہاں سے کہاں پہنچ گئے وگرنہ لڑکیاں برتن دھوتیں اور کوئی چھوٹا موٹا کام کر رہا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے 12 سال میں کے پی میں کڈنی لیول انسٹی ٹیوٹ جیسا کوئی ادارہ نہیں بنایا گیا، پہلے مریض بھارت علاج کے لیے جاتے رہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے وژن کی تشکیل قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے، جب 90ءکی دہائی میں لاہور اسلام آباد موٹر وے بنی تو اس کی شدید مخالفت کی گئی لیکن پاکستان میں موٹروے کی بنیاد انفرا اسٹرکچر کی ترقی کی جانب اہم پیشرفت تھی، آج اسی موٹر وے کے ذریعے لوگ بآسانی سفری سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ موٹروے کی تعمیر کے وقت بہت شور شرابا کیا گیا اور لیپ ٹاپ تقسیم کیے تو اس پروگرام پر بھی مخالفت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  •  فیصل کنڈی کا عید کے بعد بلدیاتی نمائندوں کے حق میں دھرنے کا اعلان
  • حافظ نعیم کا لانگ مارچ کا اعلان، گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤسز کا گھیراؤ کیا جائے گا
  • پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا 25 فروری کو احتجاج کا اعلان
  • حافظ نعیم الرحمان کا بڑی احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان
  • گنڈاپور کو اصلاح کیلیے ایک ماہ کی مہلت، پھر ہم بتائیں گے دھرنا کسے کہتے ہیں، گورنر
  • حافظ نعیم الرحمٰن کا رمضان المبارک کے بعد احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان
  • شہریوں کو عالمی معیار کی سفری سہولیات فراہمی کیلیے پنجاب حکومت کا بڑا اعلان
  • صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہےکہ اس صوبےکو تباہ کرنا ہے؛ گورنر خیبر پختونخوا
  • دھرنے کا خرچہ کہاں سے آیا، دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں دوبارہ بسایا گیا، عطا تارڑ